کرائمیا کے معاملے پر جاپان كا روس پر پابندياں عائد كرنے كا اعلان

كرائميا ميں ہونے والے ريفرنڈم كو تسليم نہيں كرتے اور نہ ہی اس كے يوكرین سے عليحدگی كے حق ميں ہیں، جاپانی وزیر خارجہ


APP March 18, 2014
روس كے ساتھ سرمايہ كاری، خلائی تحقيق اور فوجی شعبے میں تعاون پر پابندياں عائد كردي ہيں، جاپانی وزیر خارجہ فوٹو: فائل

جاپان نے كرائميا كی آزادی كو تسليم كرنے پر روس پر پابندياں عائد كرنے كا اعلان كيا ہے۔

جاپان كے وزير خارجہ فوميو كيشيڈا كے مطابق جاپان كرائميا ميں ہونے والے ريفرنڈم اور اس كے نتائج كو تسليم نہيں كرتا اور نہ ہی كرائميا كے يوكرین سے عليحدگی كے حق ميں ہے، روس طاقت كے زور پر اپنے مفادات كے حصول كی پاليسی پر گامزن ہے جو ان كے لئے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بتايا كہ جاپان نے روس كے ساتھ ويزا پابندياں نرم كرنے كے لئے جاری مذاكرات روک ديئے ہيں اور روس كے ساتھ سرمايہ كاری، خلائی تحقيق اور فوجی شعبے میں تعاون پر پابندياں عائد كرديں ہيں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد روس اور جاپان كے درميان نئی تجارتی راہدارياں كھولنے اور توانائی سے متعلق جاری مذاكراتی عمل بھی روک ديا گيا ہے۔

واضح رہے کہ کرائمیا کو آزاد ریاست تسلیم کئے جانے پر روس کو مختلف ممالک کی جانب سے تنقید اور پابندیوں کا سامنا ہے اور اور اس سے قبل امریکا اور یورپی یونین نے بھی روس اور یوکرین کے متعدد حکومتی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔