لیاری اور دلگداز تزویری اثاثہ
عسکری مقتدرہ شاید اپنی پرانی ڈاکٹرائن کو تبدیل کرنے پر آمادہ ہوگئی ہیں اور اب یہ گروہ تزویری اثاثہ نہیں رہے
NORTH WAZIRISTAN:
11 مارچ کی صبح لیاری میں عورتوں نے گھریلو سامان کی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کیا، بچے اسکول گئے، مرد روزگار پر روانہ ہوئے، اچانک جھٹ پٹ مارکیٹ پر گینگ وار میں ملوث ایک گروہ کے مسلح کارندوں نے دھاوا بول دیا، اس فائرنگ کا نشانہ بچے، عورتیں اور راہگیر بنے، اس فائرنگ کی زد میں خاتون اور اسکول جانے والے والے بچوں سمیت 16 افرادآگئے، فائرنگ سے ہر طرف بھگڈر مچ گئی، ایمبولینس فائرنگ کے بعد لاشوں اور زخمیوں اسپتال پہنچانے لگیں اور حملہ آور اپنا ہدف کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد اپنی کمین گاہوں میں روپوش ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ رینجرز نے ایک رات قبل گینگ وار کے اہم فرد کے بھائی کو کامیاب آپریشن میں ہلاک کیا تھا، یوں رینجرز حکام اور پولیس اس کامیاب آپریشن کے نتائج کے بارے میں بھول گئے۔ گزشتہ 13سال پہلے لیاری وزیرستان جیسا پس منظر پیش کرتا رہا۔ وزیراعظم نواز شریف نے صورتحال کا نوٹس لیا، کراچی آئے اور اعلیٰ سطح اجلاس میں آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کی، رینجرز کے افسر نے صوبائی حکومت پر گینگ وار میں ملو ث ایک گروہ کی سرپرستی کا الزام عائد کیا، پیپلزپارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے لیاری کے سابق رکن قومی اسمبلی اور ایم کیو ایم کے موجودہ رکن قومی اسمبلی نبیل گبول پر ایک گروہ کی سرپرستی کا الزام عائد کیا، یوں ٹاک شوز پر ایک دن نئے موضوع، خبروں اور کالموں کی اشاعت سے معاملہ ٹھہر گیا مگر لیاری خون میں روز نہا رہا ہے۔
لیاری کی یہ صورتحال نئی نہیں ہے، لیاری کے مکین کہتے ہیں کہ یوں تو گینگ وار کا یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے مگر گزشتہ برسوں میں جب بھی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوتا تھا تو مساجد سے اعلان کرادیا جاتا تھا،اسکول بند ہوجاتے تھے، عام آدمی کسی حد تک اپنے گھروں میں داخل ہوکر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا تھا۔ کچھ عرصے قبل لیاری کے علاقے تقسیم ہوگئے، پہلی تقسیم کچھی اور بلوچ علاقوں کے درمیان ہوئی، اس تقسیم کی بنا پر ایک براد ری کا فرد دوسری برادری کے علاقے میں آتا جاتا تھا تو اس کی زندگی داؤ پر لگ جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ سال کچھی برادری کے بہت سے خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر اندرون سندھ منتقل ہوگئے تھے۔ میڈیا میں مسئلہ موضوع بحث بنا تھا، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی بعض یقین دہانی اور اندرون سندھ کے خراب حالات، روزگار اور بچوں کی تعلیم کے لیے یہ خاندان واپس اپنے گھروں میں آئے تھے۔ کچھ کراچی کے دوسرے علاقوں میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہنے لگے تھے۔ ارشد پپوکی ہلاکت کے بعد گینگ وار ایک نئے دور میں داخل ہوئی، اب بابا لاڈلہ اور عزیر بلوچ کے درمیان جنگ ہونے لگی، اس جنگ میں لیاری کے علاقے پھر تقسیم ہوگئے۔ گینگ وار میں ملوث دونوں گروہ لیاری کے شناختی کارڈ دیکھ کر ان کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے لگے۔ کوئی غریب آدمی لیاری کے دوسرے محلے میں چلا گیا تو اس کی جان مشکل میں پڑجاتی۔ روزانہ رات ہوتے ہی لیاری میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
لیاری کے لوگ گزشتہ کئی برسوں سے اپنے کام کاج چھوڑ کر اپنے گھروں میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنی زندگی کو داؤ پر لگاتے ہیں، ان ملزموں کے درمیان دشمنی صرف لیاری تک محدود نہیں رہی بلکہ جنوبی کراچی، مغربی کراچی کے علاقوں کے ساتھ بلوچستان کے علاقے حب تک پھیل گئی ہے۔ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں گزشتہ ہفتے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کا قتل اس ہی لڑائی کا نتیجہ تھا۔ لیاری میں پولیس اور رینجرز کے آپریش کی بھی عجیب کہانی ہے، کہا جاتا ہے کہ پولیس نے ملزموں کے گروہ بنانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ چھوٹے چھوٹے جرم کرنے والے پولیس کی سرپرستی میں بڑے ڈان بن گئے، پولیس نے برسوں ان گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔
لیاری کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی اسٹبلشمنٹ نے پولیس کو کبھی بھی ان گروہوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی پھر پیپلزپارٹی نے ان گروہوں سے دوستی کرلی۔ جب بے نظیر بھٹو شہید 2007 میں کراچی آئیں تو ان کے حفاظتی دستے کے سینئر افراد لیاری گینگ وار کے سرغنہ رحمن ڈکیت گروپ سے منسلک تھے، نبیل گبول نے اس گروہ کی مدد سے 2008 کے انتخاب میں حصہ لیا، پیپلزپارٹی کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کالعدم امن کمیٹی کی سرپرستی کا اعلان کیا، مگر جب بااختیار اتھارٹی کے فیصلے کے تحت رحمن ڈکیت چوہدری اسلم کی زیر نگرانی پولیس مقابلے میں جاں بحق ہوا تو لیاری میں پیپلزپارٹی کے خلاف فضا پیدا ہونے لگی۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئر پرسن اس فضا کی بو محسوس نہ کرسکے اس دوران گینگسڑز نے لیاری میں اپنی جڑیں گہری کرلیں۔ ایم کیو ایم سے تصادم کی بنا پر ان لوگوں کو پذیرائی ملی، جب صدر زرداری کو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا تو چوہدری اسلم کی قیادت میں لیاری میں آپریشن ہوا۔ یہ ایک غیر منظم آپریشن تھا، رینجرز نے اس آپریشن میں حصہ نہیں لیا۔ پیپلزپارٹی نے 2013 کے انتخابات میں کالعدم امن کمیٹی کی اطاعت کو قبول کیا۔ رینجرز نے میاں نواز شریف کی حکومت کے قیام کے بعد لیاری میں پہلی دفعہ عملی آپریش شروع کیا مگر رینجرز اور پولیس ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار نہیں کرسکے۔
لیاری کی آبادی 15 لاکھ سے زاید افراد پر مشتمل ہے۔ لیاری کے اطراف کیماڑی کی بندرگاہ، دوسری طرف کھارادر، جوڑیا بازار سمیت صرافہ اور تھوک مال اور الیکٹرانک اسمگلنگ شدہ سامان کی مارکیٹیں ہیں۔ ان مارکیٹوں کے ساتھ سٹی کورٹ کے دفاتر اور ٹمبر مارکیٹ، اس کے ساتھ رنچھوڑ لائن کے نچلے درمیانے طبقے کے لوگ آباد ہیں۔ سندھ انڈسٹریل زون سائٹ میں قائم صنعتی مراکز ہے۔ یہ سب گنجان آباد علاقے ہیں۔ لیاری تقریباً 16 اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل ہے مگر رینجرز اور پولیس لیاری میں اسلحہ و بارود کی سپلائی لائن کو نہیں کاٹ سکے ہیں۔ گینگ وار میں جدید اسلحہ، راکٹ، دستی بم، کلاشنکوف، رائفلیں مسلسل استعمال ہوتی ہیں۔ یہ اسلحہ رینجرز کے آپریشن کے باوجود ان لوگوں کو مل رہا ہے۔ بعض صحافی کہتے ہیں کہ گینگ وار میں ملوث مختلف گروپ پیپلزپارٹی کے دور میں شہر میں اغوا برائے تاوان، بھتے کی وارداتوں میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح اب بھی جاری ہے، یوں پیسے کی فراوانی ہے۔ وزیراعظم کی زیر قیادت ہونے والے اجلاس میں رینجرز کے سربراہ نے پیپلزپارٹی کی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ ایک گروہ کی سرپرستی کررہی ہے۔ اگرچہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان نے روایتی بیان میں اس الزام کی تردید کی مگر اس صورتحال میں یہ بیان انتہائی اہم ہے۔
اس بیان سے یہ امکانات پیدا ہوتے ہیں کہ عسکری مقتدرہ شاید اپنی پرانی ڈاکٹرائن کو تبدیل کرنے پر آمادہ ہوگئی ہیں اور اب یہ گروہ تزویری اثاثہ نہیں رہے۔سندھ کے قوم پرست رہنما ایاز پلیجو کی قیادت میں گینگسٹرز کے درمیان فائر بندی کا فیصلہ کچھ نئے حقائق ظاہر کررہا ہے، شاید عسکری مقتدرہ یہ اثاثہ ختم کرنا نہیں چاہتی۔ اس فیصلے سے قانون کی پامالی ہوتی ہے اور سیاستدانوں کا تشخص خراب ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لیاری کو وزیرستان بنانے کا فیصلہ ہوا ہے، اب ساری ذمے داری پیپلزپارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ آصف زرداری سب سے پہلے کراچی کی قیادت کو اس بات کا احساس دلائیں کہ ماضی میں گینگ وار کی سرپرستی سے لیاری کو تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی اچھی طرز حکومت اور ایک لڑائی کے بعد لیاری میں امن قائم کرسکتی ہے، یہ ایک مشکل اور جان لیوا عمل ہے۔ پیپلزپارٹی کو گینگسٹرز کی مخالفت میں اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کی قربانیاں دینا ہوں گی، یوں وہ لیاری کے عوام کا قرض اتار سکتی ہے۔ 10 سال سے زائد جاری اس گینگ وار نے لیاری کے عوام کو تباہ کردیا ہے۔ہزاروں بیگناہ ہلاک ہوئے جن کی پی پی کی حکومت نے کوئی مالی امداد نہیں کی ۔ پیپلزپارٹی اگر امن نہیں دے گی تو عوام مایوس ہوں گے۔ پیپلزپارٹی لیاری مین امن قائم نہ کرسکی تو پھر یہ کام کوئی ''اور'' کرے گا،اور پیپلزپارٹی کہیں کی نہیں رہے گی۔