مذاکرات کامیاب جبکہ فوجی آپریشن سے نقصان ہوگا سمیع الحق کسی بھی جگہ مذاکرات کیلیے تیار ہیں رستم مہمند

کچھ در پردہ ہاتھ امن عمل کو سبوتاژ کر رہے ہیں،پروفیسر ابراہیم، قوم مطمئن رہےجلد ہی اچھی خوشخبری سنائیں گے،مولانا یوسف


کچھ در پردہ ہاتھ امن عمل کو سبوتاژ کر رہے ہیں،پروفیسر ابراہیم، قوم مطمئن رہےجلد ہی اچھی خوشخبری سنائیں گے،مولانا یوسف ۔فوٹو:فائل

طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سرابرہ مولاناسمیع الحق نے کہاہے کہ حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں گے،فوجی آپریشن سے دونوں فریقوں کونقصان ہو گاجبکہ پروفیسرابراہیم خان نے کہاہے کہ قوم مطمئن رہے جلدہی اچھی خوشخبری سنائیں گے۔

میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہاکہ صحافی بھی وزیردفاع خواجہ آصف بننے کی کوششیں کررہے ہیں انھیں ایسانہیں کرنا چاہیے اور مذاکرات کی کامیابی کی دعا کرنی چاہیے،کچھ قوتیں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتی ہیں لیکن ہم ایسانہیں ہونے دیں گے،غیر ملکیوں کے آلہ کار بھی موجودہیں،دونوں فریقین کے مابین جلد مذاکرات کی جگہ کاتعین ہو جائے گا جس کیلیے کوششیں کی جا رہی ہیں، وزیراعظم نواز شریف طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اوروہ چاہتے ہیں کہ معاملہ بات چیت کے ذریعے حل ہو اورکوئی نقصان نہ ہو۔آئی این پی کے مطابق مولانا سمیع الحق نے کہاکہ حکومت نے اب تک طالبان کے مطالبات کوباضابطہ طور پر مسترد نہیں کیابلکہ بات چیت کاعمل مختلف سطح پر جاری ہے،فری امن زون کے قیام کیلیے بھی حکومت سے بات چیت چل رہی ہے،ہر کوئی وزیردفاع خواجہ آصف بننے کی کوشش نہ کرے،بھانت بھانت کی بولیوں سے مذاکراتی عمل کونقصان ہوگا۔

خواجہ آصف سے بھی اپیل کرتاہوں کہ وہ خودبولنے کے بجائے معاملات مذاکراتی کمیٹیوں پر چھوڑ دیں،حکومت کی ترجمانی کیلیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی موجودہے،سعودی حکمران بھی پاکستان میں قیام امن کیلیے طالبان سے بات چیت کی کامیابی کیلیے دعا گو ہیں،حکومتی اورطالبان کمیٹیوں کے درمیان ایک دو روزمیں ملاقات ہوگی،حکومت نے طالبان کے پاس قیدیوں کی کوئی فہرست نہیں دی،ضرور طالبان کے پاس بھی قیدی ہوں گے اس لیے قیدیوں کی رہائی دوطرفہ ہونی چاہیے۔

دریں اثنااے پی پی کے مطابق طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے کہاکہ طالبان اور حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کیلیے جگہ کا تعین کیا جا رہاہے،دونوں اطراف کیلیے قابل قبول جگہ کے انتخاب کیلیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،کچھ درپردہ ہاتھ امن عمل کوسبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،طالبان اور حکومت کواخلاص اوربالغ نظری کا مظاہرہ کرناہوگا۔آن لائن کے مطابق کمیٹی کے رکن مولانایوسف شاہ نے کہاکہ طالبان کمیٹی حکومت اورطالبان کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے لیکن تاحال براہ راست مذاکرات کے لیے دونوں فریقین کے درمیان جگہ تعین نہیں ہو سکا۔دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند کا کہناہے کہ طالبان سے کسی بھی جگہ مذاکرات پرکوئی اعتراض نہیں لدھاہو یا مکین ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں