دہری شہریت والوں کے الیکشن لڑنے پر پابندی ختم مردم شماری کرائی جائے قائمہ کمیٹی

کمیٹی نے انتخابات میں الیکشن کمیشن کاعملہ تعینات کرنے کی بھی سفارش کردی


Numainda Express March 19, 2014
گندم شفاف طریقہ سے ذخیرہ کرنیکی ہدایت،غیر حاضرافسروں کومعطل کیاجائے،سینیٹ کمیٹی،فاٹامیں سالانہ ایک ارب تعلیم پرخرچ ہوجاتے توآج دہشتگردی خاتمے کیلیے کھربوں نہ خرچ کرناپڑتے، عبدالنبی بنگش فوٹو: فائل

FAISALABAD: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے الیکشن کمیشن کو2013ء کے عام انتخابات کے تجربات کی روشنی میں انتخابی قوانین میں ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ عدالتی عملہ کوآنے والے انتخابات میں بطورڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اورریٹرننگ افسران تعینات کرنے سے گریز کیا جائے،کمیٹی کااجلاس چیئرمین میاں عبدالمنان کی سربراہی میں ہوا،ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے2012 تک کے انتخابی قوانین میں مزید ترامیم کے حوالے سے کام مکمل کر لیاہے،کمیٹی نے کہا کہ دہری شہریت کے حامل ووٹروں کو ووٹ کاحق ملناچاہیے اور انھیں انتخابی عمل میں شرکت کی بھی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ ان پاکستانی تارکین وطن کاترسیلات زر پاکستان بھجوانے کے حوالے سے کلیدی کردار ہے،کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقادسے قبل مردم شماری کرائی جائے۔ آن لائن کے مطابق کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے فی الفورمردم شماری کرانے کی سفارش کرتے ہوئے کہاہے کہ ووٹوں کی گنتی کے طریقہ سہل بنایاجائے،انتخابات کے دوران جوڈیشری کے بجائے الیکشن کمیشن کاعملہ تعینات کیاجائے،عام انتخابات میں آراوزکارویہ امیدواروں کیساتھ ہتک آمیزتھا،دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کے انتخابات لڑنے پرکمیٹی تقسیم ہوگئی،ن لیگ حامی اورتحریک انصاف نے مخالفت کردی ۔

چیئرمین عبدالمنان نے کہاکہ اگربیرون ملک مقیم پاکستانی زرمبادلہ بھیجنا چھوڑ دیں تو ملکی معیشت بیٹھ جائے گی،الیکشن کمیشن نے مطالبہ کیاہے کہ بیلٹ پیپرزکی چھپائی ترسیل اورامیدواروں کی اسکروٹنی کادورانیہ بڑھایاجائے،انتخابات کے دوران لاؤڈاسپیکرکی پابندی ختم اورووٹرلسٹوں کوویب سائٹ پراب لوڈکیاجاناچاہیے، چیئرمین نے کہاکہ دہری شہریت کے حامل افرادسالانہ ملک کوکثیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں ان کے الیکشن لڑنے پرپابندی فی الفورختم کی جائے،اگربیرون ملک مقیم پاکستانی زرمبادلہ نہ بھیجیں توملکی معیشت بیٹھ جائے گی،انھوں نے کہاکہ جعلی ڈگری کیس والے دندناتے پھررہے ہیں،حیرت ہے کہ وہ دوبارہ کامیاب ہوکراسمبلی پہنچ گئے ہیں مگر الیکشن کمیشن ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھاہے،ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایاکہ انتخابات کے دوران انتخابی فہرستیں ویب سائیٹ پرآویزاں نہیں کرسکتے کیونکہ اس میں خواتین کی تصاویر اورشناختی کارڈدرج ہوتے ہیں،الیکشن کمیشن اسٹرٹیجک پلان تشکیل دے رہاہے تاکہ تمام اضلاع میں اپنی بلڈنگ اوراسٹاف ہو،ڈرافٹ یونیفائیڈ الیکشن لا 2012ء کمیٹی کے حوالے کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ کمیٹی اس قانون کی روشنی میں قانون سازی کرے۔

پولنگ ایجنٹ کی آگاہی کے لیے الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی مشاورت پروگرام مرتب کررہاہے جس کے لیے سیاسی جماعتوں کی منظوری کے بعدلوگوں میں آگاہی مہم چلائی جائے گی،آئین کے مطابق جب تک مردم شماری نہ ہوحلقہ بندیاں نہیں کرسکتے جس پرکمیٹی نے کہا کہ ملک میں فوری مردم شماری کرائی جائے،ایڈیشنل سیکریٹری نے کہاکہ جب 3 کروڑووٹرزتھے تب بھی بیلٹ پیپرزکی چھپائی اوراس کی ترسیل کے لیے 21 دن تھے اوراب آبادی بڑھ چکی ہے اورووٹرز18 سے 20 کروڑہیں اس لیے دن بڑھائے جائیں،امیدواروں کی اسکروٹنی کے لیے ایک ماہ کاوقت دیاجائے۔قبل ازیں جب چیئرمین نے کہا کہ دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کوالیکشن لڑنے کا اختیار ہونا چاہیے توتحریک انصاف کی رکن نفیسہ عنایت خٹک نے کہاکہ دہری شہریت کے حامل افراد کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیںہونی چاہیے۔ادھرقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈسیکیورٹی وریسرچ کے اجلاس کی صدارت چیئرمین ملک شاکربشیراعوان نے کی،کمیٹی ارکان نے پاکستان ایگریکلچر اسٹور ایج و سروسز کارپوریشن کے حکام کو موجودہ سیزن کے دوران گندم کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک صاف شفاف طریقہ کار اختیار کرنے اور چھوٹے کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں گندم کے بار دانے کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی ہدایت کی،وفاقی وزیرسکندربوسن نے کہا کہ گندم ذخیرہ کرنے کے شفاف طریقہ کارکو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔دریں اثناسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پورٹس اینڈ شپنگ کاکئی سال گزرجانے کے باوجود گوادر پورٹ کوآپریشنل نہ کر نے پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے پورٹ پر متعلقہ محکموں کی کارکردگی سست اورافسران کی کم حاضری پرانھیں آئندہ اجلاسوں میںطلب کر نے یانہ آنے کی صورت میںوارنٹ جاری کرنے کافیصلہ کیاہے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹرسردارفتح محمدحسنی نے کی،چیئرمین نے کہا کہ بیوروکریسی کی طرف سے مسلسل اجلاس میںنہ آنا پارلیمانی اداروں کی توہین ہے،اگر افسران سیدھے طریقے سے اجلاس میں نہیں آتے تو انہیں سمن جاری کئے جائیں اور اس کے باوجود بھی نہ آئیں تو ان کے خلاف وارنٹ جاری کر کے انھیں نوکریوں سے معطل کیا جائے۔علاوہ ازیںسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم اورقدرتی وسائل کااجلاس چیئرمین سینیٹرمحمد یوسف کی زیرصدارت ہوا،سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ تیل و گیس کمپنیوں میں مقامی بے روزگار نوجوان کو نظر انداز کیاجا رہاہے،حکومت نوجوانوںکیساتھ امتیازی سلوک روا رکھ کرنوجوانوں کوطالبان بننے پرمجبور کر رہی ہے،اگرگزشتہ حکومتیں فاٹا میں سالانہ ایک ارب تعلیمی و صحت کے اداروں پر خرچ کر لیتیں تو آج دہشتگردی کے خاتمے اورروٹھے نوجوانوںکومارنے کے لیے کھربوںروپے نہ خرچ کرنے پڑتے۔