حکمرانوں کی اپوزیشن

میں جب کبھی پرانے مسلمانوں کا ذکر کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ تو ایک خاص زمانے کے متقی لوگ تھے ہم کہاں


Abdul Qadir Hassan March 22, 2014
[email protected]

میرے ساتھ آپ بھی یاد کیجیے کہ پاکستان کی اس نصف صدی کی تاریخ میں کیا کوئی حکومت ایسی بھی آئی ہے جو اپوزیشن کے خرخشوں سے محفوظ ہو، اگرچہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ کوئی حکومت بالکل ہی بے فکر ہو اور عوامی مسائل سے بھی لاپروا لیکن کچھ بھی ہو یہ ایک واقعہ ہے کہ بدقسمتی سے ہماری موجودہ حکومت کی کوئی اپوزیشن نہیں۔ اگر کہیں کوئی نظر بھی آتی ہے تو بے جان سی۔ ملک کی ایک بڑی پارٹی جو اس وقت بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہے لیکن درحقیقت اس کے اندر جان دار صلاحیتیں موجود ہیں وہ ہے پیپلز پارٹی لیکن یہ پارٹی موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے تھوڑی بہت اپوزیشن کرتی ہے لیکن فوراً وضاحت کر دیتی ہے کہ وہ حکمران پارٹی کی تائید میں ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی تحریک انصاف بڑی نیاز مندی اور وضعداری سے جھک کر میاں صاحب کا اپنے گھر میں استقبال کر چکی ہے۔ علما کی ایک جماعت اس کی حلیف ہے وزارتیں لے چکی ہے مگر ابھی تک قلمدان نہیں ملے۔

وہ بھی کسی دن مل ہی جائیں گے۔ علما اور مشائخ کا کام ان ہی مخیر لوگوں کی داد و دہش سے چلتا ہے، دیر سویر ہو ہی جاتی ہے یہ سیاست اور زمانے کا دستور ہے اس پر کوئی فریق ناراض نہیں ہوتا۔ جمعیت علما کو بھی بالآخر وزارتیں مل ہی جائیں گی لیکن وہ جن مفید وزارتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اس میں کچھ رعائت دینی پڑے گی اور اندازہ ہے کہ یہ رعائت دی جا رہی ہے ورنہ صرف سیاسی وعدے پر اتنا انتظار کون کرتا ہے۔ بہر کیف سوائے بدامنی اور گرانی کے اس حکومت کی کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔ اب یہ حکومت کی ہمت اور حکمت عملی ہے کہ وہ اپنی بدانتظامی کی وجہ سے اپوزیشن پیدا نہ ہونے دے لیکن ایک جنگلی بلا اگر حکومت کو افراتفری میں مبتلا کر سکتا ہے اور وہ بھی اتنا کہ حکمران گھبرا کر ایک کی بجائے پانچ چھ بلوں کو ہلاک کر دیں تو اس میں حکومت کے میرے جیسے خیرخواہوں کا کیا قصور ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہتر ہو گا اگر قوم کو اس مور کے بارے میں بتا دیا جائے کہ وہ کس قدر نایاب اور گراں قیمت تھا تو مناسب ہو گا اور اتنے سارے بلوں کی ہلاکت کا جواز نکل سکے گا۔ اس طرح سرکاری مشینری کی کارکردگی بھی جائز قرار پائے گی۔ اگر آوارہ اور تیز و طرار جنگلی بلے قابو کیے جا سکتے ہیں تو ملک کے چور ڈاکو اور لٹیرے بھی پکڑے جا سکتے ہیں اور ان کو سزا بھی مل سکتی ہے۔

جرائم تو اس قدر بھیانک انداز اختیار کر چکے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون کی عصمت لوٹ لی جاتی ہے یعنی اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے اور وہ اس توہین کی تاب نہ لا کر پولیس وغیرہ کے پاس فریاد لے کر جاتی ہے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے اور اس کے 'قاتلوں' کی پذیرائی کی جاتی ہے، ایسے پولیس والوں کو تو یوم حساب پر خدا سزا دے گا اس جہان میں ان کو مظلوم خود سوزی کر کے سزا دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ سزا اخباروں کی ایک خبر بن کر ایک دن بعد مر جاتی ہے کیونکہ اسی طرح کی کئی دوسری تازہ خبریں اس کی جگہ لے لیتی ہیں۔ کل کے اخبار میں خبر چھپی ہے کہ ایک غریب اور نادار خاتون نے وزیراعلیٰ سے ملنے کی کوشش کی لیکن سیکیورٹی والوں نے اسے دفع کر دیا۔ غربت و افلاس کی ماری عابدہ پروین کسی طرح وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر پہنچ تو گئی لیکن وہ سیکیورٹی کی دیوار عبور نہ کر سکی۔

لاہور کے نواحی علاقے صدیق آباد کی عابدہ جب کسی طرح وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی قیام گاہ پر پہنچ تو گئی لیکن کئی گھنٹے وہ انتظار ہی کرتی رہی اور بالآخر اپنی مایوسی زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے خود کو آگ لگا لی اور اب وہ سخت خطرے میں اسپتال میں ہے۔ شکر ہے کہ وزیراعلیٰ نے اس حادثے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس کی طبی امداد کا حکم دیا ہے۔ اس خاتون کا شوہر بھی بے روز گار تھا چنانچہ چار بچوں کی ماں تنگ آ کر مدد کے لیے پہنچی مگر ملاقات نہ ہو سکی وزیراعلیٰ کا قافلہ اس کے سامنے سے تیزی کے ساتھ گزر گیا اور پھر عابدہ نے اپنے آپ کو آگ لگا لی۔ ایسی نہ جانے کتنی ہی غربت کی ماری عورتیں ہیں جن کے سامنے سے حکمرانوں کے قافلے تیزی کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور اپنے پیچھے جلتی ہوئی غربت چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی وہ غربت اور کسمپرسی ہے جو حکومت کی اصلی اپوزیشن ہے لیکن اس کا چونکہ کوئی لیڈر نہیں ہے اس لیے وہ خود سوزی کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتی جلسہ جلوس نہیں کر سکتی۔

ہمارے حکمران نہ تو حالات سے بے خبر ہیں اور نہ ہی ان کو اکسانے کی ضرورت ہے۔ یہی میاں شہباز شریف جب قید میں تھے تو ان کے پیغام موصول ہوا کرتے تھے کہ میں اپنے کالموں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زندگی کے واقعات سے ان کو آگاہ کرتا رہوں۔ غالباً وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ آزاد ہو کر جب کبھی وہ پھر اقتدار میں آئیں گے تو مسلمانوں کی تاریخ کے اس اولیں مجدد کی پیروی کریں گے۔ خدا ان کو ان کی خواہشات کا اجر تو دے گا لیکن ان کے اقتدار کے بارے میں بھی پوچھے گا۔ میاں صاحب کے پاس عمر بن عبدالعزیز سے زیادہ وسائل ہیں اور وہ اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ اگر تیز رفتار گاڑیوں میں سیکیورٹی کے جھرمٹ میں سفر کریں گے اور یوں عوام کو چڑاتے رہیں گے تو ان کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔

جگہ کی قلت ہے پھر بھی ایک واقعہ درج کرتا ہوں کہ عید کا تہوار آیا تو ان کی بیگم فاطمہ نے جو خود بھی شہزادی تھیں اور شادی بھی محبت کی تھی شوہر سے کہا کہ بچیوں کے پاس عید کے کپڑے نہیں ہیں، میرے پاس بھی کچھ نہیں آپ کوئی بندوبست کریں۔ وہ بیت المال کے افسر کے پاس گئے اور کہا کہ مجھے ایک ماہ کی تنخواہ ایڈوانس دے دی جائے۔ افسر نے اپنے مالک کی درخواست تو منظور کر لی لیکن صرف ایک بات کہی کہ آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ اگلے ماہ تک آپ زندہ رہیں گے۔ یہ سن کر امیر المومنین نے خاموشی کے ساتھ واپس گھر آ کر بیگم سے کہا کہ بچیوں کے کپڑے دھو لیں اور وہی پہنا دیں تنخواہ ایڈوانس میں نہیں ملی۔ یہ وہی شخص تھا جو اپنی شہزادگی کے وقت ہر روز نیا جوڑا پہنتا تھا کہ لباس لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے جب دیکھ لیا گیا تو وہ پرانا ہو گیا۔ شاہی خاندان کے اس فرد اور ایک گورنر پر جب ذمے داری پڑی تو اس کی بیٹیوں کو سال بعد عید پر بھی نیا جوڑا نہ ملا اور اس نے صبر کر لیا۔

میں جب کبھی پرانے مسلمانوں کا ذکر کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ تو ایک خاص زمانے کے متقی لوگ تھے ہم کہاں۔ جیسے ان پرانے لوگوں کے ہاتھ دو نہیں چار ہوا کرتے تھے اور جس شخصیت کا ذکر اوپر آیا ہے وہ تو بدترین شاہی حکومت اور سرمایہ داری کے دور سے تھا اور خود بھی اسی خاندان سے تھا لیکن اس کے صرف دو ہاتھوں نے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد میں بیٹھ کر ہاتھوں میں قینچی لی اور وہ تمام دستاویزات کو کتر دیا جو اس کے خاندان نے ہتھیائی تھیں دو دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اپنے خاندان کو ناجائز دولت سے محروم کر کے وہ ریاست کے دوسرے کاموں میں لگ گیا۔ ایک واقعہ یاد آ گیا ہے کہ دمشق کے قریب جنگل میں ایک چرواہے کی بکری بھیڑیا کھا گیا۔ اس نے جب بہت زیادہ چیخ و پکار کی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ بابا ہمارے ساتھ تو یہ اکثر ہوتا رہتا ہے آپ اس قدر غمزدہ کیوں ہیں۔ باپ نے کہا بیٹے مجھے بکری کا غم نہیں آج میرا حکمران اور میرا محافظ مر گیا ہے اس لیے میری بکری بھیڑیا کھا گیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس وقت عمر بن عبدالعزیز فوت ہوئے تھے۔

یہ سب واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں اور میاں صاحبان کے پاس اگر کوئی پڑھا لکھا آدمی ہے صرف چاپلوس ہی نہیں ہیں تو وہ اس سے کہیں کہ پرانے زمانوں کے ان صرف دو ہاتھوں والے حکمرانوں کے قصے ان کو سنائے جن کی حکمرانی آج تک ضرب المثل ہے۔ بات حکومت کی اپوزیشن کی ہو رہی تھی تو عرض ہے کہ اپوزیشن تو محروم اور انصاف کے طلب گار عوام ہیں، جلنے والی عورتیں ہیں اور بھوک سے مرنے والے صحرائوں کے بچے ہیں جو ریت کی طرح بے رحم ہوائوں میں اڑتے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کی اصل اپوزیشن خود ان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔

مقبول خبریں