انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں گزشتہ ہفتے 13 روپے کی کمی

اوپن مارکیٹ میں استحکام عارضی ہے،جولائی میں ڈالر کی تنزلی پھر شروع ہوگی، ملک بوستان


Business Reporter March 23, 2014
اوپن مارکیٹ میں استحکام عارضی ہے،جولائی میں ڈالر کی تنزلی پھر شروع ہوگی، ملک بوستان۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

انٹربینک مارکیٹ میںگزشتہ ہفتے روپے کی نسبت ڈالر کی قدر میں 1.30 روپے کی کمی ہوئی لیکن اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر100.40 روپے پر مستحکم رہا۔

واضح رہے کہ پاکستانی تاریخ میں 10 تا12 یوم کے مختصردورانیے میں ڈالر کی قدرمیں7 فیصد سے زائد ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی لیکن حکومت پر برآمدکنندگان کے دبائو کے سبب ڈالر کی تنزلی کا یہ رحجان 10 مارچ کو تبدیل ہوگیا کیونکہ حکومت نے ڈالر کی قدر کو 98 روپے سے نیچے نہ لانے کا غیراعلانیہ فیصلہ کیا جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے طلب گاروں میں80 تا90 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور یہی عوامل اوپن مارکیٹ میں ڈالر 100 روپے سے نیچے لانے میں رکاوٹ ہیں۔ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں استحکام عارضی ہے، جولائی کے آغاز کے ساتھ ہی ڈالر کی تنزلی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائیگا جس کے بعد طے شدہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت پہلے مرحلے میں ڈالر کی قدر کو95 اور دوسرے مرحلے میں 90 روپے کی حقیقی سطح پر لایا جائے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں تعلیم وصحت اور بیرون ملک جانے والوںکے علاوہ حج وعمرہ پر جانے والے شہری ایڈوانس میں ڈالر کی بکنگ کر رہے ہیں لیکن زیادہ خریداری وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں ڈالر کی قدر بڑھنے کی توقع ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترسیلات زر اور برآمدی آمدنی کی منتقلی بڑھنے سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوتا رہے گا جس سے انٹربینک مارکیٹ مضبوط اور ڈالر کی قدر میںمعمولی اتارچڑھائورہے گا تاہم جولائی سے ڈالر کی دوبارہ تنزلی کا آغاز ہو گا جو ڈالرمیں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بھاری نقصانات کا سبب بنے گا۔