میاں صاحبان کا نیا دور
اب یہ ہماری ہمت اور حوصلہ ہے کہ ہم ان دنوں سے کیسے گزرتے ہیں سروں کو اٹھا کر یا باغیرت پاکستانیوں کی طرح سر جھکا کر
ہم پاکستانی سر اٹھا کر یوم پاکستان منایا کرتے تھے لیکن سقوط ڈھاکہ یعنی 1970ء کے بعد سے ہم شرمندہ شرمندہ سر جھکا کر یہ رسم پوری کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ہم نے اپنے لیڈروں کی تقریریں سنتے اور تمغے بٹتے دیکھتے ہوئے یہ دن گزار دیا اور اس حالت میں کہ جنہوں نے ہم سے ڈھاکہ یعنی نصف پاکستان چھینا تھا اور ہم پر فوجی یلغار کی تھی ان کے ساتھ دوستی کی بے تابانہ سرکاری خواہش سے مغلوب ہو کر ہم یوم پاکستان کی تقریبات سے گزرتے رہے۔ بہر کیف یہ ''وہ دن ہیں جو ہم انسانوں کے درمیان گزارتے رہتے ہیں''۔ اب یہ ہماری ہمت اور حوصلہ ہے کہ ہم ان دنوں سے کیسے گزرتے ہیں سروں کو اٹھا کر یا باغیرت پاکستانیوں کی طرح سر جھکا کر۔
اس دن برسوں بعد ایک بڑی تقریب کھلے بندوں اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ہمارے دونوں حکمران شریک ہوئے اور انھوں نے قوم سے خطاب بھی کیا۔ ان کی امید بھری اور پرعزم تقریریں آپ سن اور پڑھ چکے ہیں۔ انھوں نے ایک آراستہ و پیراستہ تقریب میں قوم کے حوصلوں کو بڑھایا اور قوم کو مشکلات سے نکالنے کا عہد کیا، ایک بار پھر گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس سلسلے میں ایک بڑے قومی منصوبے کا اعلان کیا جو دارالحکومت کے جڑواں شہروں میں قربت کو بڑھا دے گا اور فاصلوں کے طے کرنے کا وقت مختصر کر دے گا۔ لاہور سے اسلام آباد تک کی موٹروے ان کے ایک سابقہ دور حکومت کی یاد گار ہے جس نے میرے گاؤں کا فاصلہ ذرا دور تو کر دیا ہے مگر آسان بھی کر دیا ہے اب میں لاہور سے بذریعہ موٹروے بے فکر ہو کر کلرکہار پہنچتا ہوں جہاں سے تخت بابری سے گزرتا ہوا مغرب کی طرف ایک عام سی پرانی مگر اچھی ہموار سڑک کے ذریعہ پہاڑی میں گم ہو جاتا ہوں اور ایک سیاسی شکار گاہ سوڈھی جے والی کے بیچ سے گاؤں کی راہ لیتا ہوں۔ یہ شکار گاہ صدر ایوب خان، صدر سردار لغاری اور عمران خان کی مرغوب رہی ہے۔ یہاں کی جھاڑیوں میں آباد تیتر اب اپنے شکاریوں کے دنیا سے گزر جانے یا سیاست کی شکار گاہ میں مصروف ہو جانے کی وجہ سے امن میں ہیں اور شکاری دہشت گردوں سے بچ کر سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں سوائے محکمہ جنگلات کے افسروں کے جن کی ریاست میں وہ رہتے ہیں ان کو چھیڑنے والا کوئی دوسرا نہیں ہے، اس محکمے کے افسروں میں بھی شکار کے شوقین شاذونادر ہی ہوتے ہیں ان کے تیتر یہاں کے چرواہے اور جنگل استعمال کرنے والے لوگ ہیں جو ان پہاڑوں کے سبزے پر اپنے مویشی پالتے ہیں اور یہ ان کا روزگار ہیں۔
محترم میاں صاحبان کے موٹروے کے ذکر میں تیتر بھی آگئے اور سیاستدان شکاری بھی۔ میاں صاحب نے راولپنڈی' اسلام آباد پر توجہ دینے سے پہلے لاہور شہر کو پلوں، زمین کے اوپر ہوائی راستوں اور نئی نئی گزر گاہوں کا شہر بنا دیا ہے۔ میرے جیسے لاہور کے پرانے باسیوں کے لیے یہ شہر اب کہیں کہیں ایک ان دیکھا اور اجنبی شہر لگتا ہے۔ کئی پرانے راستے کہیں گم کر دیے گئے ہیں اور ان کی جگہ نئے راستوں نے لے لی ہے جن سے مانوس ہوتے ایک عرصہ لگے گا۔ دنیا بہت بدل رہی ہے خصوصاً لاہور شہر کی قدیم تاریخی دنیا ایک بار پھر دگرگوں ہو رہی ہے اور اس کی پرانی کلاسیکی شکل و صورت نئی نئی ضروریات کے سامنے قربان ہو رہی ہے۔ لاہور شہر نئے حکمرانوں کی پذیرائی کے لیے بہت مشہور ہے۔ خواہ یہ مقامی ہوں یا باہر کے فاتح اور جب اس شہر کے حکمران کچھ کر گزرنے والے بھی ہوں تو لاہوری ان پر بہت خوش ہوتے ہیں۔ یہ شہر بادشاہوں، ملکاؤں، وزیروں اور جرنیلوں کی یاد گاروں اور عاشقوں کی نشانیوں سے بھرا ہوا ہے اور ہمارے نئے حکمرانوں نے تو لاہور کو نئی نئی تبدیلیوں سے مالا مال کر دیا ہے خصوصاً نئی گزر گاہوں سے۔ ہمارے حکمرانوں کے مزاج کا جاننے والا کوئی ملے تو پوچھیں کہ میاں صاحبان کو ٹرانسپورٹ سے اس قدر دلچسپی کیوں ہے جیسے میٹرو بس۔ میں جس علاقے کا رہنے والا ہوں اس کا پیشہ زراعت کے علاوہ فوج کی ملازمت تھی۔ جب فوج کی ملازمت کچھ مشکل ہو گئی اور اس کے لیے کچھ شرائط سامنے آ گئیں تو لوگوں نے ٹرانسپورٹ کے پیشے پر توجہ دی جس کے لیے کسی تعلیم وغیرہ کی ضرورت نہیں تھی۔ جسمانی محنت درکار تھی اور یہ یہاں کے لوگوں میں بہت وافر تھی چنانچہ پاکستان کی ایک سب سے بڑی نہیں تو بہت بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی اعوان بس سروس کے نام سے ہمارے گاؤں کے لوگوں نے قائم کی تھی۔ میاں صاحبان وہ پہلے حکمران ہیں جو سڑکوں گزر گاہوں کے ذریعے ٹرانسپورٹروں کی مدد کر رہے ہیں اور ان کے لیے نئے راستے تعمیر کر رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹر میاں صاحبان پر بہت خوش ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جن لوگوں کو ٹرانسپورٹر ہونا تھا وہ صنعت کار کیسے بن گئے۔ البتہ سیاست اور ٹرانسپورٹ کا گہرا تعلق ہے کئی ٹرانسپورٹر سیاستدان اور وزیر وغیرہ بھی ہیں لیکن صنعت اور ٹرانسپورٹ کا باہمی تعلق موجود نہیں ہے مگر لگتا ہے شاید اب یہ تعلق پیدا ہو رہا ہے اور اس کا آغاز میاں صاحبان کرنے والے ہیں جس کا فروغ یقینی ہو گا۔ شیخ رشید احمد جیسے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر راولپنڈی میں میٹرو بس چلا دی گئی اور اس کے لیے نئے راستے بھی تعمیر ہو گئے تو پھر اس شہر سے مسلم لیگ ن کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ یہ فرزند راولپنڈی کی رائے ہے لیکن راولپنڈی اب صرف ایک فوجی شہر نہیں رہا اسلام آباد کی نئی ہواؤں نے اس کو بدل دیا ہے۔ میں نے چند برس راولپنڈی میں گزارے ہیں ان برسوں میں مرحوم عبدالجبار غازی صاحب سے انگریزی اور مولانا مسعود عالم ندوی صاحب سے عربی زبان کی تعلیم حاصل کرتا رہا اور راولپنڈی جیسے چھوٹے سے شہر میں خوب گھوما پھرا۔ گندمی رنگ کے لوگوں کا یہ خوبصورت شہر کسی خوبصورت تبدیلی کا حقدار ہے اور یہاں کے شریف باشندے بھی نئی زندگی کے حقدار ہیں۔ پنجاب میں یہ واحد شہر ہے جہاں آپ کو سفر کے لیے رکشے کی طرح ٹیکسی بھی عام مل جاتی ہے جب کہ لاہور میں اس کا نام و نشان نہیں ہے۔ نئی زندگی اور تبدیلی اس شہر کا حق ہے لیکن عجلت میں نہیں صبر کے ساتھ جسے یہاں کے آسودہ مزاج لوگ برداشت کر سکیں۔ ایسی جلدیوں کے لیے لاہور زیادہ موزوں ہے جس کی لاہوریت اب صرف اندرون لاہور تک محدود ہو چکی ہے۔ بہر کیف موٹروے کی طرح میٹرو بھی ہو سکتا ہے یاد رہ جائے اور میاں صاحب ہمارے کل کے لیے پان لگاتے جائیں۔