امریکا نے پاکستان کو جی ایس پی اسٹیٹس دینے سے صاف انکار کر دیا

جی ایس پی اسٹیٹس پرسوچا جاسکتا ہے،فی الوقت متوقع نہیں،تجارت بڑھانے پر توجہ ہے، قونصل جنرل،فیڈریشن ہاؤس کادورہ،


Business Reporter March 25, 2014
واشنگٹن جی ایس پی بحال کرے،امریکا میں سنگل کنٹری نمائش کاانعقاد چاہتے ہیں، قونصلیٹ مدد کرے، زریا عثمان،ٕشوکت احمد،خر م سعیدودیگر کا بھی خطاب .فوٹو: اے پی پی/فائل

امریکی قو نصل جنرل مائیکل ڈوڈمین نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکی مارکیٹ میں جی ایس پی اسٹیٹس فی الحال متوقع نہیں ہے تاہم اس بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان(ایف پی سی سی آئی) میں تاجروں و صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارت میں اضافے پر مرکوز ہے۔ اس موقع پر انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان سے تجارتی وفود امریکا آئیں تاکہ دونوں ملکوں کی بزنس کمیونٹی میں تبادلہ خیال ہو سکے اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ ویزا معاملات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ امریکی ویزا آفیسر ہر درخواست کو انفرادی سطح پر دیکھتا ہے ا ور جہاں ضرورت ہو وہاں درخواست گزار کو انٹرویو کے لیے بلا لیتا ہے اور ویزا کے عمل میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرسکتا ۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان نے کہا کہ پا کستان اور امریکا کے مابین پارٹنرشپ وسیع تر حکمت عملی اور طویل المدت بنیاد پر ہیں اور دونوں ممالک کے در میان خوشگوار سفارتی، معاشی اور تجارتی تعلقات ہیں ۔ زکریا عثمان نے پاکستان کے امر یکا کے ساتھ تجارت سے متعلق کہا کہ 2012-13میں دونوں ملکوں کے در میان تجارتی حجم 4905 ملین ڈالر رہا۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ فیڈریشن کی پاکستان۔ یو ایس بزنس کونسل پاکستان بھر میں اپنے ممبران کو سہولتیں فراہم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

لیکن اس طرح کی متوازی ٹریڈ باڈیز جو لو کل چیمبرز یا فارن ٹر یڈ مشن کی سر پرستی میں چل رہے ہیں انہیں کم کیا جائے تاکہ باہمی اقتصادی تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو پذیرائی حاصل ہو اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ بزنس کونسل یا مشترکہ چیمبرز آف کامرس کسی بھی ملک کے نیشنل چیمبرز بناتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ پاکستان میں کچھ مشترکہ بزنس کونسل اور مشترکہ چیمبرز آف کامرس یا تو لوکل چیمبرز کے ساتھ معاونت کر رہے ہیں یا پھر اپنی انفرادی حیثیت میں کسی فارن ایمبیسی کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ اس موقع پر فیڈریشن کے سینئر نائب صدر شوکت احمد اور نائب صدور خر م سعید اور اسماعیل ستار نے زور دیا کہ پا کستان کے لیے امریکن جی ایس پی (جرنلائز سیلز پریفرینس)کو دوبارہ بحال کیا جائے کیونکہ اسے ختم ہوئے کافی عر صہ ہو گیا ہے۔ خرم سعید نے کہاکہ فیڈریشن پاکستان کی ایک ملکی تجارتی نمائش کینیڈا میں ستمبر 2014کو منعقد کر رہا ہے اور ہم چاہیںگے کہ اس کے ساتھ ہی ہم امریکا میں بھی ایک ایسی ہی تجارتی نمائش کا انعقاد کریں جس کے لیے ہمیں امریکن قونصلیٹ کی مدد درکار ہے۔