انتہا پسندی
کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رکنے میں نہیں آتا
زین العابدین کراچی کے انگریزی روزنامے میں سب ایڈیٹر ہیں۔ وہ متوسط طبقے کی آبادی گلشن اقبال میں قیام پذیر ہیں۔
وہ اپنے گھر میں ٹی وی چینل پر قوالیاں دیکھ رہے تھے کہ مذہبی انتہا پسندوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی دیکھنا جائز نہیں ہے۔
زین پر تشدد اس کی بہن کے سامنے کیا گیا جب انھوں نے متعلقہ تھانے میں ان انتہا پسندوں کے خلاف رپورٹ درج کرانے کی کوشش کی تو پولیس نے توجہ نہیں دی۔ کوئٹہ کے بعد کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رکنے میں نہیں آتا۔
کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل ہونے والوں میں دکاندار، سرکاری ملازمین، اساتذہ، وکیل اور پروفیشنلز شامل ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ سیاسی اور سماجی مسائل پر انتہائی متحرک ہیں، کشور زہرہ نے ایک اور سماجی کارکن شبر زیدی کے ساتھ مل کر کراچی میں سول سوسائٹی کے اراکین، سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں اور خواتین کو گزشتہ ہفتے اپنے گھر پر مدعو کیا۔
ان شرکاء میں بائیں بازو کے رہنما معراج محمد خان، ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض، ممتاز قانون دان اقبال حیدر اور کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نمایاں تھے۔ کشور زہرہ نے اس مجلس کے حاضرین کے سامنے 5 سوالات رکھے جو یہ ہیں، (1) کیاکامرہ، مہران بیس، جی ایچ کیو اور ہنگو، چلاس اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ایک ہی فرقے کے لوگوں کو شہید کرتے رہنے کے واقعات کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے۔
(2) دہشت گردی اور فرقہ واریت کی وجہ سے اپنی جان خطرے میں محسوس کرتے ہوئے ہجرت میں اضافہ۔ کیا ملک مختلف، سماجی اور معاشی طور پر دیوالیے پن، عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے؟
(3) بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا کردار قابل اطمینان ہے؟ ایک عام آدمی میں ناامیدی فروغ پا رہی ہے، کیوں؟
(4) کیا ہم اپنے اسلاف کی قدروں کو باقی رکھ سکے ہیں اور آنے والی نسل کو صحیح سمت دے پا رہے ہیں؟
(5) کیا دہشت گردی اور فرقہ واریت کی اس گمبھیر صورتحال کو ہمیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر نہیں دیکھنا چاہیے اور کسی کے درست نکتہ نظر کو بھی سیاست کی نذر کر دینا چاہیے؟
اس مجلس کے شرکاء کی رائے تھی کہ کامرہ، مہران بیس، جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے ہنگو، چلاس، کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کی سوچ ایک ہے اور ایک ہی مقصد کے لیے بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں، اگرچہ یہ عناصر تنظیمی طور پر علیحدہ علیحدہ کام کرتے ہیں مگر ان کا مقصد ایک مخصوص نظریہ کی ریاست پر بالادستی قائم کرنا ہے۔
اس مجلس میں شریک بیشتر شرکاء کا موقف تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور اس صورتحال پر قابو پانے میں ریاستی اداروں کی ناکامی ہے۔ بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، کئی لوگوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ متنازعہ قوانین کے نفاذ کے بعد اقلیتی برادری عدم تحفظ کا شکار ہوئی۔
جس کی بنا پر صدیوں سے آباد پارسی، عیسائی اور ہندو برادری کے ہزاروں خاندان یورپ اور امریکا ہجرت کر گئے، قادیانیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا تو ان لوگوں کی اکثریت ملک چھوڑ گئی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچستان اور سندھ میں ہندوئوں کے اغوا اور ان کی لڑکیوں کی زبردستی شادی اور مذہب تبدیل کرنے کے واقعات رونما ہونے شروع ہوئے تو ہندوئوں کے کئی خاندان ملک چھوڑ نے پر مجبور ہو گئے، ہندوئوں کے بھارت میں پناہ لینے کی خبروں کی بازگشت آج کل پھر میڈیا کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
اس طرح ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں اور پروفیشنلز کی ٹارگٹ کلنگ کی بناء پر بہت سے ماہر ڈاکٹروں اور پروفیشنلز نے بیرون ملک جانے کی راہیں تلاش کرنی شروع کردیں، جن والدین نے اپنے بچوں کو یورپ اور امریکا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھجوایا ہے اور ان کی خواہش تھی کہ بچے تعلیم مکمل کر کے جلد از جلد وطن واپس آ جائیں مگر اب والدین اپنے بچوں کو یہ ہدایات دے رہے ہیں کہ زندگی بچانے کے لیے وہ یورپ اور امریکا میں آباد ہو جائیں۔
اس مجلس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ با شعور شخص کو انتہا پسندی اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کچھ باشعور شرکاء نے یہ رائے دی کہ ہمارا کردار اس اہم مسئلے پر زیادہ متحرک ہونا چاہیے تا کہ عام آدمی مایوسی کا شکار نہ ہو کیونکہ اگر عام آدمی خوف، دہشت اور مایوسی کا شکار ہوا تو اس کے معاشرے کی ساخت پر خطر ناک نتائج مرتب ہوں گے۔
اس طرح کشور زہرا کے اٹھائے ہوئے چوتھے سوال کے جواب میں کہا گیا ہم اپنے اسلاف کی قدروں کو باقی نہ رکھ سکے۔ سب اس بات پر متفق تھے کہ نئی نسل کو صبح ہمت دکھانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کشور زہرا کا پانچواں سوال کہ کیا دہشت گردی اور فرقہ واریت کی اس گمبھیر صورتحال کو ہمیں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر نہیں دیکھنا چاہیے؟
اس مجلس میں شریک شرکاء جو سیاسی طور پر مختلف نوعیت کی وابستگیوںسے منسلک تھے اور ماضی میں اپنے مخصوص نکتہ نظر کی بناء پر ایک دوسرے کے مخالفین میں شمار ہوتے تھے کا متفقہ موقف تھا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ سے صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہی نہیں ہو رہا بلکہ معاشرے کی ساخت تباہ ہو رہی ہے جس کے اثرات ریاست کی عملداری پر بڑھ رہے ہیں۔
اس صورتحال میں ریاست کی رٹ ختم ہونے سے انارکی پھیل رہی ہے جس کے ملک کی معیشت، سیاسی اور سماجی صورتحال پر منفی اثرات برآمد ہو رہے ہیں۔ شرکاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے متنازعہ اسلامی نظام کے نفاذ کی پالیسیوں کے نتیجے میں انتہا پسندی نے جڑیں پکڑی ہیں اور بعد میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں خاص طور پر جنرل پرویز مشرف کی دہرے معیار کی پالیسیوں نے اس صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا۔انتہا پسندی کا زہر جس تیزی سے سرائیت کر رہا ہے اس کو ہر سطح پر غور فکر کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے ارتقاء کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ موجودہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور انتہا پسندی کی جڑیں جنرل ضیاء الحق کے دور سے منسلک ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے جب امریکی سی آئی اے کے منصوبے کے تحت افغانستان کے پروجیکٹ میں شمولیت اختیار کی تو اس منصوبے کے تحت غیر ریاستی کرداروں کو بنیاد بنایا گیا اس مقصد کے لیے مذہبی تنظیموں کو بنیادی کردار دیا گیا۔
امریکا کی بھاری امداد سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ارکان کروڑوں ڈالروں میں کھیلنے لگے،ادھر ان تنظیموں کا انفرا اسٹرکچر اور افرادی قوت بڑھنے لگی۔ جنرل ضیاء الحق کے وارث جنرلوں جنرل اسلم بیگ، جنرل حمید گل، جنرل جاوید ناصر وغیرہ نے ان مجاہدین کے ذریعے دنیا بھر میں جہاد کو برآمد کرنے کی پالیسی اختیار کی۔
اسٹرٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی میں یہ تنظیمیں بنیادی اہمیت اختیار کر گئیں، مگر ان تنظیموں سے منسلک بعض کرداروں نے ملک میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ، فوجی تعینات پر حملے اور خود کش دھماکوں کے ذریعے دہشت گردی کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔
ان عناصر نے صدیوں سے قائم روحانی اداروں کونشانہ بنایا، لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے مزار، کراچی میں عبداﷲ شاہ غازی، پاک پتن میں حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزاروں کو نشانہ بنا کر اپنے مکروہ عزائم کو عیاں کیا۔ ان عناصر نے سوات میں ایک معروف پیر کو پھانسی دے دی۔ چند سال قبل تک ان عناصر کی کمین گاہیں خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں تک محدود تھی مگر اب ان کی کمین گاہیں کراچی کے مضافاتی علاقوں تک پہنچ گئی ہیں۔
اس الزام کا ثبوت پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے، ایک ماہر ڈاکٹر کی شہادت اور حکومت کا پولیو کی مہم کو بار بار ملتوی کرنا ہے۔ کشور زہرا نے انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اہم کوشش کی ہے۔ اس ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچنے والے لوگوں کو سیاسی وابستگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کوشش کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ امید کی راہیں کھل سکیں۔