قاہرہ سے کراچی تک
پاکستان کے خلاف ایک جان لیوا کارروائی دہشت گردی کی ہے جس میں ہر روز کئی مسلمان ختم کر دیے جاتے ہیں ۔۔۔
WASHINGTON:
قاہرہ سے یہ انتہائی ناپسندیدہ بلکہ بھیانک خبر آئی ہے کہ وہاں کے کچھ با اختیار لوگوں نے اخوان المسلمون یعنی معزول صدر مرسی کے اکٹھے 529 حامیوں کو موت کی سزا سنا دی ہے۔ جدید مصر کی یہ روایت ہے کہ ایسی سزائیں وہاں جب بھی سنائی جاتی ہیں اور ایسا ہوتا رہتا ہے تو ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے خصوصاً اخوان المسلمون کو کسی صورت میں معاف نہیں کیا جاتا۔ وجوہات واضح ہیں۔ میری زندگی کی ایک انتہائی اہم تصویر جو میرا اثاثہ تھی وہ مصر کے ایک بڑے لیڈر اور مفسر قرآن کی تھی جو ایک موٹر کار میں پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہے ہیں اور گاڑی کے پچھلے شیشے کی طرف مڑ کر مسکرا رہے تھے۔ عنوان تھا ''آخری مسکراہٹ'' فی 'ظلالِ القرآن'' کے مصنف سید قطب کی یہ دل کے پار اترنے والی تصویر میں نے ایک اخبار کے تصویروں کے بنڈل سے اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لی تھی اس ادھوری سی بے دلانہ خواہش کے ساتھ کہ شاید میں بھی کسی دن اس اعزاز کا حقدار بن جائوں۔ ایک منافقانہ سی خواہش لیکن جن کے دلوں میں سچ تھا اور جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنی زندگیوں کا سودا کر لیا تھا وہ اس حق کو حاصل کر کے دنیا کے لیے ایک مثال بن گئے۔
یہ قاہرہ کی ایک سڑک پر چلتی گاڑی کی تصویر تھی۔ قاہرہ میرا خوابوں کا شہر جہاں میں کسی سرکاری وفد میں دو تین بار گیا اور ایک بار ذاتی خرچ پر بھی۔ لیکن یہ ذاتی خرچ بھی سرکاری بن گیا کہ میں قاہرہ میں اپنے سفیر اور مہربان سید احمد سعید کرمانی سے ملنے ان کے دفتر میں چلا گیا۔ انھوں نے اپنے سفارت خانے کے ایک افسر کو بلا کر کہا کہ ہمارے ہاں پاکستان سے کوئی اخبار نویس آتا ہے آپ ان کی خواہش کے مطابق انھیں قاہرہ دکھائیں اور پھر ڈرائیور کو بلا کر کہا کہ ہوٹل سے ان کا سامان اٹھا کر میرے ہاں لے آئیں۔ سفیر کا ڈرائیور جب میرا سامان لینے ایک عام سے ہوٹل میں گیا تو اسے اس نے اپنی سبکی سمجھی لیکن مجھے وہ سامان سمیت سر آغا خان کے اس محل میں لے گیا جو ہمارے سفیر کی سرکاری قیام گاہ تھی۔ یہ کبھی دریائے نیل کے کنارے پر تھی لیکن صدر ناصر نے دریا کے کنارے پر سڑک بنا کر اسے دریا سے دور کر دیا دونوں کے بیچ میں یہ سڑک آ گئی۔ یہ عمارت واقعی ایک محل تھی اور نقش و نگار سے آراستہ لیکن ہمارے دفتر خارجہ نے اس کے نقش و نگار کو اجاگر رکھنے کے لیے رقم نہ دی اور سفیر نے بار بار یاد دہانی کے بعد غصے میں آکر اس پر سفیدی پھروا دی۔
یہ قاہرہ کا وہ زمانہ تھا جب اخوان کے حسن البنا شہید ہو چکے تھے اور اخوان کے شہیدوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ مصر کے عہد حاضر میں بھی کئی فرعون تخت پر بیٹھے مگر ان کے سامنے گستاخ لوگ بھی موجود رہے اور فرعونیت کو للکارتے رہے اور اس کے جواب میں موت کی سزا جو اب اخوان کی ایک روایت بن چکی ہے اور یہ روایت بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے۔ اب اس میں یکدم تھوک سے اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے یعنی 529 کا، مجھے یقین ہے کہ یہ سب اس اعزاز کے لیے تیار ہوں گے۔ یہ خانقاہی نہیں انقلابی ذہن کے لوگ ہیں جو اپنے نظریات پر ڈٹے رہنے کے بدلے میں جان دے دیا کرتے ہیں۔ یعنی ؎
جان دی' دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
لیکن یہ لوگ اس حق کو بڑے فخر اور امیدوں کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور جن کو یہ اعزاز نہیں ملتا وہ اس کے لیے اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بھی تو اسی قافلے کے مسافر ہیں پھر محروم کیوں۔
ایک طرف جانیں قربان کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے دوسری طرف داد دیجئیے ان لوگوں کو جو سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس قتل عام کا سبب بنا کرتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ سب مسلمان ہیں لیکن کیسے، خدا ایسے مسلمانوں سے ہمارے ملک کو محفوظ رکھے۔ اسی قاہرہ کے شہر میں جامعہ ازہر ہے جس کا فتویٰ دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ تیونس کے جامعہ زیتونیہ کے بعد مسلمانوں کی قدیم ترین درسگاہ کا اسلامی دنیا میں بہت احترام ہے اور جو لوگ کبھی یہاں سے کچھ پڑھ کر گئے ہیں وہ اپنے نام کے ساتھ ازہری لکھ کر فخر کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی اہم متنازعہ مسئلہ سامنے آتا ہے تو جامعہ ازہر اس بارے میں اپنی رائے یا فتویٰ جاری کر دیتا ہے لیکن کیا اس درسگاہ کے علمائے کرام کو اپنے شہر میں کچھ نظر نہیں آتا کہ ان کے ہاں اختلاف رائے پر کتنی بڑی سزا دی جاتی ہے۔ یہ نام نہاد عدالتیں کیا اسرائیل کی ہیں یا کسی دوسرے کافر ملک کی۔ ادھر کچھ عرصے سے مسلمان دنیا کے خلاف عالمی سطح پر ایک مہم جاری ہے۔ اس مہم میں فوجی کارروائیاں بھی ہیں عدالتی کارروائیاں بھی اور نظریاتی انتشار بھی۔ مثلاً پاکستان میں ان دنوں کسی سیکولرازم کا پرچار جاری ہے۔
یہ کچھ وقت سے اچانک سامنے آیا ہے جو ایک پڑوسی ملک کے تعاون سے بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف ایک جان لیوا کارروائی دہشت گردی کی ہے جس میں ہر روز کئی مسلمان ختم کر دیے جاتے ہیں اور پاکستانی معاشرے میں جو افراتفری پھیل چکی ہے یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ زندگی کا ہر کاروبار اور سرگرمی اس سے متاثر ہے۔ کراچی جیسا شہر جو ملک بھر کا کاروباری مرکز اور ملک بھر کے لیے ذریعہ روز گار تھا اب خبریں آتی ہیں کہ لوگ وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں یعنی اس بھرے پرے شہر سے لوگ باہر نکل رہے ہیں، اپنے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر۔ کسی دوسری جگہ گھر بنانا اور کاروبار قائم کرنا جان جوکھوں کا کام ہے لیکن اس سے پاکستان اور مسلمانوں کے دشمنوں کا کام تو نکل رہا ہے مگر پاکستان پر یوں کہیں کہ ایک قیامت برپا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ آج تو یوں لگتا ہے کہ قاہرہ اور کراچی دونوں مسلمان شہر دشمنوں کے گوناگوں حملوں کی زد میں ہیں۔ ان حالات میں بڑے دانشمند اور حکمت والے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو عوام کی رہنمائی کریں۔ شاید ہماری قسمت کھل جائے۔