نظامِ زر کے شہیدوں کو سلام

دو سو سے زیادہ محنت کشوں کی ان شہادتوں کی ذمے داری مالکان اور مقامی انتظامیہ پر ڈالی جا رہی ہے


Zaheer Akhter Bedari September 15, 2012
[email protected]

ویسے تو ہم ایک عرصے سے بے گناہ انسانوں کو مذہبی انتہا پسندی کی آگ میں جلتے دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس انتہا پسندی کا بیج بونے والا سامراجی ملک امریکا اپنے نیٹو کے لائو لشکر کے ساتھ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

لیکن 11 ستمبر 2012ء کو بانی پاکستان کے 64 ویں سالِ وفات کے دن پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر نظامِ زر کی لگائی ہوئی آگ میں کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں ہم نے انتہائی اذیت، دکھ اور بے بسی کے ساتھ 289 محنت کشوں کو زندہ جلتے ہوئے دیکھا اور اسی دن لاہور کی ایک جوتے بنانے والی فیکٹری میں 26 محنت کشوں کو آگ کی نذر ہوتے دیکھا۔

دو سو سے زیادہ محنت کشوں کی ان شہادتوں کی ذمے داری مالکان اور مقامی انتظامیہ پر ڈالی جا رہی ہے۔ گارمنٹ فیکٹری کے مفرور مالک کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے اس فیکٹری کا مالک پکڑا جائے اور اس پر غفلت، لاپروائی یا 289 مزدوروں کے قتل کا مقدمہ بھی بن جائے اور اس مقدمے میں اس چھوٹے سے ملزم کو چھوٹی موٹی سزا ہو جائے یا ہمارے کرپٹ قانون اور انصاف کے نظام میں ان مزدوروں کے بالواسطہ قاتلوں کو چھوڑ دیا جائے، یہ سب ہوتا رہا ہے ہوتا رہے گا۔

روایت کے مطابق ہمارے حکمران طبقے نے محنت اور سرمائے کی اس جنگ کے شہیدوں کے لواحقین کو فی شہید تین لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے جب کہ پنجاب حکومت نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی لاش 5 لاکھ کا زر تلافی دینے کا اعلان کیا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ انسانی جانوں کی قیمت یا اس زرتلافی کا پیدا کنندہ کون ہے اور مالک بن کر مرنے والوں کے لواحقین پر یہ احسان کون کر رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر ذرا سنجیدگی سے غور کیا جائے تو وہ سارے سر بستہ راز باہر آ جاتے ہیں جنھیں سرمایہ دارانہ نظام نے مختلف میلی چادروں میں چھپا رکھا ہے۔

11 ستمبر بانی پاکستان کا 64 واں یومِ وفات ہے اور عین اسی یومِ وفات پر اس ملک کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں 315 محنت کش جل کر راکھ ہو گئے، میں ٹی وی اسکرینوں پر کراچی اور لاہور میں جلتی ہوئی فیکٹریوں سے اٹھتے ہوئے شعلوں کو دیکھ رہا تھا اور شدّتِ احساس میں خود بھی جل رہا تھا کہ آگ کے شعلوں میں گِھرے ایک انتہائی اذیت ناک موت کو سامنے کھڑا دیکھ کر ان بے گناہ شہیدانِ نظامِ زر کے دلوں پر کیا گزر رہی ہو گی۔

جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ کراچی کی گارمنٹ فیکٹری کے مفرور مالک کو پکڑ لیا جائے، سزا دی جائے یا چھوڑ دیا جائے، اس کرپٹ ترین نظام میں یہ سارے امکانات موجود رہتے ہیں۔ میں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ روایت اور کوتاہ نظری کے مطابق اس المیے کی ذمے داری فیکٹری کے مالک اور شہر کی انتظامیہ پر ڈال کر اپنی ذمے داری پوری کر دی جائے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بادی النظر میں فیکٹری کا مالک اور شہری انتظامیہ ہی اس جرم کی مرتکب نظر آتی ہے اور اختیارات کا مالک طبقہ اس حوالے سے سامنے نظر آنے والے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو جائے گا، لیکن شاید ہی کسی کی نظر اس اصل مجرم اس ''نظامِ زر'' پر جائے جس نے انسانوں میں ہوسِ زر پیدا کر کے انھیں حیوان بنا دیا ہے۔

ظاہر ہے جب حکومت اور معاشرہ سامنے نظر آنے والے مجرموں کو ہی اصل مجرم سمجھنے لگے تو پھر اس نظامِ زر کی طرف کس کی نظر جائے گی جو ان تمام مظالم، ان تمام المیوں کا اصل ذمے دار ہے۔ جب اس اصل مجرم کو عوام نہ دیکھ سکیں تو اس کے خلاف جدوجہد کرنے، اس کے خلاف بغاوت کرنے کا جذبہ ان میں کیسے پیدا ہو گا؟ ہمارے شاعرِ مشرق جیسے اعتدال پسند کہتے ہیں۔

بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائنات
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات
نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات
کٹ مرا ناداں، خیالی دیوتائوں کے لیے
سکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقدِ حیات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

سرمایہ اور محنت کا تضاد صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ ایک طرف وہ اربوں انسان ہیں جو دنیا میں اشیائے صرف اور اشیائے تعیش کے انبار لگاتے ہیں اور اس کا معاوضہ اتنا بھی نہیں پاتے کہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کر سکیں۔ دوسری طرف وہ مٹھی بھر ایلیٹ ہے جو ان محنت کشوں کے خون کو دولت کی شکل میں اپنے بینکوں میں جمع کر لیتی ہے۔

ایک طرف گھاس پھوس یا دو کچّے کمروں کے مکان ہیں، دوسری طرف ہزاروں گز پر پھیلے ہوئے محل۔ محنت کرنے والے سرمائے کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور سرمایہ دار دنیا ہی میں جنّت کے مزے لیتا ہے۔ اب صدیوں پر پھیلے اس نظامِ زر کے خلاف دنیا بھر کے انسان صف آرا ہو رہے ہیں، لیکن ان میں جب تک مرکزیت پیدا نہ ہو گی، وہ کمزور اور بے بس فریق کی حیثیت سے سرمائے کے مظالم کا شکار ہوتے رہیں گے۔

گارمنٹ اور جوتوں کی فیکٹریوں کے مالک تو اس قہار نظام کے معمولی معمولی ہرکارے ہیں، اس نظام کے اصل مجرم ملٹی نیشنل کمپنیوں، اقتدار کے جھروکوں اور بڑے بڑے بینکوں کے سیکرٹ سوئس اکاؤنٹوں اور کھرب پتیوں کے پردوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔

کراچی کی گارمنٹ فیکٹری اور لاہور کی جوتا ساز کمپنی کی آگ میں جلنے والے شکاگو کے شہیدوں ہی میں شامل ہیں اور جب تک ان شہیدوں کے لواحقین اور ان کا ماتم کرنے والے اس نظامِ زر کے خلاف اٹھ نہیں کھڑے ہوتے، اس وقت تک محنت کش جلتے مرتے رہیں گے اور ان کے ورثاء در بدر کی خاک چھانتے رہیں گے۔ ہم پورے خلوصِ دل سے ان شہیدوں کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں یہ چند شعر ہدیہ کرتے ہیں۔

یہ وہ آندھی ہے جس کی زد میں مفلس کا نشیمن ہے
یہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقان کا خرمن ہے
یہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہے
مگر مزدور کے تن کا لہو تک چوس لیتی ہے
یہ انسانی بلا خود خونِ انسانی کی گاہک ہے

وبا سے بڑھ کے مہلک، موت سے بڑھ کر بھیانک ہے

مبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہ
اٹھائو آندھیاں کمزور ہے بنیادِ کاشانہ

(اسرار الحق مجاز)

مقبول خبریں