اپوزیشن مخالفت میں متحد قائمہ کمیٹی داخلہ سے تحفظ پاکستان بل منظور نہ ہوسکا

وزیر وسیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر ارکان کاشدیدبرہمی کا اظہار، آئندہ نہ آ نے پراجلاس سے واک آئوٹ کی دھمکی دیدی


Monitoring Desk March 27, 2014
حکومت جلد بازی میں بل پاس کرانا چاہتی ہے، ایسا نہیں ہونے دینگے، پیپلزپارٹی، متحدہ، جے یو آئی، تحریک انصاف کامشترکہ موقف۔ فوٹو: فائل

GILGIT: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین کی شدید مخالفت کی وجہ سے تحفظ پاکستان بل منظور نہیں ہوسکا۔

رانا شمیم کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سول اور ملٹری کے درمیان عدم رابطہ ہے، وزیرداخلہ تسلیم بھی کرچکے،جبکہ داخلی سلامتی پالیسی میں آئی ایس آئی کوقانون نافذ کرنے کاکردار بھی دیاگیا،آئی ایس آئی کی نگرانی کا قانون پاس نہیں ہوا، وہ بھی پارلیمنٹ میں ہے۔

اجلاس میںپیپلزپارٹی،ایم کیو ایم،جے یو آئی (ف)، تحریک انصاف نے بل کی مخالفت کی، اپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ آئندہ اجلاس میں وزیر داخلہ یا سیکرٹری داخلہ نہ آئے ،بل پاس نہیں ہونے دیں گے، حکومت جلد بازی میں بل پاس کراناچاہتی ہے، ایسا نہیں ہونے دیں گے۔اپوزیشن اراکین کی شدید مخالفت کی وجہ سے تحفظ پاکستان بل منظور نہ ہوسکا۔آن لائن کے مطابق اپوزیشن نے وزیر اورسیکریٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ اجلاس میں اگر وزارت داخلہ وسیکریٹری داخلہ نہ آئے تو وہ احتجاجا کمیٹی کے اجلاس سے واک آٹ کریں گے تاہم حکومتی اراکین نے اس میں مزید8تجاویز شامل کردی۔