نئے حکومتی اتحاد کی ترجیحات

ایم کیو ایم چاروں صوبوں میں اپنی جگہ بنا کر قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے ۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari March 28, 2014
[email protected]

حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان بات چیت آخری مرحلے میں ہے، اس کالم کی اشاعت تک اس بات کا امکان ہے کہ ایم کیو ایم کے سندھ حکومت میں شامل ہونے کا اعلان ہو جائے، تاہم بلاول بھٹو کے تازہ بیان سے صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں پانچ وزارتیں اور دو مشاورتیں دی جائیں گی اور آیندہ کسی اختلافات کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فریقین کے نمایندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ اس حوالے سے جو تفصیلی خبر ایکسپریس میں شایع ہوئی ہے اس کی آخری دو لائنیں ہی اس ممکنہ اتحاد کا پیش لفظ کہلا سکتی ہیں، ان لائنوں میں کہا گیا ہے کہ ''دونوں جماعتیں مفاہمتی پالیسی کے تحت کام کریں گی''۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ماضی میں کئی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں ۔ حکومتی اتحادوں میں عموماً سارا زور وزارتوں، مشاورتوں کی تقسیم پر لگایا جاتا ہے اگر حکومت سے باہر کے فریق کو اس کی مرضی کے مطابق وزارتیں نہیں ملتیں اور حکومت میں شامل ہونے والا فریق وزارتوں کی تعداد اور اس کی اہمیت سے مطمئن نہیں ہوتا تو اس قسم کے اتحاد میں ابتدا ہی سے بگڑنے اور ٹوٹنے کے عناصر شامل رہتے ہیں۔

عموماً حکمران جماعت کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اہم وزارتیں اس کے قبضے میں رہے مثلاً وزارت داخلہ، وزارت خزانہ، صنعت و تجارت، بلدیات وغیرہ اور اتحادی جماعت بھی ان اہم وزارتوں کے حصول کے لیے سارا زور لگا دیتی ہے لیکن اتحادی جماعت چوں کہ برسر اقتدار جماعت کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے اس لیے اسے جو مل گیا وہی غنیمت ہے پر عمل کرنا پڑتا ہے جو آخری کار اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن جاتا ہے۔ ماضی میں سندھ حکومت میں ایم کیو ایم کے علاوہ اے این پی اور مسلم لیگ فنکشنل بھی شامل رہی تھیں اور یہ اتحاد بھی وزارتوں کی بندر بانٹ تک محدود تھا۔ اس بانٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہ تھا کہ جس اتحادی کو جو وزارتیں مل رہی ہیں یا حکومت کے پاس جو وزارتیں ہیں مستقبل میں ان کا ایجنڈا اور کارکردگی کیا ہو گی۔؟ اس اہم مسئلے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے وہ برائیاں اور اختلافات ابھرتے ہیں جو آخر کار اس قسم کے اتحاد کے ٹوٹنے کا سبب بن جاتے ہیں اور وزارتوں کی ذمے داریوں اور اہداف کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے بد عنوانیوں کے فروغ کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں، مثلاً ماضی میں وزارت داخلہ حکومت کے پاس رہی اور بد قسمتی سے یہ وزارت ایک ایسے شخص کے پاس رہی جس کی ایم کیو ایم سے بنتی نہ تھی، نتیجہ مسلسل محاذ آرائی کی شکل میں نکلا اور اس اہم ترین وزارت کی ساری توجہ فریق مخالف کو زیر کرنے پر لگی رہی۔

سابقہ اتحاد کے ٹوٹنے میں اس وزارت کی کارکردگی کا بڑا دخل رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے نشان دہی کی ہے کہ مسئلہ وزارتوں کے حصول کا اتنا اہم نہیں بلکہ وزارتوں کی کارکردگی کا اہم ہے، وزارت داخلہ کا سب سے اہم کام یا ذمے داری امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا ہوتا ہے اس حوالے سے 2008 سے 2013کی وزارت داخلہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ''اسلحے کے چار پانچ لاکھ لائسنس کا اجرا اور ''امن کمیٹی'' جیسی تنظیمیں بنانے کو وزارت داخلہ کی اعلیٰ کارکردگی ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو وزارتوں کی کارکردگی کے مقابلے میں سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کی کارکردگی اتنی مثالی رہی کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر اس کار کردگی کی مثال دی جاتی رہی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کارکردگی کا مظاہرہ دیگر وزارتوں نے کیوں نہیں کیا؟

موجودہ ممکنہ اتحاد کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ اتحاد مفاہمتی سیاست کے ساتھ عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گا! پاکستان میں مفاہمتی سیاست کی ایجاد کا سہرا زرداری کے سر بندھتا ہے کہ اس مفاہمتی سیاست کی وجہ سے ایک طرف مسلم لیگ (ن) فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی دوسری طرف پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت کو اپنی آئینی مدت تک اقتدار میں رہنے کا موقع ملا۔ یہ کارنامے بلا شبہ قابل تحسین ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زرداری کی مثالی مفاہمتی پالیسی سے عوام کو کیا ملا؟ عوام کے مسائل کیوں حل نہ ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس مفاہمتی پالیسی کا مقصد صرف فریقین کے ''سیاسی اور اقتصادی'' مفادات کا تحفظ تھا۔ عوامی مفادات اس مفاہمتی پالیسی میں سرے سے شامل ہی نہ تھے۔

خوشی اور امید کی بات یہ ہے کہ جو اتحاد بننے جا رہا ہے اس میں مفاہمتی پالیسی کو جمہوریت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل سے جوڑا گیا ہے۔ جس کا ذکر اس خبر کی آخری دو لائنوں میں کیا گیا ہے اگر یہ دو لائنیں محض زیب داستان نہیں بلکہ نیک نیتی اور خلوص سے شامل کی گئی ہیں تو یقینا یہ اتحاد با معنی کہلا سکتا ہے، حکومتی اتحاد کی کامیابی میں اگرچہ خلوص نیت کا بڑا دخل ہوتا ہے لیکن اس قسم کے اتحاد کی کامیابی کے لیے فریقین میں برداشت اور در گزر کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے، جذباتیت اور جلد بازی کے چکر کی وجہ سے ایسے اتحاد کو بہت نقصان پہنچتا ہے، ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے ماضی کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی، اتحاد کے ٹوٹنے میں مخالفانہ بیان بازی اور الزام تراشی کا بھی بہت بڑا کردار ہوتا ہے اس رویے کی وجہ سے اتحاد کو ہی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ عوام میں بھی مایوسی پیدا ہوتا ہے جس کا نقصان اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو ہوتا ہے اس روایت کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کے میکنزم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ مقبول جماعت رہی ہے اس کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کے اقتصادی اور سیاسی نعرے تھے، روٹی کپڑا اور مکان عوام کی اقتصادی ضرورت تھے اور مزدور کسان راج کو عوام اپنے سیاسی بالا دستی کی ضمانت سمجھتے تھے اس وجہ سے پیپلز پارٹی کو عوام میں زبردست پذیرائی ملی لیکن پیپلز پارٹی کی بد قسمتی یہ تھی کہ بہت جلد بھٹو صاحب وڈیرہ شاہی کے یرغمال بن گئے اور پیپلز پارٹی عوام سے دور ہوتی چلی گئی بلاول بھٹو کو ایک موقع حاصل ہے کہ وہ روٹی، کپڑا اور مکان مزدور کسان راج کے نعروں کو بامعنی بنا کر ایک بار پھر پیپلز پارٹی کو زندہ کرنے کی کوشش کرے اس کے لیے محاذ آرائی کی سیاست کو ترک کر کے اپنی ساری توجہ عوامی مسائل کے حل پر دینی پڑے گی اور ''اسٹیٹس کو'' توڑنا پڑے گا کیا یہ چیلنج بلاول بھٹو قبول کر سکتے ہیں؟

ایم کیو ایم چاروں صوبوں میں اپنی جگہ بنا کر قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے اگر وہ اس حوالے سے واقعی مخلص ہے تو اسے اپنی ماضی کی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر اپنے ہر وزیر، ہر مشیر کو مصطفیٰ کمال بنانا ہو گا اور وزارتوں کے حصول سے زیادہ وزارتوں کی کارکردگی کو مثالی بنانا ہو گا اور یہ سیاست اسے عوام سے قریب کر دے گی، یہی اتحاد کو کامیاب بنانے اور اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا واحد طریقہ ہے کیوں کہ عوام اب نعروں سے نہیں کارکردگی سے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو پرکھنے کی طرف مائل ہیں۔

مقبول خبریں