کینوکا برآمدی ہدف حاصل کرلیا گیا 18 کروڑ ڈالر کی آمدن

یکم دسمبر سے اب تک پاکستان سے 18کروڑ ڈالر مالیت سے زائد کا 3 لاکھ 5 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا


Business Reporter March 29, 2014
روس کو 11 ہزار ٹن کم، انڈونیشیا کو15فیصد زائد فروخت کیا گیا، ایکسپورٹرز۔ فوٹو: فائل

HYDERABAD: پاکستان نے 3 لاکھ ٹن کینو کی ایکسپورٹ کا ہدف سیزن کے خاتمے سے قبل ہی حاصل کرلیا۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان اور سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق یکم دسمبر سے اب تک پاکستان سے 18کروڑ ڈالر مالیت سے زائد کا 3لاکھ 5 ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا، رواں سال کینو کی مجموعی پیداوار 21لاکھ ٹن رہی تاہم کینو کے باغات پر بیماری کے حملے، سخت موسم اور ژالہ باری سے 50 فیصد فصل کو شدید نقصان پہنچا، رواں سیزن میں ایرانی مارکیٹ مکمل طور پر بند رہی جس سے ایکسپورٹ میں 80ہزار ٹن کمی کا سامنا کرنا پڑا، انڈونیشیا سے ترجیحی تجارتی معاہدے کے سبب ایکسپورٹ 15 فیصد اضافے سے 40ہزار 500ٹن رہی، روسی قرنطینہ حکام کی جانب سے پاکستان کے لیے زرعی مصنوعات پر پابندی کے سبب روس کو کینو کی ایکسپورٹ 15روز تاخیر سے ہوئی جس سے روس کو کینو کی ایکسپورٹ گزشتہ سال سے 11ہزار ٹن تک کم رہی اور مجموعی طور پر 62ہزار ٹن کینو روس ایکسپورٹ کیا گیا، رواں سیزن میں جن دیگر ملکوں کو کینو برآمد کیا گیا ان میں برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈ، فلپائن، ہانگ کانگ، بنگلہ دیش، سری لنکا، سنگاپور ملائیشیا ، مڈل ایسٹ افغانستان اور سینٹرل ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔

وحید احمد نے بتایا کہ پاکستان سے کینو کی ایکسپورٹ دسمبر سے اپریل تک جاری رہتی ہے، اس لیے اپریل کے آخر تک مزید 15سے 20ہزار ٹن کینو برآمد کیے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کینو کی برآمد کی موجودہ سطح کو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے بغیر بڑھانا ممکن نہیں، کینو کے ساتھ ترش پھلوں کی دیگر ورائٹیز اور سیزن کو بڑھاتے ہوئے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ترش پھلوں کی ایکسپورٹ 1ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے، پاکستان کے حریف ملکوں نے قبل ازوقت اور بعدازوقت ورائٹیز کے ذریعے سیزن کو بڑھا لیا ہے، پاکستان میں بھی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے ورائٹیز میں اضافہ کرکے سیزن دسمبر تا اپریل کے مقابلے میں اکتوبر سے مئی تک بڑھایا جا سکتا ہے۔