خوشونت رہے نہ وہ دنیا رہی

ان کی خواہش تھی کہ وہ زندگی کی سینچری مکمل کریں لیکن موت نے انھیں 99 پر کیچ آئوٹ کر لیا۔


Zahida Hina March 29, 2014
[email protected]

کوچ کا نقارہ بجا اور خوشونت سنگھ بھی چلے گئے۔ بقول انشاء اللہ خان انشاؔ:

''بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔''

ان کی خواہش تھی کہ وہ زندگی کی سینچری مکمل کریں لیکن موت نے انھیں 99 پر کیچ آئوٹ کر لیا۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ سو برس کے نہ ہو سکے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ انھوں نے زندگی کی ابتدا جن اقدار اور روایات کے ساتھ کی تھی، ان پر وہ آخری سانس تک قائم رہے۔ پنجاب کا وہ بیٹا جس نے بٹوارے کے خنجر سے اپنے شہروں، اپنے قصبوں کو ذبح ہوتے دیکھا اور صرف 7 برس بعد ''ٹرین ٹو پاکستان'' لکھی۔ ایک ایسا ناول جس میں انھوں نے کسی مصلحت کے بغیر لکھا کہ حقیقت یہ تھی کہ سکھ اور مسلمان دونوں اس قتل عام کے ذمے دار تھے اور دونوں نے پنجاب کو خون میں نہلا دیا۔

آزادی کو وہ جس نظر سے دیکھتے تھے اس کے بارے میں ان کے ناول کا ایک عام کردار کیسا کڑوا سچ بولتا ہے کہ ''آزادی تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اس کے لیے لڑائی لڑی۔ ہم انگریزوں کے غلام تھے۔ اب ہم پڑھے لکھے ہندوستانیوں کے غلام ہوں گے اور پڑھے لکھے پاکستانیوں کے۔'' ایک خوشحال گھر کے پُرجوش نوجوان کے طور پر انھوں نے وکالت پڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے لاہور میں کچھ وقت عدالت کے کمروں میں اہم مقدموں کی بحث سننے میں گزارا، بار روم میں وکیلوں سے گپ شپ کرتے رہے، لاہور کے لارنس گارڈن کے سامنے والد کے خریدے ہوئے ایک شاندار مکان میں عیش و آرام کی زندگی گزارتے رہے اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ قانون کے پیشے کے لیے نہیں بنے ہیں۔

اس بارے میں اپنے آپ سے مکالمہ کرتے ہوئے ایک جگہ انھوں نے لکھا ہے کہ ''میں اپنے آپ سے ہمیشہ یہ سوال کرتا رہا کہ کیا وکالت کے پیشے میں کوئی بات تخلیقی ہے؟ اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر میں قانون کے پیشے سے کچھ دن اور وابستہ رہتا تو بنچ (ہائی کورٹ) یا شاید سپریم کورٹ (سب سے اونچی عدالت) تک پہنچ جاتا۔ مجھ سے کم پریکٹس والے مسخرے جن کی قانونی سوجھ بوجھ بھی کم تھی بنچ تک پہنچ گئے اور دو ایک جج تو سپریم کورٹ تک چلے گئے۔ قانون کے پیشے کو چھوڑنے پر میں نے کبھی افسوس نہیں کیا۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میں نے قانون پڑھنے میں پانچ برس ضایع کیے اور مزید سات سال اس سے پیسہ کمانے کی کوشش میں۔''

اس فیصلے کے بعد خوشونت پڑھنے اور لکھنے کی سرسبز وادی میں نکل گئے۔ یہ ان کی زندگی کا شاندار اور بے مثال فیصلہ تھا۔ انھوں نے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ صحافت کے دشت کی سیاحی میں گزارا۔ یوجنا، السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا، نیشنل ہیرالڈ اور ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر رہے۔ ادب کے میدان میں انھوں نے 50 کی دہائی میں ہی قدم رکھ دیا تھا۔ ان کا پہلا ناول ''ٹرین ٹو پاکستان'' کامیاب اور مشہور ہوا اور متنازعہ بھی رہا۔ اس کے بارے میں جون ایف ایڈکنز کی رائے ہے کہ اسے ہندوستانی، انگریزی ادب میں زیادہ اہم مقام ملنا چاہیے تھا۔

خوشونت سنگھ کو اپنی جنم بھومی سے والہانہ وابستگی تھی، اس کے باوجود وہ لاہور اور پنجاب کو چھوڑنے پر مجبور کر دیئے گئے۔ ان کے دل پر لگا ہوا یہ زخم کبھی مندمل نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ لاہور کو یاد کرتے رہے۔ لاہور کی یادوں میں ان کے لیے سب سے تابناک منظور قادر کی یاد ہے جو رسالہ ''مخزن'' کے مدیر سر عبدالقادر کے بیٹے تھے۔ یہ وہی سر عبدالقادر ہیں جنہوں نے ابتدائی دور میں اقبالؔ کی نظمیں نہ صرف شائع کیں بلکہ جب اقبالؔ کو چپ لگ گئی تھی اور انھوں نے شاعری سے کنارہ کر لیا تھا تو یہ بھی سر عبدالقادر تھے جو ان کو بہ اصرار دوبارہ شعر گوئی کی طرف واپس لائے اور یوں اردو ادب بیسویں صدی کے ایک بڑے شاعر سے مالا مال ہوا۔ منظور قادر جو بعد میں پاکستانی سیاست کا ایک بڑا نام ہوئے، ان سے خوشونت سنگھ کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی اور اسے بٹوارے کا خنجر بھی ادھیڑ نہیں سکا۔ اس دوستی کے بارے میں خوشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ ''ہماری قریبی دوستی کی شہر میں مثالیں دی جانے لگیں۔ ایسی دوستیاں ایک سکھ اور مسلمان یا ہندو اور مسلمان میں بہت کم یاب تھیں۔''

اس دوستی کا اندازہ قرۃ العین کی ایک تحریر سے بھی ہوتا ہے۔ قرۃ العین حیدر جب پاکستان سے ہندوستان واپس چلی گئیں اور وہاں انھوں نے بمبئی کو اپنا ٹھکانہ بنایا تو روزگار کے لیے انگریزی صحافت کا رخ کیا۔ انھوں نے ایک عرصے تک خوشونت سنگھ کی زیر ادارت نکلنے والے ہفت روزہ السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا میں کام کیا جو ہندوستان کا نہایت اہم اور موقر ہفت روزہ تھا۔ ان کے بارے میں قرۃ العین نے لکھا ہے کہ وہ خود بہت دلچسپ اور باغ و بہار آدمی تھے۔ وہ کام لینا بھی جانتے تھے۔ اب انواع و اقسام کی خواتین نے دفتر میں آنا شروع کیا۔ فلم اسٹار، ماڈل لڑکیاں، جرنلزم اور ادب کی شائق خواتین کی بھیڑ لگ گئی۔ خوشونت سنگھ بنیادی طور پر ایک نہایت قدامت پسند اور شریف انسان تھے لیکن عموماً پنجابیوں کی طرح تھوڑے سے بے تکلف اور تھوڑے سے ہُو حق کے شوقین، مسلمانوں کے ہمدرد اور حامی تھے۔ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ویکلی میں مضامین شائع کرنے شروع کیے۔

عید نمبر نکالا۔ ویکلی میں جہاں کبھی بھولے سے بھی مسلم کلچر کے بارے میں نہیں چھپتا تھا، اب اس میں اس قسم کے مضامین اور تصویروں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ میں فکشن ایڈیٹر تھی۔ ڈھیروں کہانیاں سارے ہندوستان سے موصول ہوتیں جن میں سے چند ایک ہی قابل اشاعت ہوتی تھیں۔ ایک کہانی جھانسی سے موصول ہوئی۔ اس وقت میں ایڈیٹر کے کمرے میں تھی۔ چپراسی نے کہانی لا کر مجھے دی۔ میں نے اسے پڑھا۔ اچھی خاصی تھی لیکن اتنی بھی اچھی نہیں کہ اسے شائع کیا جائے۔ میں نے کہا! ''دیکھیے مسٹر سنگھ یہ ایک اور افسانہ آیا ہے، لکھنے والی کا نام عطیہ ہے۔'' بغیر دیکھے ہی فرمایا ''چھاپ دو۔ لکھنے والی لڑکی ہے اور مسلمان ہے۔'' لیکن میں نے بہرحال وہ کہانی منتخب نہیں کی۔ مگر خوشونت سنگھ کے اس رویے سے ان کی خوش دلی اور نیک نیتی ظاہر ہوتی تھی۔ وہ اپنے عزیز ترین دوست منظور قادر کا اکثر ذکر کرتے تھے جو لاہور میں تھے۔ ایک دن صبح گیارہ بجے ہم لوگ اپنا اپنا کام شروع ہی کرنے والے تھے کہ خوشونت سنگھ ہماری میزوں کی طرف آئے۔ ان کے ساتھ ایک خاتون تھیں۔ بہت ہی جذباتی انداز میں بولے ''یہ میرے پیارے دوست منظور قادر کی بیگم ہیں۔

پاکستان سے آئی ہیں۔ میں اس خوشی میں دفتر بند کر رہا ہوں۔ تم لوگ گھر جائو۔'' ہم سب نے ااسکول کے بچوں کی طرح جنھیں غیر متوقع طور پر چھٹی مل جائے خوش خوش اپنی اپنی راہ لی۔'' خوشونت سنگھ نے ایک خاص نمبر پاکستان کے متعلق بھی نکالا تھا۔ یہ نمبر انھوں نے قرۃ العین حیدر سے مرتب کروایا تھا۔ انھوں نے بیگم منظور قادر کے آنے کی خوشی میں دفتر بند کردیا تھا۔ یہ وہی منظور قادر تھے جن کے سپرد اپنے گھر کی چابیاں کر کے خوشونت اس یقین سے دلی چلے گئے تھے کہ کوئی دن جاتا ہے جب وہ واپس آ جائیں گے اور اپنے جگری یار منظور قادر کے ساتھ لاہور جم خانہ میں دھومیں مچائیں گے۔ لیکن وہ دن پھر کبھی نہ آیا۔ مسلمانوں کی تہذیب اور مذہب سے ان کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن دنوں وہ لاہور میں تھے اور ایک کامیاب وکیل بننے کی ناکام کوشش کر رہے تھے تو انھوں نے ایک مولوی رکھ کر اس سے قرآن پڑھا تھا۔

مجھے سنہ 2000ء کے بعد کے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان شدید کشیدگی تھی۔ دونوں طرف کی عورتیں امن کی خاطر اپنی سی کوششیں کر رہی تھیں۔ ان ہی عورتوں کو خوشونت سنگھ نے اپنے گھر چائے پر بلایا تھا میں بھی ان میں شامل تھی۔ سیدہ سیدین، اجیت کور، نرملا دیش پانڈے اور ان کے علاوہ دلی کی کئی نامی گرامی خواتین ان کی مہمان ہوئی تھیں۔ میں نے دلچسپی سے ان کے گھر کے لائونج میں پڑے ہوئے پردوں کو دیکھا تھا جن پر ''السلام علیکم!'' چھپا ہوا تھا... دیواروں پر طغرے بھی تھے اور مصوری کے نمونے بھی۔ وہاں جیسی کھری اور بے لاگ گفتگو ہو رہی تھی اس کو ہم پاکستان میں ترستے تھے۔ (جاری ہے)

مقبول خبریں