گولی کی زبان
ایوب خان کے زمانے میں پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف ہوا۔ اس کا پہلا اسٹیشن لاہور میں تھا۔
ایوب خان کے زمانے میں پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف ہوا۔ اس کا پہلا اسٹیشن لاہور میں تھا۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت کی ایک انیکسی میں یہ عجوبہ شروع ہوا۔ ہمارا اس نئے اور غیر مانوس ادارے سے تعلق اس کی خبروں کے شعبے کے انچارج مصلح الدین کے ذریعے ہوا۔ ٹی وی شروع میں خبروں کے ایک بلٹن، موسیقی اور ڈراموں کا مرکز رہا۔ موسیقی اور ڈرامے میں اس نئے ادارے نے کمالات دکھائے جو بعد میں ہمارے دیکھتے دیکھتے کہیں گم ہو گئیاسٹوڈیو کئی چینلز آ گئے ایک ہڑبونگ مچ گئی اور گپ شپ کے شوقین لوگوں کو ایک نہیں کئی ڈیرے مل گئے۔ ان لاتعداد چینلوں کا ایک مقبول پروگرام سرشام ہونے والے وہ مباحثے ہیں جن میں کسی نہ کسی موضوع پر ماہرین حصہ لیتے ہیں اور سامعین اور ناظرین کو خوش کرتے ہیں یا ناراض' بیچ کا کوئی راستہ نہیں' ان مباحثوں کو چلانے والے میزبان کو اینکر پرسن کہا جاتا ہے۔ ہمارے اخبار نے ہمارے دفتر میں ہی ایک اسٹوڈیو بنا لیا تھا مرحوم عباس اطہر اینکر پرسن بن گئے اور میرے جیسے ماہرین۔ لیکن اس کام کو پھیلنا تھا چنانچہ ایک نئی دنیا بس گئی۔
کئی اخباروں نے بھی اپنے الیکٹرانک چینلز بنا لیے اور جب ان چینلوں پر عام موضوعات پر گفتگو شروع ہوئی تو ان کے سامعین اور ناظرین میں ہر قسم کے لوگ تھے خوش ہونے والے اور ناراض ہونے والے بھی۔ اب ملک میں جو اشتعال پوری زندگی میں پھیل چکا ہے اس کا اظہار اب بندوق کی گولی سے ہونا شروع ہو گیا ہے اور منہ کی جگہ بندوق کی نالی نے لے لی ہے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ ہمارے ادارے ایکسپریس کا کیا قصور ہے کہ اب کوئی چوتھی بار اس کے ساتھ بندوق کی نالی سے بات کی جا رہی ہے۔ ہمارا ادارہ نہ کسی مذہبی فرقے کا ادارہ ہے نہ کسی سیاسی جماعت کا۔ اس میں ہر خیال کے لوگ کام کرتے ہیں اور حیران کن حد تک ہر ایک کی بات برداشت اور شائع کی جاتی ہے۔ میں نے بڑے بڑے نامور اخباری اداروں میں کام کیا ہے لیکن لکھنے کی جو آزادی ایکسپریس میں ہے وہ کہیں اور نہیں ملی۔
مجھے ٹی وی کے شعبے کا کوئی خاص تجربہ نہیں لیکن جو لوگ وہاں کام کرتے ہیں وہ بھی ہماری طرح آزاد ہوں گے لیکن مطبوعہ لفظ اور بولے جانے والے لفظ میں شائد کوئی بڑا فرق ہوتا ہے کہ ہمارے بعض نادیدہ کرم فرماؤں کی بندوق کی نالی کا رخ ہماری طرف رہتا ہے جب کہ ہم کوئی انقلاب برپا نہیں کر رہے ۔ بس حالات کو بیان کرر رہے ہیں مگر لگتا ہے ہمارا یہ بیان بھی گوارا نہیں ہے۔ کراچی میں تین ساتھی شہید کر دیئے گئے اور اب لاہور میں ایک لیکن اینکر پرسن بچ گیا جو زخمی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھا لیکن سامنے بیٹھے ہوئے ساتھیوں میں سے ایک شہادت پا گیا۔ یہ اینکر پرسن میرے عزیز اور پرانے دوست کا بیٹا تھا، مسٹر جسٹس شیخ ریاض اور ہماری محترم بہن بلقیس ریاض کا۔ یہ ان کا اکلوتا بیٹا ہے جو دفتر سے فارغ ہو کر گھر جاتا ہوا حملہ آوروں کے سامنے آ گیا۔ میرا اندازہ ہے کہ کچھ لوگ اس کی تاک میں تھے۔
قید وبند تو ہمارے پیشے کے گستاخ لوگوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمارے کتنے ہی بزرگ اور معاصرین بھی اپنی تحریروں کی وجہ سے قید رہے اور رہائی کے بعد بات پھر وہیں سے شروع کر دی جہاں سے چھوڑ کر جیل چلے گئے تھے کیونکہ معاملہ ان کے نظریات اور عقائد کا تھا جو زندگی کے ساتھ تھے۔ یہ زندگی جہاں بھی گئی وہاں یہ سامان بھی ساتھ جاتا رہا۔ قید و بند نے ان کے نظریات میں مزید پختگی پیدا کر دی۔ یہ ہماری صحافت کا اعزاز رہا اور کوئی نہ کوئی اس اعزاز کا حقدار پیدا ہوتا رہا لیکن اب تو دنیا ہی بدل گئی ہے، اب کوئی دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتا بس چلتا ہے تو یہ جواب گولی سے ملتا ہے اور گولی کی دنیا میں بحث مباحثہ نہیں ہو سکتا۔
عمر گزر گئی صحافت میں اور جو باقی ہے وہ بھی اسی میدان کی سیاحی میں گزرے گی لیکن قلم کی دنیا میں یہ وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ کبھی قلم کا جواب قلم نہیں گولی دے گی اور دلیل کے جواب میں دلیل تلاش نہیں کرنی پڑے گی۔ کسی بندوق کو تلاش کرنا ہو گا۔ میں اپنی ذات کی بات نہیں کرتا کہ بندوق میرے لیے کبھی اجنبی نہیں رہی۔ بہت ہی بچپن میں ریوالور سے کھیلتے ہوئے گولی کی نشانی میرے ہاتھ کی انگلی میں موجود ہے لیکن قلم کی دنیا میں آ کر سب کچھ چھوٹ گیا اور قلمی نوک جھونک نے اس کی جگہ لے لی لیکن اب کوئی گولی کا جواب کیا دے۔ ہم گولیوں والے ایک گروہ سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ ان کی طرف سے امن کی معیاد اس ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے اس کے بعد تو جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا لیکن ہمارے ادارے کو تو اس سے پہلے بھی بہت کچھ دیکھنا پڑ گیا ہے ہمارا ہر ساتھی ہمارے لیے عزیز اور بیش قیمت ہے لیکن اینکر پرسن رضا رومی کی سلامتی پر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔
اس کے ساتھ نہ صرف ایک ہی ادارے سے متعلق ہونے کا رشتہ ہے بلکہ جیسا کہ عرض کیا ہے یہ میرا بھتیجا بھی ہے اور بھانجھا بھی اور اکلوتا بیٹا بھی۔ خدا اسے سلامت رکھے یہ پیشہ تو امن کا اور شرافت کا پیشہ تھا لیکن حالات کچھ اس قدر بگڑ گئے کہ کوئی کہیں بھی محفوظ نہیں ہے نہ گھر کے اندر نہ دفتر کے اندر اور نہ گاڑی کے اندر کوئی جائے تو کہاں جائے۔ زندگی و موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لیکن اس کی حفاظت کا حکم بھی ہے مگر کوئی حفاظت بھی کرے تو کہاں تک جان و مال کی حفاظت کسی ریاست کا پہلا فرض ہے لیکن جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق تو حفاظت ان لوگوں کی جا رہی ہے جو نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہرکیف ا للہ کا شکر ہے کہ ہمارا عزیز بچ گیا اور اس پر بھی بہت شکر ہے کہ ہمارا ادارہ اپنے فرائض کی ادائیگی پر قائم ہے۔ اللہ مدد کرے گا۔