رضا رومی پر حملہ
لاہور میں کراچی جیسی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ اس خرابی کا سلسلہ حکومت کی پالیسی سے منسلک ہوتا ہے ۔۔۔
ممتاز صحافی رضا رومی پر حملہ دراصل ایکسپریس میڈیا گروپ کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو آزادی صحافت کی پاسداری پر سزا دینا ہے۔ رضا رومی اپنے طرزِ گفتگو، مدلل خیالات اور غیر جانبداری پر مشتمل رویے کی بناء پر عام لوگوں میں خاصے مقبول ہیں۔ وہ ہمیشہ مسائل کا پس منظر بیان کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کے تناظر میں مستقبل میں ہونیوالے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ رضا رومی کیونکہ غیر جانبدارانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خیالات کو سن کر عام آدمی ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے شایہ یہی بات ان کو راستے سے ہٹانے کی وجہ بنی۔ رضا کے خیالات بغیر کسی رکاوٹ کے ایکسپریس نیوز سے نشر ہوتے ہیں اس لیے ایک دفعہ پھر ایکسپریس کے ملازمین کی جان لینے کی کوشش کی گئی اور اس کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
یوں اس بزدلانہ کارروائی میں ایک فرد کی قیمتی جان چلی گئی۔ صحافیوں پر حملہ کوئی نئی بات نہیں یہ سلسلہ گزشتہ صدی سے شروع ہوا اور نائن الیون کے دہشتگردی کے واقعے کے بعد اس میں شدت آگئی ہے۔اگر 1947 سے 1988 تک کی صحافت کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایوب خان کے دورِ حکمرانی میں لاہور میں ملک غلام جیلانی کی قیام گاہ پر فائرنگ میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے ایک صحافی ضمیر قریشی شہید ہوئے۔ 1971 کی بنگلہ دیش کی خانہ جنگی میں کسی صحافی کی ہلاکت کی اطلاع تاریخ میں درج نہیں ہے۔ 80ء کی دھائی میں افغانستان میں جب امریکی سی آئی اے کے پروجیکٹ میں جنرل ضیاء الحق کی زیرِ نگرانی پاکستانی فوج نے شمولیت اختیار کی تو پھر کلاشنکوف اور ہیروئن کی بھرمار ہوگئی۔ اب ریاست کمزور ہونا شروع ہوئی اور غیر ریاستی کردار ابھر کر سامنے آنے لگے۔ اس صورتحال کے منطقی نتائج 1986 سے برآمد ہونا شروع ہوئے۔ ان غیر ریاستی کرداروں نے پہلے اخبارات کے دفاتر پر حملے کیے، صحافیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ 1989سے 1991 تک اندرونِ سندھ فرائض انجام دینے والے 3 صحافی شہید ہوئے۔
دہشت گردی کے خلاف شدت آنے کے بعد صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ پاکستان آج صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ عمومی طور پر صحافیوں پر حملوں کے ملزمان کا پتہ نہیں چلتا، صرف دو صحافیوں جن میں ایک امریکی صحافی ڈینیل پرل اور ولی خان بابر کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار ہوئے اور انھیں عدالتوں سے سزائیں ہوئیں۔ صحافیوں کے مطالبے پر قبائلی علاقے کے صحافی ہدایت اﷲ اورسلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم ہوئے۔ ہدایت اﷲ کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آئی جب کہ سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک جج کی قیادت میں اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا گیا۔ اس کمیشن میں صحافیوں کے نمایندے بھی شامل تھے۔ اس کمیشن نے صحافیوں، ایڈیٹروں، پولیس افسران اور آئی ایس آئی کے نمایندوں کے بیانات ریکارڈ کیے مگر کمیشن قاتلوں کی نشاندہی میں ناکام رہا۔
اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں خفیہ ایجنسیوں کے احتساب کے لیے ایک طریقہ کار تجویز کیا مگر نہ تو پارلیمنٹ نے اس طریقہ کار پر بحث کی نہ ہی الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں اس پر بحث و مباحثہ ہوا۔ یوں یہ معاملہ داخلِ دفتر ہوا۔ سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور شہریوں پر حملوں کی تحقیقات کی ذمے داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ پولیس جو تحقیقات کرتی ہے اس کی رپورٹیں کمیشنوں اور عدالتوں میں پیش ہوتی ہیں اور متعلقہ اداے ان رپورٹوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ اگر پولیس تحقیقات میں معروضیت کو اہمیت نہیں دے گی اور اپنی رپورٹ میں ملزمان کی نشاندہی نہیں کرے گی تو پھر عدالتوں اور کمیشنوں کے لیے کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔ گزشتہ دنوں انتہاپسند تنظیم کے حوالے سے صحافیوں کی ایک ہٹ لسٹ کا ذکر ہوا تھا۔ رضا رومی کا نام بھی اسی ہٹ لسٹ میں شامل تھا۔ پولیس حکام اس لسٹ سے واقف تھے۔ انھوں نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی۔ ان عناصر کے سدِ باب کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے جو رضا رومی کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ پھر اس سے پہلے ممتاز مصنف اور استاد پروفیسر اصغر ندیم سید بھی اسی طرح کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان کی بھی رضا رومی کی طرح کسی سے دشمنی نہیں تھی مگر پولیس ان پر حملہ آوروں کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چلاسکی۔
بتایا جاتا ہے کہ ان حملوں کا تعلق انتہاپسند گروہوں سے ہے۔ یہ گروہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں متحرک ہیں۔ بعض مسلم لیگی رہنماؤں نے اپنے اپنے حلقوں میں انتخابات میں کامیابی کے لیے ان گروہوں سے مدد لی تھی۔ جب ان گروہوں سے مفاہمت کے الزامات ذرایع ابلاغ کی زینت بنے تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے تو ایسے معاملات کی تردید کی تھی مگر وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اﷲ کا کہنا تھا کہ ووٹر کوئی بھی ہو امیدواروں کو ان سے ووٹ مانگنے اور مدد لینے کا حق ہے۔ یوں انتہاپسندوں کی حوصلہ افزائی کا عمل شروع ہوا تھا۔ محسوس ہوتا ہے کہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حملے کے بعد پنجاب کے آئی جی نے بے حسی کا رویہ اختیار کیا۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے یہ ریمارکس دیے کہ ایسے واقعات یورپ اور امریکا میں بھی ہوتے ہیں اور اس اس طرح انھوں نے اس واقعے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔
شایع شدہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ رضا رومی پر حملے سے پہلے ان کی ریکی کی گئی اور حملہ آوروں نے منظم انداز میں کارروائی کی اور مختصر ترین مدت میں اپنا ہدف مکمل کرکے کمین گاہ میں روپوش ہوگئے۔ اگر پولیس حکام رضا رومی کو دی گئی دھمکیوں پر سنجیدگی سے تحقیقات کرتے تو ریکی کرنے والے ملزمان پولیس کی نظروں میں آجاتے۔ یوں نہ صرف یہ حملہ ناکام ہوجاتا بلکہ مستقبل میں صحافیوں پر حملوں کے امکانات بھی کم ہوجاتے۔ پنجاب میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال سندھ اور دوسرے صوبوں سے بہتری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کراچی میں ممنوعہ علاقے (No Go Areas) موجود ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان ممنوعہ علاقوں کا دائرہ کار بڑھ رہا ہے۔ پولیس اور رینجرز بے بس ہوگئے ہیں۔ پھر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ کراچی میں پولیس اور انتظامیہ سیاسی جماعتوں کے نرغے میں ہیں۔ یوں قانون کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔ مگر لاہور میں صحافیوں اور ادیبوں پر حملوں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ لاہور میں کراچی جیسی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ اس خرابی کا سلسلہ حکومت کی پالیسی سے منسلک ہوتا ہے۔ اب لاہور میں رضا رومی پر منصوبہ بندی سے حملے، ان کے ڈرائیور کی شہادت اور گارڈ کے زخم ہونے سے واضح ہوگیا ہے کہ بعض عناصر ایکسپریس میڈیا گروپ کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ غیر ریاستی عناصر ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ایکسپریس گروپ کو نشانہ بنارہے ہیں۔ حکومت اگر ان غیر ریاستی ایکٹرز کو گرفتار نہیں کرتی اور ان کے عزائم کو واضح نہیں کیا جاتاتو ان واقعات میں ریاست کرداروں کے ملوث ہونے پر یقین آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اگر ریاست کی رٹ ختم ہوگئی تو اس کا نقصان صرف میڈیا ہاؤسز کو اور صحافیوں کو ہی نہیں ہوگا بلکہ باقی تمام ادارے بھی متاثر ہونگے۔