طالبان سے مذاکرات میں خدشات موجود ہیں پروفیسر ابراہیم

طالبان میڈیا کو نشانہ نہ بنائیں، امتیاز عالم، حکومت مشرف کو جانے دے، اچھا تاثر پیدا ہوگا، ایاز خان


Monitoring Desk April 02, 2014
طالبان سے ہونے والی آخری ملاقات کی ساری بریفنگ وزیراعظم کو دیدی تھی۔رکن طالبان مذاکراتی کمیٹی۔ فوٹو: فائل

SAHIWAL: طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ ان کا طالبان سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے طالبان سے ہونے والی آخری ملاقات کی ساری بریفنگ وزیراعظم کو دیدی تھی۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''اچھا لگے برا لگے'' میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری گفتگوکا ایجنڈا امن کا فروغ ہے۔ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کی پالیسی طے ہو رہی ہے خطرات اور خدشات موجود ہیں لیکن دونوں اطراف سے سنجیدگی نظر آرہی ہے۔ سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا کہ میں طالبان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میڈیا کو نشانہ نہ بنائیں اور اپنا رویہ درست رکھیں کیونکہ میڈیا آپ کو جگہ بھی دیتا ہے اور آپ کا موقف بھی آگے پہنچاتا ہے پورا میڈیا ہی مذاکرات کا حامی ہے لہٰذا میڈیا کو فریق نہ بنایا جائے۔ حکومت اور طالبان کو میڈیا کی آزادی کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ میڈیا نے مذاکرات کیلئے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ پرویزمشرف کے ٹرائل سے ڈکٹیٹرشپ کا راستہ رک سکتا ہے، مشرف نے اپنی ڈیل کا حصہ پورا کردیا ہے ان سے کہا گیا تھا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں فرد جرم عائد ہونے دیں پھر آپ کے باہر جانے کا معاملہ طے کیا جائیگا اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے اور حکومت مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے۔ حکومت کے پاس اچھا موقع ہے وہ یہ تاثر دے سکتی ہے کہ وزیراعظم بہت خداترس اور دریا دل ہیں۔ پرویزمشرف کے ٹرائل اور ای سی ایل میں سے ان کا نام نہ نکالنے پر فوج میں کافی اضطراب ہے۔ مشرف کا جانا طے ہے لیکن ان کے جانے کا بوجھ کون اٹھائے گا یہ طے پانا باقی ہے۔ طالبان اور حکومت کو صبر وتحمل اوربڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہئے طالبان کے پاس غیرعسکری قیدی ہیں اگر وہ ان کو چھوڑ دیں تو بہت اچھا ہوگا۔

پاکستان کرکٹ میچ ہار گیا ہے کھیل کو کھیل کی طرح ہی دیکھنا چاہئے، ویسٹ انڈیز کو اخبارات میں کالی آندھی کیوں لکھا جاتا ہے اس سے نسلی تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔ روزنامہ ''ایکسپریس'' کے سینئر ایڈیٹر ایاز خان نے کہا کہ اگر حکومت پرویزمشرف کو جانے دے تو انسانی ہمدردی کی بناء پر اچھا تاثر پیدا ہوگا۔ اگر ان کو اس وقت نہ بھیجا گیا تو پھر آئندہ اور بھی مشکل ہو گی۔ ہمارے ہاں جمہوریت بھی ڈکٹیٹرشپ جیسی ہوتی ہے نوازشریف کو بڑا فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔ طالبان کی طرف سے اگر سیزفائر ہے تو اس کا اعلان ہونا چاہئے ورنہ ایسی صورتحال میں کوئی اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریگا۔ طالبان فری زون اپنی فری موومنٹ کے لئے مانگ رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کو ایسی جگہ ملے جہاں پر ان کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہ ہو۔

اگر ایکسپریس نیو زکے اینکر پرسن رضا رومی پر حملہ طالبان کی طرف سے نہیں کیا گیا تو ان کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ میڈیا کا کام تو اطلاعات کو پہنچانا ہے۔ خواتین کے حقوق کیلئے اور کم عمری کی شادی کیخلاف سندھ اسمبلی میں ایک بل پاس ہوا ہے لیکن جب یہ حکومت میں تھے اس وقت کچھ نہیں کیا اور اب انہوں نے بل پیش کر دیا اگر انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کچھ کرنا ہے تووفاق کی سطح پر آکر کریں۔ تھر کے قحط میں سینکٹروں بچے مارے گئے یہ انسانی حقوق کے لئے کچھ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کا پرابلم یہ ہے کہ وہ بھارت کی بہت مانتی ہیں بنگلہ دیش میں دوسری ٹیموں کا پرچم بلند کرنے پر پابندی کا فیصلہ غلط تھا۔ تجزیہ کار ماریہ ذوالفقار خان نے کہا کہ عورتوں پر ہونے والے ظلم وزیادتی پر اسلامی نظریاتی کونسل کوئی بات نہیں کرتی۔