مغلپورہ زیادتی کیس 7 ماہ بعد بھی ملزمان کا پتہ نہ چلا

شواہد ہونے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، کیس فائلوں کا حصہ بن گیا


Numainda Express April 02, 2014
انویسٹی گیشن پولیس ہائی پروفائل کیسز کے حل میں ایک دفعہ پھر ناکام ہوگئی۔ فوٹو: فائل

انویسٹی گیشن پولیس ہائی پروفائل کیسز کے حل میں ایک دفعہ پھر ناکام ہوگئی،7ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود مغلپورہ زیادتی کیس کے ملزمان ٹریس نہ ہوسکے۔

تمام شواہد ہونے کے باوجود مقدمہ کے اندراج کے بعد کسی بھی قسم کی پیش رفت نہ ہوسکی،کئی ماہ گزرنے کے بعد کیس اب فائلوں کا حصہ بن چکا ہے،تفصیلات کے مطابق مغل پورہ کے علاقہ میں پانچ سالہ بچی کو تقریبا سات ماہ قبل ملزمان نے اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور بچی کو ہسپتال کے باہر چھوڑ کرفرار ہوگئے تھے،واقعہ پر چیف جسٹس ،وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا تھا،ہائی پروفائل کیس میں پولیس نے متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لیکر تحقیقات جاری رہنے کے نام پر پریشر کو ریلیز کیا تاہم اب تک کیس میں ملزمان تک ٹریس نہ ہوسکے ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج،ڈی این اے ٹیسٹ پولی گرافک ٹیسٹ کی مدد سے حراست میں لئے گئے افراد کی تفتیش کی گئی تاہم کوئی بھی کامیابی نہ مل سکی،چند روز قبل ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا تاہم اعلی حکام نے اس کی تصدیق نہ کی،کیس میں سی آئی اے،خفیہ اداروں اور پولیس سمیت دیگر ٹیموں نے تحقیقات کیں تاہم تمام تحقیقات جہاں سے شروع ہوئیں وہیںختم ہوگئیں،انویسٹی گیشن ٹیموں کا کہنا ہے کہ کیس کافی پیچیدہ ہے،تاہم تحقیقات جاری ہیں۔