ہمارے خوفزدہ حکمران
مشرف کے جرم یا جرائم کو پوراپاکستان تسلیم کرتاہے مگرحکومت میں اتنی سکت بھی باقی نہیں کہ وہ عدالت کی کھل کر حمایت کرے
ان دنوں ہم چند پریشان کن مسائل سے دوچار ہیں۔ ایک جنرل پرویز مشرف ہیں دوسرے طالبان ہیں کئی دیگر مسائل بھی ہیں لیکن فی الحال جنرل صاحب سے بات شروع کرتے ہیں جو نہ جاتے ہیں نہ رہتے ہیں۔ یہ جب سے اپنے خود ساختہ اقتدار سے الگ ہوئے ہیں تب سے قوم کے لیے ایک مستقل مسئلہ بن گئے ہیں۔ مسئلہ تو وہ تب سے ہی ہیں جب انھوں نے آئین کی خلاف ورزی کر کے حکومت پر قبضہ کیا تھا لیکن اب یہ مسئلہ بہت بڑھ چکا ہے۔ جنرل ایوب' جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کے بعد انھوں نے اپنی باری لی اور طویل اقتدار کے مزے لوٹے اور لوٹتے چلے جا رہے ہیں۔ حسب روایت ان کے ساتھ بھی جمہوری سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد موجود رہی اور تعجب ہے کہ ان میں سے کئی سیاستدان اب بھی جنرل مشرف کا دم بھرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہیں۔ جنرل صاحب کئی مہینوں سے عدالت میں مطلوب چلے آ رہے ہیں۔ وہ ملزم بھی ہیں اور الزام بھی غداری تک جاتا ہے لیکن وہ اپنی زندگی کے یہ دن راولپنڈی کے ایک شاندار اسپتال کے ایک پر تکلف کمرے میں گزار رہے ہیں بلکہ اسپتال کا پورا فلور ان کے قبضے میں ہے۔
تعجب ہی نہیں یہ المیہ ہے کہ ان کی سیکیورٹی پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور یہ بھاری اخراجات ہم رعایا کی جیب سے جاتے ہیں۔ بجلی وغیرہ کے بھاری بھر کم اور دہشت پھیلانے والے بل، بازار کی سو فیصد سے زیادہ گرانی، پوری ٹیکس زدہ عام زندگی جس پر ہمارے وزیر خزانہ ڈار صاحب کی حکمرانی ہے۔ یہ سب جن بڑے لوگوں کی سیکیورٹی پر خرچ ہو رہا ہے وہ ہمارے خرچ پر محفوظ ہی نہیں پر تعیش زندگی بھی بسر کر رہے ہیں، وہ اسپتال میں بھی ہوں تو کسی بھی صحت مند پاکستانی سے بہتر زندگی بسر کرتے ہیں۔ عدالت کے ساتھ جنرل صاحب کا جو رویہ رہا ہے اور عدالت نے انھیں جس قدر برداشت کیا ہے میں تو ایک عدالتی پیشی کی مار بھی نہیں ہوں کہ اس بارے میں کچھ عرض کر سکوں اس لیے صرف اتنا عرض کروں گا کہ کبھی کبھی تو یہ گمان بھی ہوتا تھا کہ جنرل صاحب یہ مطالبہ بھی کریں گے یا خواہش ہی کریں گے کہ عدالت ان کے کمرے میں لگا کرے۔ سپریم کورٹ ان کے اسپتال میں اٹھ آئے تاکہ انھیں کچھ بھی زحمت نہ کرنی پڑے۔
پرویز مشرف کے جرم یا جرائم کو پورا پاکستان تسلیم کرتا ہے مگر حکومت میں اتنی سکت بھی باقی نہیں ہے کہ وہ عدالت کی کھل کر حمائت کرے اور عدلیہ کو اتنی طاقت دے کہ وہ قانون پر عمل کر سکے اور وہ کسی فرد سے نہیں صرف قانون سے ڈرے، ہر پاکستانی میں یہ طاقت ہو کہ قانون اور حکومت اس کے ساتھ ہے اور وہ اپنے حق کے لیے کسی سے ڈرتا نہیں ہے لیکن یہ نا ممکن صورت حال اگر واقعی پیدا ہو جائے تو پھر کوئی حکومت کیسے باقی رہے۔ لازم ہے کہ کسی حکومت کے باقی رہنے کے لیے تمام لوگ اس کی تابعدار رعایا ہوں اور کسی رعیت کی طرح شریفانہ زندگی بسر کریں۔ ہمارے بزرگوں نے سو ڈیڑھ سو برس تک ایسی ہی زندگی بسر کی ہے اور کیا آزادی کے بعد بھی ہم رعیت نہیں رہے۔ یہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں ہماری تو معصوم بچیوں کو برباد کرنے والے پتہ نہیں گرفتاری کے بعد کہاں گم ہو جاتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا کہہ سکتے ہیں۔ بہر حال پرویز مشرف ایک چھچھوندر بن کر حکومت کے گلے میں پھنسے ہوئے ہیں اور مزے کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے کوئی ایسا خوش قسمت چھچھوندر دیکھا ہے۔ ہمارے ایسے ہی مزاحیہ قسم کے مسائل میں سے ایک مسئلہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ہے جو ایک عالم دین کے بقول مذاق کا تعلق ہے۔
طالبان کے مزاج کی ساخت ایک عام پاکستانی سے مختلف ہے۔ عام قسم کا کوئی بھی پاکستانی ان کے ساتھ کسی مسئلے پر کامیاب مذاکرات نہیں کر سکتا۔ محترم طالبان کے خیالات کی ایک ہلکی سی جھلک اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا نے پیش کی ہے۔ ماضی میں سوات میں ان نظریات پر عمل ہوتا تھا جب سوات پر مولانا فضل اللہ کی حکومت تھی جو اب طالبان کے قائد ہیں تو آپ اس نظریاتی کونسل کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ زمانے سے قطعاً لاتعلق کس قسم کے لوگ ہیں۔ طالبان جن جغرافیائی اور سیاسی حالات میں مذاکرات کر رہے تھے ان کو اور طالبان کو ذہن میں رکھ کر عرض کیا تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔
اب طالبان اپنی عملداری اور حکمرانی کے لیے پاکستان کے اندر ایک علاقہ مانگتے ہیں لیکن آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ صرف قبائلی علاقوں میں سے کوئی ایک علاقہ ہے۔ پاکستان اس اسلام کے نظریات کے فروغ دینے کے لیے بنا تھا جو طالبان کے نظریات ہیں۔ آپ نے اس ملک میں وعدے کے باوجود صحیح اور جینوئن اسلام قائم نہ کیا اب آپ کو اس کی سزا لازماً ملے گی۔ پورے برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کو بے نتیجہ کیسے بنایا جا سکتا ہے اور یہ وعدہ صرف برصغیر کے مسلمانوں تک محدود نہ تھا ہم نے تو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اس وعدے کو عام کیا تھا اور پاکستان کو نمونے کی ایک اسلامی ریاست بنانے کا عہد کیا تھا۔ ابھی اس وعدہ خلافی کی سزا کا آغاز ہوا ہے۔ دیکھتے ہیں مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے لیکن میں اپنی اس رائے پر قائم ہوں کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔
ہماری سیاسی نادانیوں کا کمال ہمیں ان مذاکرات میں دکھائی دیتا ہے۔ پہلی حماقت تو یہی ہوئی کہ ہم نے قانون شکن ایک گروہ کو ایک ایسا فریق تسلیم کر لیا جو گویا ایک مستقل آزاد ریاست کا مخالف فریق ہے اور اس کی حیثیت کسی ملک کی سی ہے جس کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ ہمارے وزیراعظم تک ان مذاکرات کے فریق بنے ہوئے ہیں۔ کوئی پاکستانی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ہم کبھی کسی جنگ جو سے مذاکرات کریں گے اور ہماری پوری حکومت کسی ایس ایچ او کی طرح اپنا کردار متعین کر لے گی۔ میں نے جب تعجب کے ساتھ ایک معقول دوست سے اس کا ذکر کیا تو اس نے جواب دیا کہ ہمارے حکمران خود ذاتی طور پر خوفزدہ ہیں اور اپنی ذات کے علاوہ اپنے اہل و عیال کی فکر میں مبتلا ہیں چنانچہ انھوں نے اپنے تحفظ کے لیے پوری ریاست کو ملوث کر دیا ہے اور اسے یرغمال بنا لیا ہے۔ کیا آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے بڑے لوگوں نے اپنی سیکیورٹی سرکاری خرچ پر کسی حد تک بڑھا لی ہے۔ روزانہ کروڑوں روپے اس پر خرچ ہو رہے ہیں تاکہ معاشرے کے ان فالتو آدمیوں کو بچایا جا سکے جو ہماری زمین پر ایک زندہ بوجھ ہیں۔ کالم کے شروع میں جن قومی مسائل کا ذکر کیا تھا ان میں یہ مسئلہ شاید سب سے زیادہ اہم ہے جس سے نکالنے والے خود ایک مسئلہ ہیں۔