بورڈ نے ’’قربانی کے بکرے‘‘ کی تلاش شروع کردی

برہم چیئرمین نے کپتان سمیت ’’کوچز کی فوج‘‘کو طلب کر لیا، فیلڈنگ کوچ سے ذمہ داری واپس لینے کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا


Saleem Khaliq April 03, 2014
معین خان کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثبت،حفیظ کی جگہ آفریدی کو قیادت سونپنے کی تجویز نے بھی دوبارہ زور پکڑ لیا۔ فوٹو: فائل

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرمناک شکست کے بعد پی سی بی نے ''قربانی کے بکرے'' کی تلاش شروع کر دی، برہم چیئرمین نجم سیٹھی نے وطن واپسی پر کپتان سمیت ''کوچزکی فوج''کو طلب کر لیا ہے۔

ان سے سخت باز پرس کرتے ہوئے شکست کی وجوہات طلب کی جائیں گی، فیلڈنگ کوچ شعیب محمد سے ذمہ داری واپس لینے کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا،کوچ معین خان کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ثبت نظر آتا ہے، محمد حفیظ کی جگہ شاہد آفریدی کو قیادت سونپنے کی تجویز نے بھی دوبارہ زور پکڑ لیا، دوسری جانب ٹیم ذرائع کے مطابق اختتامی 3اوورز میں 59رنز کی پٹائی نے پلیئرز کو حواس باختہ کردیا تھا، معین تمام تر کوشش کے باوجود پلیئرز کے حوصلے بلند نہ کر سکے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کیخلاف84 رنز کی شکست کے بعد سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی، بیٹنگ لائن بدترین ناکامی کا شکار ہوئی اور صرف82 رنز پر ہتھیار ڈال دیے، چیئرمین بورڈ نجم سیٹھی اس پر سخت برہم ہیں۔

انھوں نے کپتان سمیت ''کوچز کی فوج'' کو جمعرات کے روز لاہور طلب کر لیا، جہاں ان کی باز پرس کرنے کے ساتھ شکست کی وجوہات بھی پوچھی جائیں گی، بورڈ کو عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کیلیے قربانی کے بکرے کی تلاش ہے، فیلڈنگ کوچ شعیب محمد سے ذمہ داری واپس لینے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا، اب انھیں کوئی اور کام سونپا جائے گا، ذرائع کے مطابق چیف کوچ معین خان کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان نظر آتا ہے، بعض اعلیٰ افسران کسی اور کا تقرر چاہتے ہیں، انھیں ویسے بھی اسی ایونٹ تک ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس حوالے سے آئندہ چند روز میں کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ شعیب ملک اور کامران اکمل کے بارے میں یہ بات تقریباً طے ہے کہ وہ پاکستان کیلیے اپنا آخری میچ کھیل چکے، اسی کے ساتھ محمد حفیظ کی جگہ شاہد آفریدی کو قیادت سونپنے کی تجویز نے بھی دوبارہ زور پکڑ لیا ہے۔

دوسری جانب ٹیم ذرائع کے مطابق ویسٹ انڈیز سے میچ میں اختتامی 3اوورز میں 59رنز کی پٹائی نے پلیئرز کو حواس باختہ کردیا تھا، دوران بیٹنگ کوئی پلاننگ دکھائی نہ دی، پہلی گیند پر احمد شہزاد آئوٹ ہوئے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی، ایسے میں سست بیٹنگ سے مزید دبائو بڑھ گیا، عمر اکمل بھی یہی کہتے سنے گئے کہ کپتان نے احتیاط سے کھیلنے کا کہا تھا، کوچ معین خان تمام تر کوشش کے باوجود پلیئرز کے حوصلے بلند نہ کر سکے جس کا نتیجہ عبرتناک شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ دوران میچ جب 18 ویں اوورمیں کپتان نے عمرگل کو گیند تھمائی تو ایک سینئر پلیئر نے انھیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا، اس کاکہنا تھا کہ ایسے موقع پر سہیل تنویر زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں، مگر حفیظ نے عمر گل کے تجربے کو دیکھتے ہوئے انھیں ترجیح دی جنھیں21 رنز کی پٹائی برداشت کرنا پڑی، یہیں سے ٹیمپو ٹوٹ گیا اور گرین شرٹس میچ میں واپس نہ آ سکے۔