تین سال میں میکرو اکنامک استحکام لے آئیں گے اسحاق ڈار

مالیاتی خسارہ 8 فیصد سے کم کرکے4، معاشی شرح نمو2.3 سے بڑھا کر7 فیصد پرلائی جائے گی،وفاقی وزیر خزانہ


APP April 05, 2014
کولیشن سپورٹ فنڈ جنگی اخراجات کی ادائیگی ہے،امداد نہیں‘تجارت وسرمایہ کاری کی بنیادپرعالمی تعلقات بناناچاہتے ہیں،انٹرویو۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک کی اقتصادی سمت بہتر ہے، موجودہ حکومت کی اصلاحات اور معاشی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں بین الاقوامی ڈونرز کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے۔

ملک میں امن کے لیے مذاکراتی عمل شروع ہے، امن و امان کی بہتر صورتحال کے نتیجے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھرپور مواقع دستیاب ہوں گے۔ ''بی بی سی ورلڈ'' کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے لیے ہمارا 3 سال کا پروگرام ہے جس کے اہداف بڑے واضح ہیں، ہم مالیاتی خسارہ اس سال 8 فیصد سے 6.3 فیصد تک لائیں گے، آئندہ سال ہمارا ہدف 5 فیصد اور پھر اسے 4 فیصد تک لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے متعدد اصلاحات اور استحکام کے لیے اقدامات کیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، جائیکا، آئی ایف سی اور دیگر ادارے پاکستان کے ساتھ بزنس کر رہے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان سیکیورٹی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے، حکومت معیشت، توانائی، تعلیم کی ترقی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے منشور پر منتخب ہو کر آئی ہے، ورلڈ بینک کے ساتھ ہمارا آئندہ 5سالہ منصوبہ انہی عوامل پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کے لیے مذاکراتی عمل شروع ہے، امن و امان کی بہتر صورتحال کے نتیجے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھرپور مواقع دستیاب ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے مالی سال 2013-14 کے لیے اخراجات میں بڑی حد تک کمی کی ہے لیکن سماجی شعبہ بشمول سوشل سیفٹی نیٹ اور سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا ہے، ہم نے رواں سال سوشل سیفٹی نیٹ پر اخراجات کو تقریباً دگنا کر دیا ہے جس میں مستقبل میں مزید اضافہ کیا جائے گا، ترقیاتی اخراجات 100 ارب تک بڑھا دیے گئے ہیں، ہم اخراجات میں بڑی کٹوتی کر رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا ایک گلوبل ویلیج بن گئی ہے اور ہم عالمی برادری سے علیحدہ نہیں رہ سکتے، ہم کثیر الجہتی ڈونرز اور پارٹنرز کو واپس لا رہے ہیں، ہم بانڈ مارکیٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ انٹرنیشنل بانڈ مارکیٹ میں ہمارا حصہ بہت کم ہے، پاکستان کا اس میں حصہ بڑھنا چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ امداد نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اخراجات کی ادائیگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تیسری مرتبہ آئی ہے جس کا لائحہ عمل بالکل واضح ہے، ہم اپنے دوستوں سے امداد نہیں چاہتے، ہماری ترجیح بین الاقوامی برادری کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری ہے، ہم تجارت، سرمایہ کاری اور خودانحصاری کی بنیاد پر اپنے بین الاقوامی تعلقات بنانا چاہیں گے۔ بھارت کے ساتھ تجارت کو کھولنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سارک ممالک کے ساتھ علاقائی تجارت کے فروغ پر ہماری حکومت کا موقف بڑا واضح ہے، ہماری حکومت گزشتہ 10 ماہ سے بھارت کے ساتھ اس معاملے پر فعال طریقے سے کام کر رہی ہے اور ہم نے تقریباً تمام کام مکمل کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت بنانے والی کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ ہم کام کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران ملک کی شرح نمو اوسطاً 3 فیصد رہی جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں کیونکہ ملک میں آبادی بڑھنے کا تناسب 2.3 فیصد ہے، رواں سال شرح نمو کا ہدف 4 فیصد جبکہ آئندہ 3 سال میں ہم 6 سے 7 فیصد تک شرح نمو حاصل کرنا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنے دوسرے جائزے کے بعد پاکستان میں شرح نمو سے متعلق اپنے ابتدائی اندازے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 2.8 فیصد سے بڑھا کر 3.1 فیصد کر دیا ہے۔