’’مٹی پاؤ
صرف ’’ ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے‘‘ گانے سے فتح نہیں ملتی، میدان میں بھی جان لڑانا پڑتی ہے.
خوش فہمی انسان کی بہت بڑی دشمن ہوتی ہے، آپ خیالوں میں خود کو آسمان پر پہنچا دیتے ہیں اور پھر جب واپس زمین پر آئیں تو بڑا دکھ ہوتا ہے،میں اسکول لائف میں اوسط درجے کا طالبعلم تھا، اس کے باوجود ہر سال تقریب تقسیم انعامات میں جب پوزیشن ہولڈرز کا اعلان ہوتا تو مجھے اپنا نام بھی پکارے جانے کا انتظار رہتا، جب ایسا نہیں ہوتا تو افسوس محسوس کرتا، بعد میں اندازہ ہوا کہ امتحان کی بہترین تیاری تھی نہ پیپرز بہت اچھے ہوئے، ایسے میں پاس ہو گئے یہی بہت ہے فرسٹ، سیکنڈ یا تھرڈ کیسے آتے؟ یوں دل کو تسلی مل جاتی۔ قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا، ہماری تیاریاں اور نہ ہی موجود ٹیلنٹ غیرمعمولی تھا، ایسے میں 1،2 میچز جیت لینا ہی بڑی بات ہوتی مگر ہم تو آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی ٹرافی لانے کا یقین کر چکے تھے، بعض لوگوں نے تو شائد ٹیم کو کھلی بس میں لاہور کی سڑکوں پر گھمانے کا پروگرام بھی بنا لیا تھا۔ ایسے میں جب ویسٹ انڈیز سے میچ میں بدترین شکست ہوئی تو خواہشات کا محل دھڑام سے آ گرا، ہر جانب سے تنقید کا وہ طوفان اٹھا کہ کپتان محمد حفیظ کی ''قربانی'' لینے کے بعد بھی سلسلہ نہیں تھم سکا،ٹیم کی شکست نہ ہی ردعمل غیرمعمولی ہے، ہمیں خود کو بھی قصوروار سمجھنا چاہیے کہ اتنی زیادہ توقعات کیوں وابستہ کر لیں۔
صرف '' ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے'' گانے سے فتح نہیں ملتی، میدان میں جان لڑانا پڑتی ہے، ایونٹ کی ٹیم سلیکشن سے لے کر پلیئنگ الیون کے انتخاب میں بے تحاشا غلطیاں ہوئیں ان کا جائزہ لینا چاہیے،محمد حفیظ بطور کپتان ناکام ہو گئے ساتھ ہی ان کی انفرادی کارکردگی بھی اچھی نہ رہی، ایسے میں وہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار نظر آئے،آخری میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انھوں نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معافی تو مانگ لی مگر مستعفی ہونے سے انکار کر دیا، واپسی پر اچانک ان کا اعلان سامنے آیا اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انھیں قیادت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، ویسے بھی بورڈ کو کسی قربانی کے بکرے کی تلاش تو تھی جو حفیظ کی صورت میں مل گیا اب لوگ چند روز اسی پر بحث کرتے رہیں گے، میڈیا کو بھی مصالحہ مل جائے گا، چند روز میں قصہ ختم، لیکن اگر غیر جانبداری سے حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو کیا واقعی صرف حفیظ ہی شکست کے ذمہ دار ہیں، کیا وہ ازخود کپتان بنے؟15 رکنی اسکواڈ کیا انھوں نے منتخب کیا؟ چند سفارشی کھلاڑی انھوں نے ہی رکھے؟ کوچنگ میں ناتجربہ کار معین خان کو ذمہ داری کیا حفیظ نے سونپی؟ بیٹنگ کوچ کیلیے درخواست دینے والے شعیب محمد کو فیلڈنگ کوچ کیا انھوں نے بنایا؟ ذاکر خان جیسی متنازع شخصیت کو منیجر کیا حفیظ نے مقرر کیا؟ پاکستانی ٹیم اگر 82 پر آؤٹ ہوئی تو کیا دیگر تمام 10 پلیئرز کی جگہ حفیظ نے بیٹنگ کی؟4 کرکٹرز کو اسٹمپڈ ہونے کا کیا کپتان نے کہا؟ یقیناً ایسا نہیں تھا تو پھر وہ اکیلا ذمہ دار کیسے ہوا، چیئرمین بورڈ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ ذکا اشرف کی کمیٹی نے سفارشات تیار کیں اسی کی بنیاد پرکوچنگ پینل تشکیل دیا، انھیں سوچنا چاہیے تھا کہ ہنٹ کمیٹی کے وسیم اکرم کا تعلق پی آئی اے سے رہا،اسی ادارے سے معین خان، شعیب محمد اور ظہیرعباس بھی وابستہ رہے، لہذا نرم گوشہ ہونا فطری بات تھی، اسی طرح وسیم اکرم اور وقار یونس کے درمیان ماضی کی پیشہ ورانہ رقابت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہ کیسے ان کا تقرر کرتے؟ وقار پہلے بھی ٹیم کے ساتھ منسلک رہ چکے جبکہ معین خان نے کئی برس قبل ڈومیسٹک ٹیم کی کوچنگ کی تھی، یقیناً وہ بھی محنتی شخص ہیں اور انھوں نے اپنی بھرپور کوشش کی ہو گی لیکن کئی معاملات میں تجربہ اہمیت رکھتا ہے اسے اہمیت دینا چاہیے تھی، کاش نجم سیٹھی اسی وقت اعتراض کر دیتے مگر انھوں نے اپنے منظور نظر افراد کو عہدے سونپ کر ٹیم کو ڈبو دیا، اب سارا ملبہ حفیظ پر ڈال کر جان چھڑائی جا رہی ہے جو درست نہیں، اعلیٰ حکام کو بھی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدے چھوڑنے چاہئیں،سب کو پتا ہے کہ پلیئنگ الیون کا انتخاب، ٹاس جیت کر بیٹنگ یا فیلڈنگ اور بیٹنگ آرڈر سمیت تمام فیصلے کپتان اکیلا نہیں کرتا، مینجمنٹ بھی شریک ہوتی ہے لہذا سب بہادر بن کر ذمہ داری لیں،جہاں تک حفیظ کا تعلق ہے انھوں نے جراتمندانہ فیصلہ کیا، عمران خان کے سوا کسی کپتان نے ماضی میں ایسی ہمت نہیں دکھائی، انھیں اب اپنی انفرادی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے، بطور کپتان وہ کئی بار خوف کا شکار نظر آتے اور مشکل وقت میں خود بولنگ بھی نہیں کرتے تھے، البتہ وہ ٹیم کے ساتھ سو فیصد کمیٹڈ رہے، بنگلہ دیش روانگی سے قبل اور ڈھاکا میں جب بھی ان سے بات ہوئی وہ ہمیشہ اسکواڈ کو سپورٹ کرنے کا ہی کہتے جو پورے میڈیا نے کیا، اب ان کی جگہ آفریدی کو قیادت سونپنے کی باتیں ہو رہی ہیں، کاش ایسا پہلے ہی کر لیا جاتا، ٹیم کو اس وقت ایسے ہی کسی بہادر قائد کی ضرورت ہے جو ٹیم کو آگے بڑھ کر لڑا سکے، حفیظ ایسا نہ کر سکے گوکہ انھوں نے کوشش ضرور کی مگر بعض معاملات میں اس بات پر عمل کیا کہ '' ایک بار جو میں نے کچھ سوچ لیا اس کے بعد اپنے آپ کی بھی نہیں سنتا''۔ جیسے سب کو پتا تھا کہ وہ پہلا اوورکریں گے اور بعد میں ایسا ہو گا، یہ درست نہیں تھا، کرکٹ میں حکمت عملی تبدیل کرنا پڑتی ہے تاکہ حریف ٹیموں کا پلان چوپٹ ہو، حفیظ کے کیریئر کا آفریدی کی قیادت میں ہی احیا ہوا، اب امید ہے کہ وہ دوبارہ سے ماضی کی فارم میں واپس آ جائیں گے۔
ان دنوں خاصا شور تو مچا ہوا ہے مگر بہتری کیلیے کچھ ہونا ممکن نہیں لگتا۔ ''مٹی پاؤ'' پروگرام شروع ہو گیا اور اس کی پہل حفیظ سے استعفیٰ لے کر کی گئی ہے۔