بولنگ کوچ کیلیے عمر گل مضبوط امیدوار

اسپورٹس رپورٹر  پير 9 جنوری 2023
ہیڈ کوچ کیلیے مکی آرتھر نے حتمی فیصلے کیلئے پی سی بی سے وقت مانگ لیا

ہیڈ کوچ کیلیے مکی آرتھر نے حتمی فیصلے کیلئے پی سی بی سے وقت مانگ لیا

 لاہور: قومی ٹیم کے بولنگ کوچ کیلیے عمر گل مضبوط امیدوار بن گئے۔

سابق پیسر کا افغانستان کے ساتھ کنٹریکٹ حال ہی میں ختم ہوا ہے، وہ پاکستان ٹیم کیلیے کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب ہیڈ کوچ کیلیے مکی آرتھر سے رابطے کی تصدیق پہلے ہی ہوچکی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے حتمی فیصلے کیلئے پی سی بی سے وقت مانگ لیا ہے۔

مکی آرتھر کا انگلش کاؤنٹی ڈربی شائر کے ساتھ 3 سال کا معاہدہ ہے، وہ معاملات طے کرنے کے بعد پی سی بی کو جواب دیں گے۔یاد رہے کہ قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق اور بولنگ کوچ شان ٹیٹ کا معاہدہ 9 فروری کو ختم ہورہا ہے۔

علاوہ ازیں سابق فاسٹ بولر اور بولنگ  کوچ عمر گل نے پاکستانی ٹیم  کی  کوچنگ کی خواہش کے اظہار کے ساتھ دستیابی ظاہر کردی۔

ان کا کہناہے کہ قومی ٹیم کے لیے کام کرنا اعزاز ہے، ابھی تک پی سی بی  نے رابطہ نہیں کیا، اگر کوئی آفر ہوئی تو خدمات حاضر ہیں۔  شاہین شاہ آفریدی کے لیے مشورہ ہے کہ  اسے کم بیک میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، مکمل ری ہیب کے بعد ہی اس کو میچز میں حصہ لینا چاہیے۔

ایکسپریس نیوز کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کے سابق پیسر نے واضح کیا کہ ان کا افغانستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ اکتیس دسمبر کو ختم ہوچکاہے، ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا،غیرملکی کوچز کے ساتھ کھلاڑیوں کو باآسانی بات چیت میں مسئلہ ہوتاہے،میری موجودگی میں ان کے لیے کمیونیکشن بھی بہت آسان رہی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی ٹیم کے لیے کام کرنا چاہتا تھا مگر پی سی بی نے بولنگ کوچ کے لیے کبھی  رابطہ نہیں کیا، اس لیے افغانستان کرکٹ بورڈ کی پیشکش قبول کی تھی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ فاسٹ بولر نے  47 ٹیسٹ میچوں میں 163 اور ایک سو تیس ون ڈے میچز میں 179 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ ساتھ ٹی ٹوئنٹی میچز میں ایک سو پینسٹھ شکار بھی  ان کے ریکارڈ پر ہیں۔

ریورس سوئنگ اور یارکرز کرنے میں کمال پانے والے عمرگل کے مطابق انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ریورس سوئنگ کو بہت مس کیا، شاہین شاہ آفریدی کےنہ ہونے سے بھی فرق پڑا۔ اگر آپ کا نمبرون بولر ہی  دستیاب نہ ہو ہوتو پھرتوقعات کےمطابق پرفارمنس بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ پاکستانی وکٹوں پر کامیابی کے لیے ریورس سوئنگ کے آرٹ پر عبور پانا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ واحد بولر تھے جو ایک سوچالیس کی رفتار تک گیند پھینکتے رہے، ریورس سوئنگ کے لیے اچھی رفتار کا ہونا بھی لازمی ہے، پاکستانی نوجوان بولرز میں صلاحیت ہے تاہم انہیں یہ چیز سیکھنا ہوگی کہ کہاں گیند  پھینک کر ریورس سوئنگ سے بیٹرز کو شکار کرناہے۔

عمر گل نے شاہین شاہ افریدی کی فٹنس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہین کو اپنی فٹنس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی کرکٹ ہورہی ہے اس میں ایک فاسٹ بولرز کو انجری سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ فٹنس چاہیے، بطور سینئر میرا شاہین کو مشورہ ہے کہ وہ انجری کے بعد اپنا ری ہیب بڑے اطمینان کے ساتھ مکمل کرے، کسی بھی قسم کی جلدبازی نقصان دہ ثابت ہوگی۔وہ ابھی  نوجوان  اور اس کے پاس کھیلنے کے لیے  بہت وقت  ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔