گزشتہ سال مزید 6 لاکھ افراد بیرون ممالک منتقل

پاکستانی ملک کے معاشی استحکام میں اہم کردارا ادا کررہے ہیں، ترسیلات زر میں بہتری آئی،بیورو آف امیگریشن


Business Reporter April 07, 2014
پاکستانی ملک کے معاشی استحکام میں اہم کردارا ادا کررہے ہیں، ترسیلات زر میں بہتری آئی۔ فوٹو: فائل

سال 2013کے دوران روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تعداد میں 6لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے جس سے پاکستان کو ترسیلات کی آمد میں بھی بہتری آئی ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ سال 6لاکھ افراد روزگار کے لیے بیرون ملک گئے بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے معاشی استحکام میں اہم کردارا ادا کررہے ہیں جس کا اندازہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11فیصد تک اضافہ ہوا ہے رواں مالی سال جولائی سے فروری (آٹھ ماہ) کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 10.2ارب ڈالر کی ترسیلات پاکستان بھیجی ہیں۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 9.234ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔ ترسیلات میں اضافے کی اہم وجہ پاکستان میں روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کے بیرون ملک جانے کے رجحان میں اضافہ ہے دوسری جانب خلیجی ملکوں کی معاشی ریکوری کے بعد ان ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رقوم بھیجنے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ترسیلات کی آمد میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے اہل خانہ کو جو رقوم ماہانہ خرچ کے لیے بھیجی جاتی ہیں ان میں ہرگزرتے ماہ مہنگائی کے سبب اضافہ ہورہا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان اور دنیا بھر میں کرنسی کے غیرقانونی طریقے سے منتقلی کے طریقوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانی بینکنگ چینل سے اپنی رقوم وطن بھیجنے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ بیرون ملک غیریقینی صورتحال اور اثاثے پھنس جانے کے خوف کے سبب بھی ترسیلات پاکستان بھیجنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ترسیلات کی منتقلی میں اسلامی بینکوں کی خدمات کے آغاز سے بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے افراد روایتی بینکوں کے ذریعے رقومات کی منتقلی سے اجتناب کرتے ہوئے بینکنگ چینل سے دور تھے، تاہم اسلامی بینکوں کے ترسیلات کی منتقلی کی خدمات میں برھ چڑھ کر حصہ لینے اور مقامی چھوٹے بینکوں کے متحرک ہونے سے ترسیلات کی آمد میں آسانی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ترسیلات کی آمد میں اسلامی بینکوں کا حصہ 3.9فیصد سے بڑھ کر 19فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب ترسیلات کی منتقلی کی متعدد آرگنائزیشنز کے درمیان مسابقت نے بھی ترسیلات کی منتقلی کی لاگت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔