بہاولپور نے محفل سجائی
36 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آتے ہوئے طیارے کی کھڑکی سے دیکھا تو دور تک پھیلے ہوئے
36 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آتے ہوئے طیارے کی کھڑکی سے دیکھا تو دور تک پھیلے ہوئے صحرا کے سمندر میں اس نخلستان کی جھلک دکھائی دی جسے بہاولپور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی دعوت پر دانشور، ادیب، شاعر اور محقق دور دور سے کھنچے چلے آئے ہیں۔ یہ وہی ریاست بہاولپور ہے جو ہماری علمی، ادبی، ثقافتی اور تہذیبی روایات کی زمانوں سے امین ہے۔ اس علاقے کا ہزاروں برس میں کئی بار نام بدلا۔ سیکڑوں برس پہلے پانچ بیٹوں کی ماں، سوڈی کے نام پر آباد ہونے والا یہ علاقہ سوڈھا دی جھوک کہلایا اور اب بہاولپور کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن شیکسپیر کے کہنے کے مطابق نام میں کیا رکھا ہے۔ ہزاروں برس کے دوران کئی بار اس کا نام بدلا، حد تو یہ کہ جغرافیہ بھی بدلا۔ وولگا دریا سے سندھ اور گنگا کا رخ کرنے والے آریائوں نے ویدوں میں لکھا ہے کہ یہاں سرسوتی بہتی تھی۔ ایک دریا ہاکڑا بھی تھا۔ پھر کچھ یوں ہے کہ یہ دونوں دریا کھوگئے، بس ان کے نام تاریخ کی کتابوں میں رہ گئے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب جمنا شمال سے جنوب کی طرف بہتی تھی اور پنجاب کے کنارے کنارے بہتی ہوئی بہاولپور تک آتی تھی لیکن پھر اس نے بھی اپنا رخ بدل لیا اور دلی کی طرف چل نکلی۔
یہ لکھتے لکھتے خیال آیا کہ میں عرب یا برطانوی مورخ تو نہیں کہ بنت حوقل یا مس پوٹنگر بن بیٹھوں۔ میں کیوں اس جھنجھٹ میں پڑوں کہ کس دریا نے کتنے ہزار برس پہلے اپنا راستہ بدلا۔ ڈاکٹر نجیب جمال جو اس سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے منتظم اعلیٰ ہیں اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے اس شاندار کانفرنس کا اہتمام اس لیے تو نہیں کیا کہ علاقے کے جغرافیے پر غوروفکر کیا جائے۔ ائیرپورٹ سے یونیورسٹی گیسٹ ہائوس کی طرف سفر کرتے ہوئے اور ایک ہنستے بستے شہر کی رونقوں کو دیکھتے ہوئے ذہن پھر جغرافیے کی طرف چل نکلتا ہے۔ دل میں ان دو دریائوں کے لیے ہوک سی اٹھتی ہے جو ہزاروں برس پہلے اس علاقے میں کھو گئے۔ ارے صاحب دریا نہ ہوئے دل ہوگئے۔
جی چاہا کہ کیوں نہ ان دریائوں کے نام تلاش گمشدہ کا اشتہار دیا جائے کہ برخوردار تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، واپس آجائو کہ دھرتی ماں تمہارے لیے تڑپتی ہے۔ کلیجہ اس کا تڑخ گیا۔ ہر طرف ریت اڑتی ہے۔ تم آجائو تو دھرتی ماں پھر سے جی اٹھے۔ لیکن صاحب، سیکڑوں ہزاروں برس پہلے روٹھ کر جانے والے پلٹ کر کہاں آتے ہیں۔ اب کچھ اس ادب میلے کا تذکرہ جو اسلامیہ اور صادق ویمن یونیورسٹی بہاولپور نے سجایا۔ یہ اردو ادب کے دم قدم کی برکت کہ ادھر ہم نے اس سرزمین پر قدم رکھا ادھر بجلیاں کڑکیں اور بادل اس دھوم دھام سے برسے کہ جل تھل ہوگیا۔ صحرا میں مور ناچے، ہرن چوکڑیاں بھرتے پھرے۔ پیاسی دھرتی سیراب ہوئی۔ غالب نے کہا تھا کہ مینہ ایک گھنٹہ برستا ہے اور چھت چار گھنٹے ٹپکتی ہے۔ یہی کچھ ایک جید ادیب کے ساتھ بھی ہوا لیکن مجال ہے کہ پیشانی پر شکن آئی ہو یا کسی سے انھوں نے اشارے کنائے میں بھی گلہ کیا ہو۔ اگر آصف فرخی نہ ہوتے جو ان کے لیے چھتری بنے بیٹھے رہے تو ہمیں اس کا علم بھی نہ ہوتا۔
کہنے کو بہاولپور ریگ زار سے گھرا ہوا ہے لیکن شہر اور شہر سے زیادہ یونیورسٹی اور اس کے متعلقہ ادارے اور شعبے گلزار و مرغزار نظر آتے ہیں۔ اقبال شاید ایسے ہی کسی منظر کے لیے لکھ گئے ہیں کہ
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن
انھوں نے تین رنگوں کا ذکر کیا ہے بہاولپور یونیورسٹی کی مختلف روشوں پر ہمیں وہ مالی نظر آئے جن کا خون پسینہ درجنوں رنگوں اور سیکڑوں پھولوں کو سینچ رہا تھا۔
ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اردو کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گئی یا شام گئی۔ وہاں بہاولپور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو اور اقبالیات کا اور سائنس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کا یہ عالم کہ وہ اکیسویں صدی میں اردو ادب، شاعری، میڈیا، تحقیق، تہذیبوں کے درمیان مکالمے، تھیٹر، ٹیلی وژن، رسائل وجرائد ، موسیقی اور کلاسیکی شاعری کے اردو تراجم پر پاکستان بھر سے اور ہندوستان، مصر، ترکی، بنگلہ دیش، برطانیہ اور کئی دوسرے ملکوں سے دانشوروں اور ادیبوں کو بلا کر بحث مباحثے کرا رہے ہیں۔ رضا علی عابدی جنھیں بہاولپور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی ہے، وہ سہل اور سادہ اردو کے فروغ اور میڈیا پر بات کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے مشہور شاعر دانشور اور سہ ماہی 'ذہنِ جدید'، کے مدیر زبیر رضوی اس بحث میں جٹے ہوئے ہیں کہ اکیسویں صدی میں اردو کا جدید تھیٹر اپنے اندر کیا امکانات رکھتا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ فرمان اردو کے پھیلائو میں جدید برقیاتی ذرایع کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ترکی سے آئے ہوئے ڈاکٹر درمش بلغر اردو کے مستقبل پر اپنا نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں۔ رومن اردو ایک بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آرہی ہے اس پر بات کرنا صدف مرزا کی ذمے داری ٹھہری ہے۔ وفاقی اردو سائنس یونیورسٹی کراچی کے وائس چانسلر اکیسویں صدی میں اردو تحقیق کے رجحانات کا تعین کر رہے ہیں جب کہ ڈاکٹر رئوف پاریکھ نے اکیسویں صدی میں اردو کے امکانات پر گفتگو کی۔ بہاولپور کے مختلف اداروں نے اردو کی ترویج کے لیے کیا کچھ کیا، اس بارے میں بات اردو اور سرائیکی کے لسانی رشتے سے ہوتی ہوئی بہاولپور کی تاریخی ، لسانی اور ادبی حیثیت، یہاں کی ادبی انجمنوں اور اردو کی ترویج میں اسلامیہ یونیورسٹی کے کردار تک پہنچی۔
دلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے سرگرم دانشور ڈاکٹر علی جاوید نے ہندوستان میں اردو، ڈاکٹر ابراہیم نے مصر میں اردو کی تدریس، ڈاکٹر احمد محمد قاضی نے مصر میں اردو تحقیق وتنقید، فرتاش سید نے خلیجی ریاستوں میں اردو، ڈاکٹر نجیب جمال نے اقبالیات ا ور مصر ، ڈاکٹر میاں مشتاق احمد نے ترکی میں اردو اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ڈاکٹر محمود الاسلام نے اردو زبان کے مستقبل کا معاملہ اٹھایا۔ بہاولپور والوں کی اردو کے لیے وارفتگی اور اس سے وابستگی کا یہ عالم تھا کہ نہ پوچھیے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اکیسویں صدی میں چاند اور مریخ پر اردو کی ترویج کے امکانات پر بھی کوئی محقق روشنی ڈالنے کے لیے نہ موجود ہو۔
اردو کے پھیلائو اور اس کے استحکام کے لیے بہاولپور کے اساتذہ، طلبہ، شہریوں اور آس پاس کے علاقوں سے آنے والے شائقین کے اندر جیسی تڑپ تھی وہ حیران کن تھی۔ ایسی بے تابی اور علم وادب سے وابستہ لوگوں کے لیے ایسا احترام میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ بہاولپور والے خوش رہیں آباد رہیں ۔ اردو کو قومی زبان بنانے پر ان کااصرار اور اس کے لیے ان کی فراخ دلی اور خندہ پیشانی ایک ایسے زمانے میں ہے جب زبانوں کی بنیاد پر ہمارے یہاں بہت سی تلخیاں ہیں جس کی بڑی حد تک ذمے داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت اسے مسلمانوں کی زبان اور پھر پاکستان میں اردو اور صرف اردو کا نعرہ لگایا تھا۔
اس کانفرنس کی رونق دوبالا اور سہ بالا کرنے والوں میں انتظار حسین، ڈاکٹر انوار احمد، کشور ناہید، اصغر ندیم سید، آصف فرخی، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، سعادت سعید، ڈاکٹر فخر الحق نوری، ناصر عباس نیر، بہاولپور سے شایع ہونے والے موقر علمی اور ادبی پرچے الزبیر کے مدیر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی ، ڈاکٹر روش ندیم، ڈاکٹر یوسف خٹک جیسے جید ادیب دانشور ، شاعر اور تنقید نگار شامل تھے۔
اور اب قدرے بیان اس نشست کا ہو جائے جو 'اردو ادب اور خواتین اہلِ قلم'، کے عنوان سے منسوب تھی۔ اس کی صدارت انتظار حسین صاحب نے کی۔ ملتان کی ڈاکٹر روبینہ ترین، کراچی یونیورسٹی کی ڈاکٹر تنظیم الفردوس، نوشی گیلانی، ڈاکٹر روش ندیم، ناہید درک اور ڈاکٹر صوفیہ خٹک نے تانیثیت، اردو افسانہ، شاعری اور عصری حسیت کے موضوع پر اپنے اپنے مقالے پیش کیے جن کی توصیف کیے بغیر چارہ نہیں۔ اس نشست میں، 'ادیب خواتین کا سماجی شعور' کے موضوع پر راقم الحروف نے بھی کچھ باتیں کیں۔ میرا کہنا تھا کہ انیسویں صدی کا اختتام اور بیسویں صدی میں تعلیم کے روشناس ہونے اور اپنے سماج کی حالب بدلنے کے لیے بیتاب ہندوستانی عورت نے قلم کو اپنا ہتھیار بنالیا اور صرف 130برس کی مدت میں جن موضوعات کا احاطہ کیا اس کا تنوع حیران کر دیتا ہے۔
یہ شب و روز جو ہم نے بہاولپور میں گزارے اس میں کبھی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے ہماری میزبانی کی اور کبھی ہم 'وسیب' کے مسعود صابر کے مہمان ہوئے لیکن وہ خصوصی محفل جو ہم چند لوگوں کے لیے اردو کی مشہور ادیب جمیلہ ہاشمی کی نور عین عائشہ صدیقہ اور اس کے نصف بہتر سہیل نے آراستہ کی، اس میں کام ودہن کی لذتوں کے ساتھ موجودہ معاملات ومسائل پر بامعنی گفتگو نے بہت لطف دیا۔ منصور حلاج کی زندگی پر جمیلہ نے کیا خوب لکھا۔ وہ اردو کی ایک اہم ادیب تھیں۔ عائشہ صدیقہ انگریزی میں کالم لکھتی ہے، سیاست اور دفاعی معاملات پر ٹیلی وژن کی بحثوں میں حصہ لیتی ہے۔ اس کی کتاب 'ملٹری ان کارپوریشن' کا اردو ترجمہ ناظر محمود نے کیا اور وہ 'خاکی کمپنی' کے نام سے شایع ہوکر مقبول ہوا ۔ عائشہ خوش رہے اور اسی طرح لکھتی رہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ہونے والی یہ کانفرنس یکتا ویگانہ تھی۔ ہم رخصت ہو رہے تھے تو اس کے منتظم اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال نے مجھے اپنی کتاب 'یگانہ' عنایت کی۔ 'یاس یگانہ چنگیزی' اردو شاعری کی ایک ایسی متنازعہ فیہ شخصیت جس پر ڈاکٹر یٹ بھی بہاولپور یونیورسٹی سے کی گئی۔ بھاولپور والے واقعی یکتا و یگانہ ہیں۔