تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں کراچی پولیس چیف

ٹارگٹڈ آپریشن سے حالات بہتر ہوئے، مستقل امن کیلیے سوشل گروپس کو کردار ادا کرنا ہوگا


Monitoring Desk April 11, 2014
اب بھی بڑے جرائم پیشہ مفرور ہیں، شاہد حیات کی ’’تکرار‘‘ میں میزبان عمران خان سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

سی سی پی او کراچی شاہد حیات نے کہاکہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد اوورآل حالات پہلے سے بہتر ہیں، جنوری اور فروری میں بالترتیب 180 اور اس سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں لیکن اس کے بعد حالات قدرے ٹھیک ہوئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ لیاری میں 2011 میں جو آپریشن ہوا تھا، اس میں چیل چوک سے آگے نہیں جاسکے تھے، اس میں30 سے زیادہ بندے مارے گئے لیکن اب ہم لیاری کے اندر ہیں اور وہاں پر ہم نے اپنے ٹھکانے بنائے ہیں جو لوگوں کو نوٹ کرتے ہیں، ابھی بھی کراچی کے بڑے جرائم پیشہ نام نہیں پکڑے گئے، بابا لاڈلہ کا بھائی زاہد لاڈلہ بھی مفرور ہے، جلد پولیس مقابلے میں مارا جائے گا۔

لیاری ہو یا کوئی بھی علاقہ، پولیس ایک حد تک ہی امن قائم کراسکتی ہے، مستقل امن تبھی قائم ہوسکتا ہے جب وہاں کے سوشل گروپ اپنا کرداراداکریں، لیاری کے 4 تھانوں میں پہلے 400 لوگ تھے اب 800 ہیں، ساری سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگ ہیں اور یہ میں ہی نہیں سپریم کورٹ بھی کہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسا سسٹم متعارف کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ شہری گھر بیٹھے ایف آئی آر درج کراسکیں، قیام امن کیلیے ہمیں قانون سازی کرنا ہوگی۔ ڈی آئی جی سائوتھ عبدالخالق شیخ نے کہا کہ لیاری میں پچھلے کئی روز سے لڑائی اور تصادم جاری تھا لیکن اب وہاں پر بہتر صورتحال ہے۔