یورپ کو آم کی برآمد ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ لازمی کرنے کا فیصلہ

پی ایف وی اے نے پاکستانی آم پر پابندی کے خدشے سے نمٹنے کیلیے تجاویز پیش کردیں


Business Reporter April 12, 2014
آر اینڈ ڈی سے قلیل وطویل مدتی پالیسی کے ذریعے برآمدی رکاوٹیں ختم کی جائیں گی،وحید احمد۔ فوٹو: فائل

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی آم پر پابندی کے خدشے سے نمٹنے کیلیے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈریسرچ کو اپنی سفارشات پیش کردی ہیں۔

ان سفارشات کی روشنی میں پاکستانی پھل اور سبزیوں کے معیار کو بہتر بنانے کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی مدد سے قلیل اور طویل مدتی پالیسی اختیار کرتے ہوئے برآمدات کو درپیش رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ وفاقی سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سیرت اصغر جورا کی زیر صدارت اسلام آباد میں اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین و ترجمان وحید احمد نے یورپی یونین کی جانب سے بھارت پر پابندی کے بعد پاکستان کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رواں سیزن میں یورپی یونین کو آم کی برآمد کے لیے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ لازمی ہوگی تاکہ کنسائنمنٹ میں فروٹ فلائز کے امکانات کو ختم کیا جا سکے، اس مقصد کے لیے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ پنجاب میں لگے ہوئے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا معائنہ کرے گا تاہم ایکسپورٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے وحید احمد نے کہا کہ صرف ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پر ہی اکتفانہ کیا جائے اس کے ساتھ متبادل طریقوں کو بھی بروئے کار لایا جائے، ایسے طریقے اور تکنیک استعمال کی جائے جو تمام ایکسپورٹرز کی دسترس میں ہوں۔ وحید احمد نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ پر زور دیا کہ ہاٹ واٹر کی کراچی میں موجود کامن فیسلیٹی کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے جس کے لیے ٹریٹمنٹ کے چارجز میں سبسڈی کے ذریعے 50فیصد کمی ناگزیر ہے۔

کراچی میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے 3پلانٹ موجود ہیں جن میں 2نجی اور ایک کامن فیسلیٹی پلانٹ شامل ہے، یہ پلانٹ ترقی یافتہ ملکوں کے معیار کے مطابق اور ان ملکوں کی قرنطینہ اتھارٹیز سے منظور شدہ ہیں۔ وحید احمد نے آم سمیت دیگر پھل اور سبزیوں کے معیار کو بہتر بنانے پیداوار میں اضافے اور سپلائی چین کو بہتر بنانے کے لیے قلیل ، وسط اور طویل مدتی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ باغات میں فروٹ فلائز پکڑنے کے لیے فلائی کیچرز کے استعمال کو عام کیا جائے، دوائوں کے اسپرے سمیت فروٹ فلائز کے خاتمے کے لیے حیاتیاتی طریقوں کو بھی بروئے کار لایا جائے، اس مقصد کے لیے ملک کی تمام زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے تاکہ زرعی شعبے میں کی جانے والی تحقیق سے ملکی معیشت اور برآمدات کو لاحق خدشات کا حل نکالا جاسکے۔