بگ تھری نے پاکستان کو ’’خیالی پلاؤ‘‘ بنانے کے کام پر لگادیا

صدر کا عہدہ رواں سال علامتی رہ جائیگا، سابق چیئرمین کو بھی یہ ’’لالی پاپ‘‘ دینے کی لالچ دی گئی تھی


Saleem Khaliq April 12, 2014
دیگرممالک پاکستان سے کھیلنے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں۔ فوٹو: فائل۔ فوٹو: فائل

بگ تھری نے پاکستان کو ''خیالی پلائو'' بنانے کے کام پر لگا دیا، بغیر کسی بڑی ''خوشخبری'' کے پی سی بی نے ہتھیار ڈال دیے۔

آئی سی سی کے آئین میں مجوزہ تبدیلیوں کی حمایت پر کچھ نیا ہاتھ نہیں آئے گا۔ گذشتہ روز چیئرمین نجم سیٹھی نے آئندہ برس کونسل کے صدر کا انتخاب پاکستان سے ہونے کی خبر سنائی، درحقیقت یہ پیشکش نئی نہیں، سابق چیئرمین کو بھی یہ ''لالی پاپ'' دینے کی لالچ دی گئی تھی، اس بارے میں30 جنوری کو ''ایکسپریس'' میں خبر شائع ہو چکی جس کی چند روز قبل ذکا اشرف نے بھی تصدیق کر دی تھی،اسی طرح کافی عرصے قبل ہی یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ 2014میں طاقتور چیئرمین کا عہدہ متعارف ہونے کے بعد صدر کی پوسٹ علامتی رہ جائے گی، وہ اپنی خواہش پر ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں تو شریک ہو سکے گا تاہم اسے صدارت یا ووٹ دینے کی اجازت نہیں ہو گی، رواں برس ایلن آئزک کی جگہ بنگلہ دیشی مصطفیٰ کمال صدر بننے والے ہیں، اگر آئندہ برس کوئی پاکستانی اس عہدے تک پہنچا تو وہ نام کا ہی صدر ہوگا۔

اسی طرح نجم سیٹھی نے کہا کہ اے سی سی ڈیولپمنٹ کمیٹی کا اجلاس پاکستان میں ہو گا اور اس سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں مدد ملے گی، درحقیقت ستمبر2012 میں بھی ایسی ہی میٹنگ پاک سرزمین پر ہو چکی مگر ملکی میدان بدستور سونے ہی ہیں۔ چیئرمین بورڈ اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامرکی جلد واپسی کے دعوے بھی کر رہے ہیں، درحقیقت گذشتہ ماہ ڈھاکا میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو میڈیا کے سامنے واضح کر چکے کہ اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کے تحت سزا یافتہ پلیئرزکومدت ختم ہونے سے کچھ عرصے قبل ڈومیسٹک یا کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے پرغورہو رہا ہے، یہ کوڈ جون تک تیار ہوگا۔

انھوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اس ترمیم کا تعلق صرف عامر سے نہیں بلکہ سب ہی پر اطلاق ہونا ہے۔اسی طرح آئی سی سی کا فیوچر ٹور پروگرام مئی 2010 سے اپریل 2020 تک نافذ العمل تھا،گوکہ اب تمام بورڈز کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جس سے چاہے کھیلیں اور اس حوالے سے مذاکرات بھی ہو چکے، اس کے باوجود انگلینڈ اورآسٹریلیا سمیت بیشتر بورڈز سابقہ ایف ٹی پی پر بھی عمل کا اعلان کر چکے ہیں،اس کے تحت پاکستان کو بھارت کے سوا تمام ٹیموں کے ساتھ ہوم اینڈ اوے سیریز کھیلنی ہیں۔

بھارت کے حوالے سے چیئرمین بورڈ نے کسی واضح اعلان سے گریز کیا لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ ماضی میں بھی کئی بار بی سی سی آئی اپنی حکومتی عدم اجازت کو جواز بنا کر سیریز منسوخ کر چکا ہے، ہاکی فیڈریشن تو بارہا شیڈول کا اعلان بھی کر چکی مگر کچھ ہاتھ نہ آیا، ہاکی پلیئرز لیگ کھیلنے گئے تو واپس بھیج دیا گیا۔ اس لحاظ سے بگ تھری کی حمایت سے پاکستان کے ہاتھ کچھ خاص نہیں آ رہا،اصولی موقف پر ڈٹے رہنے سے کم از کم بورڈ کا وقار ضرور بحال رہ سکتا تھا۔