مہران یونیورسٹی سینیٹ اجلاس201213 کا بجٹ منظور

تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی عمل جاری رکھنے کیلیے گرانٹ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ.


Nama Nigar September 16, 2012
2012-13 کے لیے ایک ارب 89 کروڑ، 94 لاکھ، 79 ہزار روپے کا بجٹ منظور کر لیا گیا۔

KARACHI: مہران یونیورسٹی جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیر خان راجپوت کی زیر صدارت سینیٹ کے 31 ویں اجلاس میں تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد 2012-13 کے لیے ایک ارب 89 کروڑ، 94 لاکھ، 79 ہزار روپے کا بجٹ منظور کر لیا گیا۔

اجلاس میں مہران یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس نے بتایا کہ 2012-13 کے تخمینے میں یونیورسٹی اپنے ذرائع سے 61 کروڑ، 72لاکھ، 60 ہزار روپے حاصل کرے گی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے 59 کروڑ، 40 لاکھ، 89 ہزار روپے ملنے کی توقع ہے۔ جامعہ کے سالانہ اخراجات کا تخمینہ 1 ارب، 89 کروڑ، 94 لاکھ، 79 ہزار روپے لگایا گیا ہے جو کہ 58 کروڑ 81 لاکھ 30 ہزار روپے زیادہ ہے۔

جس کی وجہ مہنگائی اور بالخصوص تنخواہوں، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اور یوٹیلٹی بلز میں اضافہ اور حکومت کی طرف سے گزشتہ سال کی مد میں کم گرانٹ ملنا ہے۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکا نے حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اپیل کی کہ 2012-13 کے لیے مہران یونیورسٹی کے بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے 58 کروڑ، 81 لاکھ روپے سے زائد رقم ادا کی جائے تا کہ یونیورسٹی بلا کسی رکاوٹ کے خوش اسلوبی سے تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی عمل جاری رکھ سکے اور مہران یونیورسٹی کا تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی رابطے کا معیار برقرار رہے۔

اجلاس میں یونیورسٹی کے ڈینز، ڈائریکٹرز، پروفیسرز، سینڈیکیٹ میں سینیٹ کے ممبران اور الحاق کالجوں کے پرنسپلز نے شرکت کی، جبکہ ممبران نے تدریسی و تحقیقی منصوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے تجاویز بھی دیں۔

مقبول خبریں