انھی لوگوں نے انھی لوگوں نے بجروا میں چھینا

اگر ہندو یار کے لیے گائے کا گوشت کھا سکتا ہے تو کیا ہم غنی خان کے لیے ہوتی ہاؤس نہیں جا سکتے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq April 15, 2014
[email protected]

کئی دنوں سے کوئی صاحب ٹیلی فون پراصرار کر رہے تھے کہ 30 مارچ کو مردان میں ''غنی خان'' کے نام پر ایک تقریب ہے جس میں ہمیں آنا ہے، ظاہر ہے کہ ہمیں تو آنا ہی تھا کیوں کہ لے دے کر ہمارے پاس ایک غنی خان ہی تو ہیں جو ''غنی'' بھی تھے اور خان بھی تھے لیکن انھوں نے غناء اور خانی کو ٹکرا کر ہم جیسے خدا ماروں یعنی شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، باچا خان کے بیٹے تھے لیکن شہزادے نہ تھے مطلب یہ کہ یہ ایک ہی متاع عزیز تھی جو ہم پشتو کے دربدر کس مپرس اور اے این پی کے ڈسے ہوؤں کے پاس بچی تھی ورنہ اے این پی نے تو پشتون شاعروں کے ساتھ وہی کام کیا تھا جو ''گنے'' کے ساتھ لوگ کرتے ہیں کہ رس نکال کر پی لیتے ہیں یا بیچ دیتے ہیں یا گڑ بنا لیتے ہیں اور پھوگ کو جلا دیتے ہیں چنانچہ ہم غنی خان کے نام سے منعقد ہونے والی اس تقریب کے لیے تیار ہوئے تھے، لیکن ہمارا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب دوسری بار یاد دہانی کرتے ہوئے ان صاحب نے بتایا کہ پروگرام میں ایوارڈ بھی دیے جائیں گے اور جائے وقوع حیدر ہوتی کا گھر ہو گا اور ان دونوں ہی ناموں سے ہمیں سخت ترین الرجی ہے اور جب سے بڑے ہوتی کی نورا کشتی ۔۔۔ یا ''تنازعہ برائے تقسیم مال غنیمت'' کا ڈرامہ دیکھا درمیانے ہوتی کے دور میں خدائی خدمت گاری کی درگت دیکھی ہے اور چھوٹے ہوتی جو باچا خان مرکز کے مدار المہام بھی ہیں کے سیکنڈل منظر عام پر آئے ہیں تب سے تو اس لفظ ''ہوتی'' ہی سے الرجی ہونے لگی ہے اور ایورڈز کے بارے میں تو ایک دنیا جانتی ہے کہ دنیا میں اگر ہمیں کسی چیز سے شدید نفرت ہے تو وہ ایوارڈ ہے لیکن ہمارے تحفظات پر بتانے والے نے کہا کہ تقریب ہوتیوں کے گھر میں ضرور ہے لیکن خالص ادبی اور غنی خان کی تقریب ہے اور اب آپ وعدہ کر چکے ہیں اور ہم کارڈ میں ذکر بھی کر چکے ہیں اس لیے آنا تو پڑے گا ہی... سوچا چلو اگر ہندو یار کے لیے گائے کا گوشت کھا سکتا ہے تو کیا ہم غنی خان کے لیے ہوتی ہاؤس نہیں جا سکتے۔

وہاں پہنچے تو خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا، اے این پی کے لیڈروں کو یاد آ گیا تھا کہ ان کے فتراک میں کوئی نخچیر بھی تھا جس کا نام غنی خان تھا، جائے واردات پر حد نظر گاڑیاں نظر آ رہی تھیں ، سامنے ہی لوگوں کا ایک جمگھٹا کھڑا تھا ہم سمجھے کہ استقبالیہ کے لوگ ہوں گے اور انھوں نے ہمارے پہنچتے ہی دونوں ہاتھ پھیلا بھی دیے ہم سمجھے بغل گیر ہو کر خوش آمدید کہیں گے اس لیے ہم نے بھی دونوں ہاتھ گرم جوشی سے پھیلائے لیکن وہ ہاتھ بغل گیر ہونے کے بجائے ہمارا جسم ٹٹولنے لگے تو سمجھ میں آیا کہ یہ تو خیر مقدم نہیں تلاشی ہے یہاں وہاں دیکھا کہ شاید کوئی استقبال کرنے والا بھی ہو، لیکن وہاں تو سارے ٹٹولنے والے ہی تھے۔ اب اوکھلی میں سر دیا تھا تو آگے بڑھنا مجبوری تھی، لیکن کئی دروازوں اور ایک لمبی گزر گاہ کو عبور کرنے کے باوجود کسی شاعر ادیب کا منہ نہیں دیکھا، صرف بڑی بڑی توندیں، لمبی لمبی واسکٹیں اور سرخ ٹوپیاں ہی نظر آ رہی تھیں ایک نسبتاً کم بھیڑ والے راستے پر ایک شخص کو تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھا تو کچھ تسلی ہوئی کہ شاید یہ شخص ہمارے خیر مقدم کو آگے بڑھا ہے لیکن ہمارے سامنے پہنچ کر وہ ایک دم ہاتھ پھیلا کر ہمارے پیچھے چلا گیا اور کسی بڑی توپ سے بغل گیر ہوا تو پتہ چلا کہ جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی ۔۔۔ اس دروازے کو بھی عبور کیا، ہاتھوں سے تلاشی تو نہیں لی گئی لیکن آنکھوں کے ڈیٹیکٹر سے خوب خوب چیک کیا گیا، سوچا اب یہاں تو کوئی جانا پہچانا چہرہ نظر آ ہی جائے گا لیکن وہاں تو کچھ اور ہی منظر تھا لوگ ٹولیوں میں بٹ کر کسی نہ کسی توپ سے چمٹے ہوئے تھے۔خیال تھا جب ہال بھر جائے گا تو تالیوں کی گونج میں ہوتیوں کا ظہور ہو گا لوگ کھڑے ہو جائیں گے ناموں کی مالا جپ جپ کر نعرے لگائے جائیں گے ممکن ہے کہیں سے ''غنی خان'' کی طوطی بھی بولے لیکن وہ آواز نقار خانے میں گم ہو کر رہ جائے گی اس کے بعد میلہ لگے گا اور ہر مداری اپنا ''دارو'' بیچے گا اور کسی مرحلے پر کچھ لوگوں کو بہت بڑے بڑے ہاتھوں سے ایوارڈ بھی دلوائے جائیں گے اور پھر پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہو گا یعنی میلہ ویلہ کچھ نہیں صرف ہماری وہ میلی سی چادر چرانے کا بہانہ تھا جس کا نام غنی خان تھا،

وہ شاعر تھا مگر خان تھا تو اب خانوں کے کام آیا

ایسے مقام پر بھلا اس بدبخت کے ٹھہرنے کا کیا جواز تھا جس کے پاس لے دے کر ایک غنی خان تھا اور اسے بھی یہ لوگ چھین کر لے گئے
ہم سے نہ پوچھو سپاہیا سے پوچھو
جس نے بجروا میں چھینا دوپٹہ میرا

ویسے بھی کہاں کس مپرس خدا مارے دربدر خاک بسر شاعر اور کہاں غنی خان، وہ تو ایک مرد درویش تھا جس نے خانی کو ٹھکرا کر ہمارے قبیلے میں آنا پسند کیا لیکن اس کی وراثت کے دعویدار بھلا اسے غلط جگہ پر کیسے چھوڑ سکتے تھے جب تک ضرورت نہیں تھی تب تک چھوڑا، لیکن ضرورت پڑنے پر ہر ''وارث'' کو اپنی میراث یاد آ ہی جاتی ہے سو وہ چند روزہ امانت جس کا نام غنی خان تھا جب تک اصلی وارثوں کو ضرورت نہیں تھی ہمارے پاس رہی، لیکن کبھی نہ کبھی نہ تو باچا خان کے میراث خوروں کو پتہ چلنا تھا کہ باچا خان کے نام ایک غنی نام کی جائیداد بھی ہے جو غلط ہاتھوں میں چلی گئی ہے، اس تقریب کی شان اٹھان اور آن بان نے ہمیں باور کرا دیا کہ اب غنی خان ہمارے نہیں رہے۔