ہماری نیک خواہشیں اور تلخ حقائق

حکماکہتے ہیں کہ کسی کی مدد کرو تو ایسے کرو کہ سیدھے ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے


Zaheer Akhter Bedari April 15, 2014
[email protected]

حکماکہتے ہیں کہ کسی کی مدد کرو تو ایسے کرو کہ سیدھے ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے، سعودی عرب ہمارا دوست ہی نہیں بلکہ مخلص دوست ہے وہ اپنے دوستوں کی مدد اس طرح کرتا ہے کہ دائیں ہاتھ سے دی جانے والی مدد کا بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں چلتا۔ ابھی ابھی اس نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی مدد اسی طرح دینے کی کوشش کی کہ دائیں ہاتھ کی حرکت کا بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے لیکن برا ہو ہمارے منہ پھٹ میڈیا کا کہ اس نے اس چپ چپاتی مدد کو اس اس طرح طشت ازبام کردیا کہ ساری دنیا میں اس ڈیڑھ ارب ڈالر کا ڈنکا بج گیا۔ اگر کوئی دوست ملک ہماری مدد کرتا ہے خواہ وہ ڈیڑھ ڈالر کی ہو یا ڈیڑھ ارب ڈالر کی تو ہمارا فرض ہے کہ ہم خاموشی سے ایسی مدد لے کر خاموشی سے مدد دینے والے کا شکریہ ادا کریں لیکن چونکہ آج کل دنیا کا کلچر ہی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور وزرا کرام کو تو چھوڑیے کوئی للو پنجو بھی کسی کی لاکھ دو لاکھ سے مدد کرتا ہے تو دس بیس چینل کے کیمرہ مینوں، چار چھ اخبارات کے رپورٹروں کو بلا لیتا ہے اور کیمروں کی چکا چوند میں چیک مستحق کے حوالے کرتا ہے۔

یہ حرکتیں صرف اہل سیاست ہی نہیں کرتے بلکہ جبہ و دستار والے بھی اس وقت تک کوئی نیکی کا کام نہیں کرتے جب تک کہ پانچ دس چینلوں، اخباروں کے کیمرہ مین سامنے نہیں ہوتے لیکن آفرین ہے ہمارے سعودی بھائیوں پر کہ انھوں نے اپنی سی پوری کوشش کی کہ سیدھے ہاتھ کی کارروائی کا بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے لیکن میڈیا کے کارندوں نے اس ''چھوٹی سی بات'' کا اتنا بڑا بتنگڑ بنا دیا کہ حکومت کے توپچیوں کو بغلوں میں تردید کی توپیں لے کر میدان میں آنا پڑا اور یہ توپچی حلق پھاڑ پھاڑ کر یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی مدد راہ اللہ فی سبیل اللہ ہے اس کے پیچھے کوئی مطالبہ کوئی شرط کوئی غرض وابستہ نہیں ہے لیکن ہر طرف سے میں نہ مانوں کی صدائیں ہی بلند ہو رہی ہیں کوئی کہہ رہا ہے اس ڈیڑھ ارب کی مدد کا بدلہ چکانے کے لیے پندرہ ہزار پاکستانی فوجی جوانوں کو سعودی عرب بھیجنا پڑے گا کوئی کہہ رہا ہے شام میں بشار الاسد کا دھڑن تختہ کرنے کے لیے پاکستانی مجاہدین اور پاکستانی اسلحہ شام بھیجنا پڑے گا بہرحال جتنے منہ اتنی باتیں کہا جاتا ہے کہ ندی نالوں کے منہ بند کیے جاسکتے ہیں کہنے والوں کے منہ بند نہیں کیے جاسکتے جب کہ بولنے والوں کے لیے سیکڑوں ٹاک شو منہ کھولے کھڑے ہیں۔اصل میں یہ ٹنٹا اس لیے بھی کھڑا ہوا ہے کہ انکل سام نے اپنے دیرینہ رفیق کار سعودی عرب کی خواہشوں اور ضرورتوں کو نظرانداز کرکے ایران کے صدر حسن روحانی سے دوستی کا سلسلہ شروع کردیا ہے یہ تبدیلی امریکا کی اگر ادا ٹھہری تو سعودی عرب کی جان پر بن گئی۔ عرب و عجم کے اس سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال پرانے تنازع نے ایک بار پھر امریکی سیاست کی وجہ سے شدت اختیار کرلی ہے۔ ہمارے حکومتی حکما اس حوالے سے یہ بامعنی تردید کر رہے ہیں کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے بدلے نہ فوج دی جا رہی ہے نہ ہتھیار دیے جا رہے ہیں بلکہ زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کو ہلکے ہتھیار، تھنڈر طیارے وغیرہ وغیرہ بیچنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اگر حکومت ایسا کر رہی ہے تو کیا برا کر رہی ہے۔ ہتھیار وغیرہ وغیرہ بکیں گے تو دولت حاصل ہوگی اور دولت حاصل ہوگی تو دولت مندوں کی دولت میں اضافہ ہوگا۔

کہا جا رہا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے آ جانے سے امریکی ڈالر 110 کے ہائی ریٹ سے گر کر 98 روپے کی سطح پر آگیا۔ حکومتی اکابرین ڈالر کی قیمت میں کمی کو نہ صرف اپنی حکومت کا ایک بہت بڑا کارنامہ قرار دے رہے ہیں بلکہ عوام کو یہ مژدہ بھی سنا رہے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں اس ہوش ربا یا دل ربا کمی سے مہنگائی میں کمی آئے گی لیکن آسمانی اور زمینی حقائق میں بڑا فرق ہوتا ہے ڈیری والوں نے دودھ دہی 20 روپے کلو مہنگا کردیا ہے پولٹری والوں نے مرغی کے گوشت میں 50-40 روپے فی کلو اضافہ کردیا ہے بڑے اور چھوٹے گوشت کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں سبزی والوں نے سبزیوں کے دام بڑھا دیے ہیں بھنڈی 120 روپے کلو، آلو 50 روپے کلو آسانی سے مل رہے ہیں۔ دس کلو آٹے کی قیمت میں 20 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، باسمتی چاول 180 سے 200 روپے کلو کھلے عام فروخت ہو رہا ہے بجلی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہو رہا ہے۔ رشوت کے ریٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی کے تناسب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دواؤں کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہو رہا ہے کہ مریض دواؤں کے بجائے دعائیں خرید رہے ہیں اگرچہ کہ دعاؤں کے ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں لیکن ٹی وی چینلوں کے مذہبی پروگراموں کی بدولت دعائیں اب بھی دواؤں سے سستی ہیں۔ یہ ساری وہ سہولتیں ہیں جو ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ سے عوام کو حاصل ہو رہی ہیں اور ڈالر کی قیمت میں کمی ڈیڑھ ارب ڈالر کے بے غرض تحفے کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے قبل پاکستان اسلامی دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک تھا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اگرچہ کہ یہ اعزاز اس سے چھن گیا ہے لیکن یہ اعزاز ہم سے اب تک کوئی نہیں چھین سکا اور حالات بتا رہے ہیں کہ یہ اعزاز مستقبل میں بھی کوئی نہیں چھین سکے گا کہ ''پاکستان اسلام کا قلعہ ہے'' اس اعزاز ہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مسلم ملکوں میں بھائی چارہ پیدا کریں۔

مرحوم بھٹو نے مسلم ملکوں کی تاریخی کانفرنس کا انعقاد کرکے پاکستان کے اعزاز میں اضافہ کیا تھا اس کے بعد اگرچہ یہ کوششیں ہماری سیاسی جنگوں کے نیچے دب گئی تھیں لیکن موجودہ حکومت کے اکابرین اپنے بیانوں سے ان کوششوں کو دوبارہ زندہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ ہمارے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا فرمانا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح مسلم ملکوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہے۔ ہماری اس نیک خواہش پر تو کوئی شبہ نہیں کرسکتا لیکن اس نیک خواہش کی تکمیل کے لیے ہم کون سا راستہ اختیار کر رہے ہیں اس پر ہماری نظر غالباً نہیں جا رہی ہے یا ہم اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شام میں ایران کی حمایت یافتہ بشارالاسد حکومت کے خلاف گروہوں کی سرپرستی بھی بعض مسلم ممالک کر رہے ہیں۔ امریکا ایران سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش تو کر رہا ہے لیکن بشار الاسد کی حکومت گرانے میں شریک ہے۔ روس اور چین ایران پر اقتصادی پابندیوں کے سخت خلاف رہے ہیں اور شام میں امریکی پالیسیوں کے بھی سخت مخالف ہیں ۔ امریکا نے ابھی بشار الاسد کی مخالف قوتوں کو اسلحے کی مدد دینے اور اردن میں شام کے باغیوں کو جنگی تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے روس اور چین اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں۔ ان حقائق کے پیش منظر ہمیں احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔

مقبول خبریں