مملکت ناپرسان میں ایک سو پچیس فیصد لٹریسی
تعمیرات کا وزیر سب سے بڑا تخریب کار ہوتا ہے، روشنی یعنی بجلی کا وزیر دونوں آنکھوں سے اندھا ہونا ضروری ہوتا ہے
تاریخ سے دل چسپی رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ مملکت ناپرسان کی بنیاد نظریہ ''الٹ پلٹ'' پر ہے جو آج سے چار سو بیس سال پہلے موجودہ حکمران قہر آسمانی، آفت ناگہانی، بلائے جادوانی، یعنی آفت مجسم، مصیبت عالم، قہر مجسم کے ''بگڑ بگڑ'' دادا جناب قہر اعظم کدو سرہ نے آئینے کے اندر بنائی تھی یوں کہیے کہ جس طرح بھارت کی بنیاد نظریہ تجارت، امریکا کی بنیاد نظریہ فساد، برطانیہ کی بنیاد نظریہ سیاست اور پاکستان کی بنیاد ''نظریہ ضرورت'' پر ہے، اسی طرح مملکت ناپرسان کی اساس نظریہ الٹ پلٹ پر ہے جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں، جو بولا جاتا ہے وہ کیا نہیں جاتا اور جو کیا جاتا ہے وہ بولا نہیں جاتا، چناں چہ اس نظریہ الٹ پلٹ کے مطابق مملکت ناپرسان کا آئین بھی بنایا گیا ہے جس کے مطابق وہاں کا وزیر تعلیم سب سے بڑا جاہل بنایا جاتا ہے وزیر صحت کے منصب پر ایک لاکھ ایک ہزار ایک امراض کا مریض فائز کیا جاتا ہے۔
تعمیرات کا وزیر سب سے بڑا تخریب کار ہوتا ہے، روشنی یعنی بجلی کا وزیر دونوں آنکھوں سے اندھا ہونا ضروری ہوتا ہے ، کرپشن میں نمبر ون آنے والے کو احتساب کا قلم دان سونپا جاتا ہے، گھوڑا گھاس کی رکھوالی کرتا ہے، دانائی کا محکمہ گدھے اور فلسفے کا ڈیپارٹمنٹ الو کے سپرد ہوتا ہے، برف کو دھوپ میں اسٹور کیا جاتا ہے، پانی کو سراب میں ذخیرہ کیا جاتا ہے اور آگ پانی کے نیچے جلائی جاتی ہے، اس میں فلسفہ یہ ہے کہ محرومی ہی سب سے بڑی قدر دانی ہے، تعلیم کی اہمیت جاہل اور صحت کی اہمیت مریض سے زیادہ کون جانتا ہے، کرپشن کرنے والوں کو صرف کرپشن شناس ہی پہچان سکتا ہے، اس زبردست پالیسی کے ''ثمرات'' تو ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں لیکن محکمہ تعلیم نے کچھ زیادہ ہی ثمرات پیدا کر لیے، چناں چہ اس وقت مملکت ناپرسان میں ''لٹریسی'' لگ بھگ ایک سو پچیس فیصد ہے۔ اس بے پناہ لٹریسی کی وجہ سے ایک بہت ہی پیچیدہ آئینی مسئلہ پیدا ہوا ہے، یعنی ایک سو پچیس فیصد لٹریسی کی وجہ سے محکمہ تعلیم کے لیے ''کوالی فائی'' وزیر نہیں مل رہا ہے
اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
آئے جہاں گئے ڈگری کا تحفہ لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ جہلا لے کر
چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کو جب اس گمھبیر مسئلے کا پتہ چلا تو اس نے فوراً اپنے پروگرام ''چونچ بہ چونچ'' میں ایک ''چونچ لڑاؤ'' مقابلے کا انتظام کیا، چناں چہ وہاں سے مملکت ناپرسان کی سب سے بڑی ''چونچ'' وہاں کے موجودہ عبوری وزیر تعلیم جناب ''لوح و قلم خان'' کو بلوایا گیا ہے جو مملکت ناپرسان میں چالیس بار وزیر تعلیم رہ چکے ہیں اور ابھی کم از کم بیس بار کی اور بھی ہوس رکھتے ہیں لیکن حزب اختلاف نے ان کے راستے میں یہ روڑا اٹکایا ہے کہ موصوف کی جاہلیت کی ڈگری جعلی ہے وہ نہ صرف بچپن میں ایک اسکول میں صبح آٹھ بجے سے سارے آٹھ بجے تک پڑھے ہوئے ہیں بلکہ کچھ ایسے چیک بھی ثبوت کے طور پر سوئٹزر لینڈ سے لائے گئے ہیں جن پر جناب لوح و قلم خان کے دستخط پائے گئے ہیں۔ خیر یہ تو وہاں کا آئینی قانونی اور اندرونی مسئلہ ہے ہم اپنے اصل مسئلے ''کثرت لٹریسی'' پر آتے ہیں
اینکر : لوح و قلم صاحب کیسے مزاج ہیں آپ کے؟
لوح : کم از کم چار بیوی کے شوہر سے تو اچھے ہیں کیوں کہ ابھی میری صرف تین ہیں
چشم : علامہ یہ آپ کے ہم زلف نکلے آپ کی بھی تو تین ہیں
علامہ : اسے ہم زلف نہیں بل کہ ''ہم زوجہ'' کہا جاتا ہے
چشم : تو کیا آپ دونوں کی بیویاں گنجی ہیں
علامہ : نہیں تو
چشم : تو پھر ہم زلف بھی ہوئے نا ۔۔۔۔ تین تین عدد زلف گرہ گیر کے مالک
اینکر : زلفوں کو ماریئے جوئیں ... ذرا مہمان سے کچھ تعلیم پر بات کرنے دیں، ہاں تو جناب یہ جو ناپرسان میں لٹریسی کی اتنی کثرت ہو گئی ہے اس سے آخر نقصان کیا ہے
لوح : بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے کیوں کہ سارے لوگ ہاتھوں میں ڈگریاں لیے ہوئے پھر رہے ہیں نہ کوئی کام کا رہا نہ کاج کا، صرف دشمن اناج کا رہ گیا ہے، کہتے ہیں ہم کام کیوں کریں ہم تو پڑھے لکھے ہیں
اینکر : ہاں یہ تو ہے
لوح : اس کا نتیجہ نکلا کہ مملکت ناپرسان میں کوئی ''کام'' کرنے والا نہیںرہا ہے سب کے سب نوکری کرنا چاہتے ہیں
اینکر : مگر نوکری بھی تو کام ہوتا ہے
لوح : کس نے کہا ہے کہیں ہو گا لیکن مملکت ناپرسان میں نوکری کام نہ کرنے کے لیے کی جاتی ہے
چشم : کمال ہے تو پھر تنخواہ کس بات کی لیتے ہیں
لوح : کام نہ کرنے یا کام کو بگاڑنے کی ... آئینے کی دنیا ہے جس نے کام کیا وہ کام سے گیا، اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
علامہ : یہ تو بڑا اچھا ملک ہے چلو ایک آنکھ والے بدبخت ہم بھی رخت سفر باندھ لیں اور کام نہ کرنے کی تنخواہوں سے مزے لیں
چشم : سنا نہیں وہاں پہلے سے ہی تعلیم یافتہ بھرے پڑے ہیں
اینکر : تم دونوں ذرا اپنی چونچیں بند رکھو ... جناب لوح و قلم خان صاحب ... تو پھر وہاں کے کام کون کرتا ہے
لوح : یہی تو پرابلم ہے سارے کاموں کے لیے باہر سے آدمی منگوائے جاتے ہیں پالش سے لے کر مالش تک ہوٹلوں سے لے کر موٹلوں تک اور کھیتوں سے لے کر کلیانوں تک ہر جگہ باہر سے آدمی منگوا کر کام چلایا جا رہا ہے ضرورت کی تمام اشیاء سوئی سے لے کر ڈوئی تک اور جوتوں سے لے کر ''کرتوتوں'' تک سب کچھ دساور سے آتا ہے
اینکر : مگر تعلیم یافتہ ہونے کا یہ مطلب تو نہیں
لوح : ناپرسان میں یہی مطلب ہوتا ہے تعلیم کا ... کہ کام کچھ بھی نہ کرے اور کمائے سب کچھ
چشم : ٹھیک کرتے ہیں تعلیم یافتہ لوگ ہاتھ پیروں کے کام کریں گے تو کیا اچھے لگیں گے
علامہ : علم اور جان کاری کے کام تو کرتے ہوں گے نا
لوح : بدقسمتی سے ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ وہاں جو طریقہ تعلیم رائج ہے وہ الٹ پلٹ ہے کام کر کے کمانا تو جاہلوں کا کام ہے، تعلیم کا پھر فائدہ ہی کیا جو کام کر کے کمایاجائے
اینکر : یہ تو عجیب بات ہے
لوح : عجیب تو خود ناپرسان بھی ہے اور چوں کہ عجیب ہے اس لیے غریب بھی ہے دراصل نظریہ تعلیم یہ ہے کہ
پڑھو گے لکھو گے بنوں گے نواب
کھیلوں گے کودو گے ہو گے خراب
چناں چہ جو پڑھ لکھ گئے وہ تو نواب ہو گئے
اینکر : اور باقی جو کھیلے کودے
لوح : ان کا نظریہ بھی ہے کہ
کھیلو گے کودو گے بنوں گے نواب
پڑھو گے لکھو گے تو ہو گئے خراب
چشم : گویا آدھے یہ اور آدھے یہ ... تو باقی کیا بچا
لوح : باقی بچی سیاست جو ان دونوں سے زیادہ آسان ہے نہ کھیلنے کودنے کی ضرورت نہ پڑھنے لکھنے کی حاجت ... اور بنے بنائے نواب
علامہ : یہ ناپرسان میں بھی پتہ نہیں کیا کیا الم غلم نظریات پائے جاتے ہیں
لوح : وہاں جو کچھ بھی ہے وہ نظریات ہی ہیں اور نظریات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے
اینکر : کیا وہاں آدمی نہیں ہیں
لوح : آدمی بھی نظریات ہی نظریات ہیں ہر شخص جس کے کاندھوں کے اوپر سر ہے اور سر میں خلا ہے اورمنہ میں زبان ہے وہ اپنی جگہ ایک نظریہ ہے
اینکر : کیسا نظریہ؟
لوح : کام نہ کرنے کا نظریہ باتیں بگھارنے کا نظریہ، باتیں بنانے، سنانے اور پھیلانے کا نظریہ
اینکر : میرا خیال ہے ہم موضوع سے ہٹ رہے ہیں مہربانی کر کے تعلیم پر فوکس کر دیجیے
لوح : ہاں تعلیم کے بھی تین نظریے تین دھارے تین قبیلے اور تین فلسفے ہیں
اینکر : مثلاً
لوح : ہاں سرکاری انڈسٹری میں جو مال تیار ہوتا ہے وہ سرکاری دفتروں کے لیے استعمال ہوتا ہے دوسری غیر ملکی تعلیمی انڈسٹری میں افسران لیڈران اور حکمران تیار ہوتے ہیں
اینکر : اور تیسری ۔۔۔ انڈسٹری
لوح : تیسری انڈسٹری میں یہ لوگ تیار ہوتے ہیں (علامہ کی طرف اشارہ کر کے)
اینکر : کیا مطلب؟
لوح : علماء دانشور اور بولنے والے تیار کیے جاتے ہیں
اینکر : صرف یہ بتائیں کہ اب مملکت ناپرسان کے ارادے کیا ہیں؟
لوح : ارادے یہ ہیں کہ کم ازکم پچیس سال کے لیے تعلیم پر پابندی لگائی جائے تاکہ ملک میں کام کرنے والے پیدا ہو جائیں۔