منافع کا حصول کراچی حصص مارکیٹ جمود کا شکار ہوگئی

مارکیٹ سرمایہ 9 ارب 49کروڑ روپے بلند، 38 کروڑ 66 لاکھ حصص کا لین دین ہوا


Business Reporter April 16, 2014
مارکیٹ سرمایہ 9 ارب 49کروڑ روپے بلند، 38 کروڑ 66 لاکھ حصص کا لین دین ہوا۔ فوٹو: فائل

کراچی اسٹاک ایکس چینج کے بیشترکاروباری دورانیے میں آئل اینڈ گیس سیکٹر میں وسیع پیمانے پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث کاروباری صورتحال ملے جلے رحجان سے دوچار رہی جس سے 51 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں البتہ آل شیئرانڈیکس میں35.10 پوائنٹس کے اضافے سے حصص کی مالیت مزید9 ارب49 کروڑ62 لاکھ86 ہزار558 روپے بڑھ گئی۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران ریکارڈ نوعیت کی تیزی کے بعد مارکیٹ میں استحکام کے لیے تکنیکی درستگی کا عمل ضروری ہوگیا تھا، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں کی جانب سے حصص کی آف لوڈنگ بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستانی یوروبانڈز کو حاصل ہونے والی پزیرائی کے سبب ملکی معیشت بہتر ہونے کی توقع پیدا ہو گئی ہے اور اس کے مثبت اثرات کیپٹل مارکیٹ پر بھی مرتب ہورہے ہیں لہٰذا جاری ملے جلے رحجان یا مندی کی صورتحال خالصتا عارضی نوعیت کی ہے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر69 لاکھ25 ہزار363 ڈالر کا انخلا کیا گیا۔

اس دوران مقامی کمپنیوںنے43 لاکھ 23 ہزار272 ڈالر، این بی ایف سیز 4 لاکھ19 ہزار96اور انفرادی سرمایہ کاروںنے21 لاکھ 82 ہزار995 ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس1.64 پوائنٹس کے اضافے سے29095.77 ہوگیا جبکہ اس کے برعکس کے ایس ای30 انڈیکس48.07 پوائنٹس کی کمی سے 20310.83 اور کے ایم آئی30 انڈیکس251.27 پوائنٹس کی کمی سے46795.04 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 30.81 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر38 کروڑ 66 لاکھ65 ہزار740 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار362 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں152 کے بھائو میں اضافہ، 184 کے داموںمیں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔