فیکٹری آتشزدگی کیس معائنے کے بغیر محفوظ قرار دی گئی 50 فیکٹریوں کی تفصیل طلب

گارمنٹ فیکٹری کو ’’رینا‘‘ نے آتشزدگی سے20روزقبل محفوظ قراردیا،ادارے نے مزید50ٹیکسٹائل فیکٹریوں کوکلیئرکردیا


Staff Reporter April 17, 2014
11 ستمبر 2012 کو علی انٹر پرائزز میں لگنے والی آگ کی تصویر دوسری طرف امدادی کام ہورہا ہے(فائل فوٹو)

عدالت عالیہ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں خوفناک آتشزدگی کا شکار ہونیوالی گارمنٹ فیکٹری علی انٹرپرائززکو محفوظ قرار دینے والی غیر ملکی کمپنی ''رینا'' کی جانب سے محفوظ (کلیئر) قرار دی گئی مزید50 ٹیکسٹائل فیکٹریوں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی، درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خوفناک آتشزدگی کا شکار ہونیوالی گارمنٹ فیکٹری علی انٹرپرائزز کو غیر ملکی کمپنی نے محفوظ قرار دیا تھا، فیکٹری کو کلیئر قرار دینے کے20 روز بعد 11 ستمبر 2012 کو اس میں خوفناک آتشزدگی ہوئی ،250 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، وکیل نے الزام لگایا کہ غیر ملکی کمپنی رینا نے معائنے کے بغیر ہی مزید50 ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو بھی کلیئر سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں، عدالت نے محفوظ قرار دی گئی مزید 50 فیکٹریوں سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے ۔



عدالت نے محکمہ محنت و افرادی قوت کو حکم دیا ہے کہ رپورٹ میں بتایا جائے کہ جن فیکٹریوں کو محفوظ قرار دیا گیا کیا وہاں حفاظتی اقدامات یقینی بنائے گئے ہیں یا نہیں، پائلر اور فشرفوک فورم سمیت دیگر فریقین کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں محکمہ داخلہ، وزارت محنت ،وزارت تجارت، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کو فریق بناتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹ فیکٹری علی انٹرپرائزز میں آتشزدگی کی منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں، مقدمہ ماتحت عدالت سے سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا جائے،عدالت نے مقدمے کی سماعت 8 مئی تک ملتوی کردی۔