بینک لاکرز ڈکیتی کیس محکمہ داخلہ آئی جی اور پولیس افسران سے جواب طلب

سیکیورٹی گارڈ زاہد جاکھڑو پر پولیس بہیمانہ تشدد کررہی ہے،بھائی کی درخواست


Staff Reporter April 17, 2014
سیکیورٹی گارڈ زاہد جاکھڑو پر پولیس بہیمانہ تشدد کررہی ہے،بھائی کی درخواست۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

ISLAMABAD: سندھ ہائیکورٹ نے نجی بینک کے لاکرز ٹوٹنے سے متعلق محکمہ داخلہ سندھ ،آئی جی سندھ ، اے آئی جی کراچی ، ڈی آئی جی ویسٹ اور دیگر سے 22 اپریل تک جواب طلب کرلیا۔

بدھ کو عابد جاکھڑو نے پولیس حکام کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کا بھائی زاہد جاکھڑو نجی بینک میں سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے تعینات تھا ، نامعلوم ملزمان نے رات کے اندھیرے میں بینک میں موجود لاکرز توڑے اور بھاری مالیت کا سامان لوٹ کر لے گئے ، پولیس نے اصل ملزمان کی تلاش کے بجائے اس کے بھائی کو حراست میں لیا ہوا ہے ،درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس کے بھائی کی حراست غیر قانونی ہے کیونکہ اس کانام ابھی تک ایف آئی آر میں درج نہیں ہے۔

لیکن پولیس اس سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے اس پر بہیمانہ تشدد کررہی ہے ، درخواست گزار کے مطابق اس کے بھائی پر اگر کوئی الزام ہے تو آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے خلاف الزامات کا دفاع کرسکے،کیونکہ آئین میں ہرشخص کو اپنے خلاف الزامات کے دفاع کا حق ہے، لیکن سرکاری اداروںکو حفاظت کے نام پر یا تفتیش کے لیے کسی شخص کو غیر معینہ مدت کے لیے اپنی تحویل میں رکھنے کا کوئی اختیا رنہیں۔