نجی شعبہ پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائے چیئرمین نیپرا

پاور پلانٹس لگانے کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو 10دن میں لائسنس اور ٹیرف لائنز جاری کردیے جائینگے،خواجہ محمد نعیم


INP April 20, 2014
نیپرا نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا، سرمایہ کاروں کو لائسنس کے اجرا میں تاخیر نہیں کی جائیگی،خواجہ نعیم۔ فوٹو: فائل

چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) خواجہ محمد نعیم نے کہا ہے کہ نجی شعبے میں پاور پلانٹس لگانے کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو دس دنوں میں لائسنس اور ٹیرف لائنز جاری کردیے جائیں گے۔

پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش ہے جس سے نجی شعبے کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ نیپرا نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور سرمایہ کاروں کو لائسنس کے اجرا میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔ اس شعبے میں منافع کی شرح ناقابلِ یقین ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی جبکہ نائب صدر کاشف انور، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں مقصود احمد بٹ، میاں زاہد جاوید احمد ،طلحہ طیب بٹ اور ایم این اے پرویز ملک نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ خواجہ محمد نعیم نے کہا کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ نجی شعبے کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

نیپرا نے شوگر انڈسٹری کو نیا ٹیرف دیا ہے اور انہیں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز بننے کی اجازت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ شوگر انڈسٹری سے چھبیس میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی جبکہ جون میں مزید چھبیس میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے سے نجی شعبے کو بجلی کی فروخت کے لیے نیپرا پہلے ہی قواعد و ضوابط تشکیل دے چکی ہے۔ نیپرا پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو تین سالہ ٹیرف دینے پر کام کررہی ہے جس کی تکمیل کے بعد نجی شعبہ ٹیرف میں اضافے کے خدشے سے آزاد ہوکر آرڈرز مکمل کرسکے گا۔ نیپرا کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے کہ لائسنس جاری کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے۔

نجی شعبے کے مسائل بلاتاخیر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ونڈ اورکول انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے نیپرا پہلے ہی ٹیرف کا اعلان کرچکا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے انڈسٹریل اور ڈومیسٹک فیڈرز الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کچھ علاقوں میں الگ فیڈرز نہ ہونے کی وجہ سے مینوفیکچرنگ کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین نیپرا پر زور دیا کہ وہ صنعتی شعبے کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائیں کیونکہ بار بار بندش سے صنعتوں کا پیداواری عمل متاثر ہوتا ہے۔