’’دی سسٹم‘‘

کثیرسرمائے کی فلم سینئراورنوجوان فنکاروں کاخوبصورت امتزاج ثابت ہوگی، غفوربٹ


Qaiser Iftikhar April 22, 2014
ناروے کی خوبصورت لوکیشنز اورجدید ٹیکنالوجی سے بنائی جانیوالی ’’دی سسٹم‘‘۔

دیارغیرمیں بسنے والے پاکستانیوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے ملک کے باسیوں کا ساتھ دیا ہے۔

قدرتی آفات ہوں یا دیگرمسائل بیرون ملک آباد پاکستانی ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ۔ پاکستان فلم انڈسٹری شدید بحران سے دوچار ہے۔ ایک طرف تو جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی ہے اوردوسری جانب جدید سینما گھروں میں بھارتی فلموں کا راج قائم ہے۔ ایسے میں پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی اور ترقی کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں دکھائی دینے لگی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ کچھ عرصہ میں نمائش کیلئے پیش کی جانیوالی پاکستانی فلموں نے اپنی مضبوط کہانی، میوزک ، بہترین لوکیشنز اور فنکاروں کی جاندار پرفارمنس کے باعث انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے۔ جس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ اچھی فلم کسی بھی ملک اور زبان میں بنائی جائے فلم بین اس کوبلا تفریق دیکھنے کیلئے سینما گھروں کا رخ کرتے ہیں۔



اس سلسلہ کو بڑھانے اوراس کو مزید بہتربنانے کیلئے حال ہی میں نارویجن نژاد سینئر پاکستانی فلم میکر غفور بٹ نے کثیر سرمائے سے ایک فلم ''دی سسٹم'' تیار کی ہے جس کی نمائش آئندہ ماہ متوقع ہے۔ فلم میں مرکزی کردار نوجوان اداکار شیراز ادا کر رہے ہیں جبکہ دیگرکاسٹ میں ورسٹائل فلمسٹارندیم بیگ، کشف علی، مریم علی حسین، نیئر اعجاز، سارہ چوہدری، عرفان کھوسٹ، صائمہ سلیم، رابعہ تبسم، سلیم شاہ اور شفقت چیمہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ فلم کے مصنف واجد زبیری اور ڈائریکٹر شہزاد غفور ہیں، جوپہلی مرتبہ فلم کی ڈائریکشن دے رہے ہیں۔



فلم میں جہاں پاکستانی فنکاروں کی حقیقت سے قریب تراداکاری سے استفادہ کیا گیا ہے وہیں بھارت سے تعلق رکھنے والے تکنیکی سٹاف کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ فلم کی عکسبندی ناروے اورپاکستان میں ہوئی ہے لیکن زیادہ کام ناروے کی خوبصورت لوکیشنز پرفلمبند ہوا ہے۔ فلم کے مرکزی کردار شیراز اورکشف پرناروے کے شہراوسلو میں مختلف مناظر کے ساتھ ساتھ گیت بھی پکچرائز کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر بھارتی کوریوگرافر نے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ بین الاقوامی معیارکی اس فلم میں جہاں فلم بینوں کی تفریح کیلئے رومانس، مزاح اورایکشن شامل ہوگا ، وہیں ایک اہم ترین ایشو کوبھی اجاگر کیا جائے گا۔

فلم میں نوجوان ماڈل اورڈانسر مریم علی حسین پر ایک آئٹم سانگ بھی فلمبند کیا گیا ہے جس کے ذریعے فلم کی تشہیر کا عمل شروع کیا جاچکا ہے۔ نوجوان اور سینئر فنکاروں کے ساتھ بنائی جانیوالی فلم کو سوشل میڈیا پر بھی زبردست رسپانس مل رہا ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا پر فلم کے پوسٹر، ویڈیوکلپ اور دیگر کو بہت پسند کیا ہے اور اس فلم کو پاکستان کی جدید ترین فلم بھی قرار دیدیا ہے۔



''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے فلم '' دی سسٹم '' کے پروڈیوسر غفور بٹ نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی اور بقاء اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہمارے ہاں بین الاقوامی معیار کی فلم نہیں بنائی جاتی۔ اس کیلئے کثیر سرمائے، جدید ٹیکنالوجی اور نئے آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔ ہم نے اپنی نئی فلم میں ان تمام باتوں کا خاص خیال رکھا ہے جو موجودہ دور کی اشد ضرورت بن چکی ہیں۔ فلم میں جہاں میں نے باصلاحیت نوجوان فنکاروں کو کام کرنے کا موقع دیا ہے، وہیں فلم انڈسٹری پر برسوں سے راج کرنیوالے ورسٹائل فنکاروں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ناروے کی خوبصورت لوکیشنز پر عکسبند کی جانے والی اس فلم کو ہر لحاظ سے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے جس کا مقصد پاکستانی فلم اورسینما کوانٹرنیشنل مارکیٹ تک لے جانا ہے۔



میں چاہتا تو معمول کی فارمولا فلم بنا سکتا تھا لیکن میں نے اور میری فلم کے ڈائریکٹر شہزاد نے یہ بات طے کر رکھی تھی کہ ہم ایک ایسی فلم بنائیں گے جو پاکستان میں فلمسازی کے نئے ٹرینڈ متعارف کروائے۔ ایک سوال کے جواب میں غفور بٹ نے کہا کہ اس وقت پاکستان فلم انڈسٹری میں جو لوگ مجھ پرتنقید کرتے ہیں وہ صرف میری اس فلم کو دیکھ لیں کیونکہ میں باتیں نہیں کرتا، عملی طور پر کام کر کے دکھاتا ہوں۔ ہرسال ناروے سے آکر ایک فلم ضرور بناتا ہوں۔ میں نے پچھلے تین سال میں 4 فلمیں پروڈیوس کی ہیں کیونکہ میرے دل میں پاکستان فلم انڈسٹری کا درد ہے جسے میں شدت سے محسوس کرتا ہوں۔ میں فلم بنا کر کسی پر احسان نہیں کر رہا بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری نے مجھے جو عزت اور مقام دیا، اس قرض کو اتارنے کیلئے کثیر سرمائے سے فلمیں پروڈیوس کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا بزنس ناروے میں ہے لیکن میرا دل پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے۔ میری نئی فلم سینئر اور نوجوان فنکاروں کا خوبصورت امتزاج ثابت ہوگی۔



فلم کے ڈائریکٹر شہزاد غفور نے کہا کہ پہلی فلم کی ڈائریکشن دینا اور پھر ورسٹائل فنکاروں کے ساتھ کام کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ میں نے ڈائریکشن کی تربیت حاصل کر رکھی ہے لیکن یہ پہلا موقع تھا جب میں عملی طور پر ڈائریکشن کررہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں نوجوان اور سینئر فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ ہماری ٹیم میں بھارت سے تعلق رکھنے والی معروف تکنیکی ٹیم نے بین الاقوامی معیار کی فلم بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔



انہوں نے کہا کہ میں اپنی فلم پاکستان کے ٹیکنیشنز کے ساتھ بنانا چاہتا تھا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے اور اسی لئے انڈیا میں پوسٹ پروڈکشن کام کرنا پڑا۔ میرے پہلے پراجیکٹ کے دوران لوگوں نے بہت تنگ کیا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے ٹاسک کو پورا کرکے ہی دم لیا ہے۔ ہماری فلم مکمل ہوچکی ہے اور اب اس کی تشہیری مہم ترتیب دی جارہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنی فلم کو آئندہ ماہ نمائش کیلئے پیش کریں اور اس کے بعد اسے دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی نمائش کیلئے پیش کیا جائے گا۔



فلم میں اہم کردار نبھانے والے سینئر اداکار نیئر اعجاز نے ''دی سسٹم'' کی کہانی اور اپنے کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سینما ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے اور اس سمت تک کامیابی سے پہنچانے کیلئے ہماری فلم ''دی سسٹم'' اہم کردار ادا کرے گی۔ موجودہ ملکی حالات میں ہر کوئی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری، دہشتگردی، لوڈ شیڈنگ سمیت دیگرمسائل نے ہم سب کی زندگیوں کو اجیرن کردیا ہے۔ ایسے میں عوام کے پاس تفریح کے مواقع نہیں رہے۔ ہماری اس فلم کی کاسٹ میں سینئرز کے ساتھ نوجوان فنکار بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہردکھا رہے ہیں مگر مجھے امید ہے کہ ''دی سسٹم''لوگوں کومکمل انٹرٹین کرے گی۔ فلم کا میوزک، ایکشن اور رومانس لوگوں کو اسے بار بار دیکھنے پر مجبور کردے گا۔ فلم کے ڈائریکٹر شہزاد غفور ایک منجھے ہوئے ہدایتکار ہیں جن کی ڈائریکشن میں کام کرتے ہوئے مجھے بہت سی باریکیوں کو جاننے کا موقع ملا جبکہ نوجوان اداکار شیراز نے بھی مجھے اپنی اداکاری سے بہت متاثر کیا ہے۔ یہ ایک اچھی فلم ہے اور پاکستانی سینما کوایسی ہی فلموں کی ضرورت ہے۔

اداکارشفقت چیمہ نے کہا کہ فلمساز غفوربٹ کاشمار پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئرفلم میکرز میں ہوتا ہے۔ وہ ناروے میں رہتے ہیں لیکن ان کا دل پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے۔ وہ اب تک کئی فلمیں پروڈیوس کرچکے ہیں مگر اس مرتبہ انہوں نے ایک ایسی فلم پروڈیوس کی ہے جو ہر لحاظ سے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔ مجھے اس فلم سے بہت سی توقعات ہیں اور مجھے امید ہے کہ ''دی سسٹم'' ہمارے ملک کے سسٹم میں بہتر تبدیلی لائے گی۔



نوجوان اداکارہ مریم علی حسین اور سارہ چوہدری نے کہا کہ کسی بھی نوجوان فنکار کیلئے اس کے کیرئیر کی پہلی فلم، ڈرامہ یا ماڈلنگ بہت یادگار ہوتی ہے۔ ہم خود کوبہت خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ہم ''دی سسٹم''سے اپنے فنی سفر کا آغاز کررہے ہیں۔

سلور اسکرین پر دکھائی دینا ہر نوجوان فنکار کی اولین خواہش ہوتی ہے لیکن کیرئیر کا آغاز اگر کسی بین الاقوامی معیار کی فلم سے ہوجائے تو اس سے بڑی خوش نصیبی کوئی دوسری نہیں ہے۔ فلم میں ندیم بیگ، نیئراعجاز ، شفقت چیمہ اور عرفان کھوسٹ جیسے ورسٹائل فنکاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھا۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری فلم سال 2014ء کی سب سے کامیاب فلم ثابت ہوگی۔