’ابو غَرَیب‘ کے زندانیوں کی داستانِ درد
باضمیر امریکی دانشوروں، صحافیوں اور فوٹو گرافروں نے ابو غریب کے بارے میں دستاویزی ثبوت و شواہد پیش کیے ۔۔۔
لاہور:
ہزاروں برس پر پھیلا ہوا شاہی اور شہنشاہی کا زمانہ سیاسی مخالفوں، باغیوں کے لیے دنیا میں جہنم کے مترادف رہا۔ اٹھارویں صدی میں انقلابِ فرانس کے بعد جب آزادیٔ افکار، مساوات جمہوریت اور حقوقِ انسانی کا چرچا ہونے لگا، اس کے بعد بھی اب تک سیاسی مخالفین ، باغیوں ، کسی دوسرے ملک پر چڑھائی کے دوران مزاحمت کرنے والوں اور قید ہوجانے والوں نے کیسی عقوبتیں نہ سہیں۔ دور کیوں جائیے برطانوی راج میں آزادی کے لیے لڑنے والے ہندوستانیوں پر کیسے ستم نہیں ٹوٹے۔ لاطینی امریکا کے مختلف ملکوں میں جہاں آمریتیں اپنا جلوہ دکھاتی رہیں، اسپین جہاں جنرل فرانکو کا ظالمانہ دورِ اقتدار ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تھا، ہر ملک کے جیل خانوں اور عقوبت گاہوں کی دیواریں خون سے بھیگی ہوئی ہیں اور اذیت میں مبتلا کیے جانے والوں کی چیخیں ان کی اینٹوں میں جذب ہیں۔
آزادی کے بعد ہمارے یہاں ابتداء میں صرف شاہی قلعہ وہ عقوبت گاہ تھا جہاں سیاسی مخالفین کی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں۔ حسن ناصر اسی عقوبت گاہ میں جان سے گئے اور سبط حسن زندہ بچ نکلے تو عرصے تک ورٹیگو میں مبتلا رہے۔ انھیں جس کوٹھری میں رکھا گیا تھا وہ کنویں جیسی تھی، جہاں زیادہ دنوں قید رہنے والے کا سر چکراتا رہتا تھا اور سیدھا کھڑا رہنا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا تھا۔ آج کے وزیراعظم کی بات چھوڑیئے اس وقت وفاقی کابینہ کے دو وزیر ایسے ہیں جن پر خوب خوب مشقِ ستم ہوئی۔ پہلے ہمارے یہاں ایک شاہی قلعہ تھا، پھر ملک کے متعدد شہروں میں تفتیش کے لیے عقوبت گاہیں بنیں۔ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی یہ عقوبت گاہیں کب بند ہوں گی ہم میں سے کوئی نہیں جانتا لیکن ان کی بندش کے لیے جدوجہد، شہری اور انسانی حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔
وسطی بغداد اور صوبہ عنبار کی سرحد پر زندگی بسر کرتا ہوا عراقی کسانوں کا ایک قبیلہ جو اپنی روایات پر ناز کرتا تھا اور 'ابو غَرَیب' کہلاتا تھا، اس قبیلے کے لوگوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان کی کشادہ دلی اور میزبانی کی تمام روایات ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیں گی اور سابق عراقی صدر صدام حسین کے دورِ اقتدار میں ان کا علاقہ دنیا کی بدنام ترین جیل کے نام سے مشہور ہوگا۔ زندانِ ابو غَرَیب کی دیواروں پر پہلے صدام حسین کی سفاکیوں کی داستان لکھی جائے گی، پھر امریکی آئیں گے اور اپنے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عراقیوں کے ساتھ وہ ستم کریں گے کہ جس کی تفصیلات خود امریکی صحافیوں، فوٹو گرافروں اور دانشوروں کے رونگھٹے کھڑے کردے گی۔
امریکی گئے تو یہ سمجھا جارہا تھا کہ اب یہ داستانِ غم تمام ہوگی لیکن اقتدار کو ہر قیمت پر اپنے قبضے میں رکھنے کی خواہش نے موجودہ حکومت کے وزیراعظم نوری کمال المالکی سے بھی تشدد اور سفاکی کے نئے باب لکھوائے۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ المالکی نے ابو غریب اور دوسری متعدد جیلوں کو قیدیوں سے بھردیا ہے اور ان پر وہ تمام ستم توڑے ہیں جو کسی شقی القلب اور سفاک آدم زاد کے حاشیۂ خیال میں ہی آسکتے ہیں۔
چند دنوں پہلے اسی ابو غریب کے زندان کے بارے میں خبر آئی کہ المالکی حکومت اسے بند کررہی ہے۔ یہ خوشی کی خبر تھی لیکن شاداں و فرحاں اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ اسے محض کچھ دنوں کے لیے بند کیا جارہا ہے اور اس میں قید افراد کو رات میں کرفیو لگا کر فوج کے کڑے پہرے میں وہاں سے عراق کی مختلف جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ المالکی حکومت کو اس کا خطرہ ہے کہ باغی گروہ پچھلے برس کی طرح اس پر دھاوا بول کر یہاں سے قیدیوں کو چھڑا کر لے جاسکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین کے دورِ اقتدار میں یہاں لائے جانے والے پھر واپس نہ جاسکے اور بدترین تشدد کے نتیجے میں 4 ہزار سے زیادہ عراقی خاک میں مل گئے۔ جب ایک عراقی حکمران کا یہ حال تھا تو پھر امریکیوں سے کیا توقع کی جاسکتی تھی۔
لیکن یہ ضرور ہے کہ باضمیر امریکی دانشوروں، صحافیوں اور فوٹو گرافروں نے ابو غریب کے بارے میں دستاویزی ثبوت و شواہد پیش کیے جنہوں نے دنیا بھر کے لوگوں اور بالخصوص امریکی شہریوں کو دہشت زدہ کردیا۔ وہ یہ سوال اٹھانے لگے کہ ہمارے یہ حکمران جو ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں اور جمہوریت کا نام لیتے ہیں، انھیں بھیڑیا اور لکڑ بگھا کہنے کے بجائے 'آدم خور' کیوں نہ کہا جائے۔ یہ وہ ہوشربا انکشافات تھے جنہوں نے سابق امریکی صدر بش جونیئر اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو 'معذرت' پر مجبور کیا اور اسی کے بعد عراق جہاں یہ دونوں حضرات جمہوریت کے بتاشے بانٹنے گئے تھے ، آخر کار وہاں سے واپسی پر مجبور ہوئے۔
ابو غریب کے زندان کے بارے میں خبر آئی تو مجھے مئی 2004میں لکھی جانے والی ایک تحریر یاد آئی۔ میں نے لکھا تھا کہ ابو غریب کے زندانیوں پر جو گزری اس کے سامنے آجانے کے بعد 'واشنگٹن پوسٹ' نے یہ خبر بھی دی ہے کہ گوانتانامو کے قیدیوں سے تفتیش کے لیے حکومتِ امریکا نے تشدد کے 20مختلف طریقوں کی منظوری دی تھی جو یہاں ابو غَرَیب میں آزمائے گئے ۔ ایک دبلی پتلی لڑکی کی تصویر ساری دنیا میں دیکھی گئی، وہ ایک برہنہ قیدی کے گلے میں چمڑے کا تسمہ ڈالے ہوئے اسے زمین پر گھسیٹ رہی تھی، اس کے کورٹ مارشل کے احکامات آگئے ہیں۔
وہ ان سات امریکی فوجیوں میں سے ایک ہے جو قیدیوں سے شدید بدسلوکی میں ملوث تھے۔ اس فوجی خاتون افسر سبرینا ہرمین نے 'واشنگٹن پوسٹ' کو بتایا کہ قیدیوں پر ظلم ملٹری انٹیلی جنس کے حکم پر کیا گیا۔ انٹیلی جنس حکام نے ہدایت دی تھی کہ عراقی قیدیوں کی زندگی جہنم بنادی جائے۔ سبرینا ہرمین نے مزید کہا کہ ہمیں نہ تو قیدیوں سے تفتیش کی تربیت دی گئی تھی اور نہ ہم جنیوا کنونشن سے آگاہ تھے۔
امریکی جریدے 'نیو یارکر میگزین' نے ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں پر امریکی مظالم کے مزید شواہد پیش کیے ہیں۔ اتوار کو جریدے میں شایع ہونے والی تازہ تصاویر ایک ایسے عراقی قیدی کی ہیں جسے برہنہ کرکے ہاتھ پائوں باندھ دیے گئے ہیں، وہ شدید زخمی ہے اور اس کے زخموں سے خون بہتا نظر آرہا ہے۔ ایک تصویر میں دو خونخوار جرمن شیپرڈ کتے اس قیدی پر بھونک رہے ہیں اور قیدی کے چہرے سے خوف عیاں ہے۔ ایک اور تصویر میں قیدی زمین پر گرا ہوا ہے اور ایک فوجی اس کی پیٹھ پر تشدد کررہا ہے۔
یہ تفصیلات جو امریکی اور یورپی اخبارات یا ٹیلی وژن چینلوں کے ذریعے دنیا کو معلوم ہورہی ہیں، ان کی نسلی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اس صورت حال پر برطانوی صحافی رابرٹ فسک کی تازہ ترین تحریر روشنی ڈالتی ہے۔ اس نے اپنی دادی مارگریٹ فسک کے اس 'تحفے' کا ذکر کیا ہے جو اس نے پہلی جنگ عظیم کے آغاز سے کچھ پہلے اپنے بیٹے ولیم فسک کو دیا تھا۔ یہ ایک ضخیم کتاب تھی جو 'افغان جنگ' کے بارے میں تھی اور 1900 میں شایع ہوئی تھی۔ رابرٹ فسک نے لکھا ہے کہ یہ کتاب میرے والد ولیم فسک کی ملکیت تھی جو 1992 میں ان کے انتقال کے بعد مجھے ملی۔ اپنی مصروفیت کے سبب بارہ برس تک میں اس کتاب کو نہ پڑھ سکا اور اب پچھلے مہینے میں نے یہ کتاب پڑھ کر ختم کی ہے۔ یہ کتاب 1879 میں کابل کے برطانوی سفارت خانے کے عملے کے قتل کے بعد انتقام لینے کے لیے بھیجی جانے والی برطانوی رجمنٹ کے 'شاندار' کارناموں کی داستان ہے۔
رابرٹ فسک جو عراق میں برطانوی روزنامے 'انڈی پنڈنٹ' کے نامہ نگار کے طور پر متعین ہے، اس نے بیروت کی خانہ جنگی کے دنوں میں اپنی بے لاگ اور بے باک تحریروں سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا، وہ عراق کے بارے میں بھی ایسی ہی سچی اور تلخ رپورٹیں بھیجتا رہا ہے۔ اپنی تازہ ترین تحریر (مئی 2004) میں رابرٹ فسک نے اور بھی بہت سی باتیں لکھی ہیں لیکن عراق میں قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے اس نے لکھا ہے کہ: 'ہمیں پہلے اپنے دشمنوں سے نفرت کرنا اور انھیں حیوان تصور کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھر ہم اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہیں اور انتقام لیتے ہیں... ہم ان پر تشدد کرتے اور ان کی تذلیل کرتے ہیں۔
یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ امریکی ٹھگوں نے ابو غریب کے زنداں میں (قیدیوں کے ساتھ) روا رکھا جانے والا تشدد کہاں سیے سیکھا۔ انھوں نے عراقیوں کو 'انسانی روپ میں شیطان'، 'جنونی' اور 'مکھیاں' تصور کیا ... میرا گمان ہے کہ عراقیوں پر تشدد کرنے والے امریکی ہماری صدی (برطانوی اقتدار کی انیسویں صدی) کی پیداوار ہیں۔ اگر آپ کو یہ سکھایا جائے کہ اپنے دشمن کو غیر انسان سمجھتے ہوئے اس سے نفرت کرو، تو پھر جب بھی آپ کو موقعہ ملے گا آپ خود غیر انسان ہوجائیں گے۔'
ابو غریب کے زندان میں امریکیوں اور مالکی حکومت کے زمانے میں بدترین تشدد سہنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس کو تشدد کا عجائب گھر بنادینا چاہیے۔