سندھ حکومت ایک ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب

جھمپیر میں 650 میگاواٹ ونڈ پاورپروجیکٹ قائم کرنے کیلیے چائنا بینکنگ کنسورشیم سے معاملات طے پا گئے


Staff Reporter April 24, 2014
وہ دن دورنہیں جب ہم بجلی پیدا کرنے میں خودکفیل ہوجائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ،حامد رب نوازکی قیادت میں وفدسے ملاقات،اجلاس سے خطاب ۔ فوٹو: فائل

سندھ حکومت صوبے میں ایک ارب امریکی ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کا ایک اور موقع حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔

جس کے تحت این بی ٹی ونڈ پاور کمپنی کے ذریعے جامشورو اور ٹھٹھہ اضلاع کے درمیان جھمپیر ونڈ کوریڈورمیں 650 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے اورہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ونڈ پاور پروجیکٹ قائم کرنے کے لیے چائنا بینکنگ کنسورشم سے سرمایہ کاری فراہم کرنے کے معاملات طے پا گئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس کامیابی کو توانائی بحران کے حل میں مثبت سنگ میل قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ہم نہ صرف سندھ میں بجلی پیدا کرنے میں خودکفیل ہوجائیں گے ، بلکہ ملک میں گھریلو اورانڈسٹریل استعمال کے لیے بجلی لوڈشیڈنگ کوختم کرسکیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں این بی ٹی کے پاکستان کے چیف ایگزیکیٹو لیفٹننٹ جنرل (ر) حامد رب نواز کی سربراہی میں ملنے والے ایک وفد سے ملاقات میں کیا ۔ اس وفد میں چین کے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

جنھوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے ۔ اس موقع پر این بی ٹی کے مقامی سی ای او حامد رب نواز نے کہا کہ جھمپیر ونڈ کوریڈور ضلع ٹھٹھہ میں 650 میگاواٹ ونڈ پاور منصوبے کے لیے چائیز بینکوں کی طرف سے ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد فنڈ کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں ماحولیات تحفظ کے بابت مکمل ڈیٹا اور تکنیکی معلومات پر تحقیق کی جا چکی ہے، انھوں نے کہا کہ ان کی کمپنی نیپرا سے پاور جنریشن کے لیے لائسنس اور متعلقہ ٹیرف حاصل کرنے کے مراحل میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2016 کے وسط تک یہ منصوبہ فنکشنل ہوجائے گا اور 650 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ سندھ پانی ، کوئلہ ، تیل، گیس اور ہوا کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جس سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اوراس کے لیے ہم اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ونڈ پاور پروجیکٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس موقع وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت توانائی بحران حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور دن رات کوشاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے بذات خود چین سمیت مختلف ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کانفرنسز میں شرکت کرکے بیرونی سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ صوبے میں موجود بے پناہ قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بجلی پیدا کی جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت کے بعد انھیں بہت ہی مثبت اور حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں اور بہت سی بیرونی کمپنیوں نے بجلی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لی ہے اور اس وقت بھی 10 سے 12 ایسی درخواستوں پر کام ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے دوسرے ممالک سے ٹریڈ بزنس اور سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنے اور معاہدات کرنے میں خود مختار ہوگئے ہیں جبکہ چند ایک فارملٹیز وفاقی حکومت کے ادارے جیسا کہ نیپرا کو پوری کرنی ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے وفاقی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ بہتر ہے اور وزیراعظم نوازشریف تسلسل کے ساتھ توانائی کے معاملات میں حکومت سندھ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیراعظم نوازشریف نے سندھ کے دورے کے دوران سندھ حکومت کے متبادل انرجی کے منصوبوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ، انھوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے نیپرا کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے اور وہ حل ہوجائیں گے ، وزیراعلیٰ سندھ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت ٹیکس اور دوسرے معاملات میں بیرونی سرمایہ کاری کو ترغیب دے رہی ہے اور اپنی دوستانہ پالیسی کو سرمایہ کاروں کے لیے جاری رکھے گی ۔ اس موقع پرمشیر خزانہ سید مراد علی شاہ ، سیکریٹری انرجی واصف عباس اور وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری رائے سکندر بھی موجود تھے۔