پرتگال میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف شدید احتجاج

پرتگال میں بائیں بازوں کی سیاسی جماعتوں اور سب سے بڑے مزدور اتحاد CGTP نے بھی مظاہرے کی حمایت کی تھی


Online September 17, 2012
لزبن میں پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ فوٹو: اے ایف پی

یورپی ملک پرتگال میں لاکھوں افرادنے مختلف شہروں میںسڑکوں پرنکل کر حکومت کی معاشی پالیسیوںکیخلاف احتجاج کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادا رے کے مطا بق پرتگال بھی یونان اور اسپین کی طرح قرضے کے بحران، ملازمتوں میں کٹوتیوں اوراجرتوں میں کمی کے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ صرف دارالحکومت لزبن میں 50 ہزارسے زائد افراداحتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے جبکہ ملک کے دوسرے بڑے شہر پورتو میں بھی اتنے ہی مظاہرین جمع ہوئے۔ لزبن میں پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مظاہرے میں شرکا نے جو بینرز اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا تھا سماجی دہشت گردی بند کرو، جلدہی حکومت مردوں کو بھی لوٹے گی۔

اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کا انتظام یورنیورسٹی کے طالب علموں اور فن کاروںنے کیاتھاجن کے کہنے پر ہزاروں شہری سڑکوںپرنکل آئے۔ پرتگال میں بائیں بازوں کی سیاسی جماعتوں اور سب سے بڑے مزدور اتحاد CGTP نے بھی مظاہرے کی حمایت کی تھی۔ اس مزدور اتحاد نے رواںماہ کے آخر میںایک اوربڑے ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔مشکلات میں گھری دیگر یورپی ریاستوں کی طرح پرتگال میں بھی یورپی یونین بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور یورپی مرکزی بینک کیخلاف اشتعال پایاجاتاہے اورانھیںہی معاشی مسائل کی بنیاد سمجھاجارہا ہے۔

پرتگال کو 2011 میں 78 ارب یوروکا ایک ریسکیوپیکیج دیاگیا تھااوراب بین الاقوامی مالیاتی ادارے پرتگال حکومت پرنظر رکھے ہوئے ہیںکہ وہ اخراجات میںکمی اور آمدن میںاضافے کے لیے دیے گئے اہداف کے حصول کے لیے کیاکچھ کر رہی ہے۔ لزبن حکومت نے مختلف نوعیت کی کٹوتیاں کی ہیں جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے ملک میں بے روزگاری کی شرح 15فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اقتصادی پالیسیوں کے باعث وزیر اعظم پیڈرو پاسوس پر ہر جانب سے تنقیدکی جا رہی ہے تاہم رواں ہفتے یورپی یونین اورآئی ایم ایف نے پرتگال کوخسارہ کم کرنے کے لیے دیے گئے اہداف کی مدت میںنرمی کردی ہے تاکہ لزبن حکومت اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھا سکے۔

مقبول خبریں