کیا آپ اس مارکس کو جانتے ہیں؟ (پہلا حصہ)

زاہدہ حنا  اتوار 21 مئ 2023
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ہم 5 مئی1818 میں پیدا ہونے والے اس کارل مارکس کو جانتے ہیں جو برٹش میوزیم لائبریری میں سر جھکائے داس کیپٹل، کمیونسٹ مینی فیسٹو ، فرانس میں طبقاتی جدوجہد اور ’ اقتصادیات کی تنقید‘ لکھ رہا تھا، لیکن ایک کارل مارکس وہ بھی تھا جو ادب کی دنیا کا ایک بے مثال شناور تھا اور یہ شناوری اس کی اقتصادی اور فلسفیانہ تحریروں کو کیسے نادر و نایاب موتیوں سے آراستہ و پیراستہ کرگئی۔

مارکس کے ارد گرد کی خیال انگیز فضا میں ادب، شاعری، فلسفے اور صحافت کا غلغلہ تھا ، نوجوانوں کے سینوں میں بغاوت کی آگ بھڑکتی تھی جس سے وہ پرانے فرسودہ نظام کو جلا کر راکھ کردینے کے لیے بے تاب تھے۔ وہ ایک ایسے گھرانے کا بیٹا تھا، جہاں کتابیں زندگی کا ایک اہم جزو تھیں۔ اس کے روشن خیال باپ ہنرخ کی زندگی کسبِ معاش کی مصروفیتوں کے بعد یونانی ، فرانسیسی اور جرمن فلسفیوں کے افکار و خیالات اور اعلیٰ کلاسیکی ادب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گزری تھی۔ کارل نے آنکھ کھولی تو یہ علمی اور ادبی ماحول اس کے اند ر رچ بس گیا۔

کارل نے اپنی جنم بھومی ٹرائر میں اسکول کے آخری برس میں پیشے کے انتخاب کے حوالے سے ایک طویل مضمون لکھا۔ اس کے خیالات نہایت واضح تھے اس نے لکھا کہ ’’ اگر کوئی شخص فقط اپنی ذات کے لیے کام کرے تو بہت ممکن ہے کہ وہ بڑا عالم فاضل انسان بن جائے یا وہ بڑا عارف یا شاعر ہوجائے لیکن وہ انسان کامل یعنی عظیم انسان کبھی نہیں بن سکتا۔‘‘ یہ جملے اس لڑکے نے لکھے تھے، جس کے ساتھ لڑکوں کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پادری کے عہدے پر فائز ہوجائیں۔

ان لڑکوں میں سے 13 کیتھولک پادری، 7 بیرسٹر اور اعلیٰ سرکاری عہدیدار ہوئے، ان میں دو ڈاکٹر بھی ہوئے لیکن کارل جو انسانوں اور انسانیت کی بھلائی کے لیے کوئی پیشہ منتخب کرنا چاہتاتھااور اسے اپنے مضمون میں اس خواہش کا اظہار بھی کر رہاتھا، اس کے بارے میں بھلا کون سوچ سکتا تھا کہ وہ آنے والی صدیوں میں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو بدلنے والاہے۔

1835 میں سترہ برس کی عمر میں کارل بون یونیورسٹی میں داخل ہوا تو اس نے اپنے لیے قانون اور فلسفے کے موضوعات کا انتخاب کیا لیکن اس کے اندر ایک ایسا مضطرب نوجوان سانس لیتا تھا جو یونان و روما کی قدیم تاریخ اور ہومر کے رزمیوں کا عاشق تھا۔ ارسطو، افلاطون، دیو جانس کلبی، ایپی کیورس، پلوٹارک، سنیکا اور سسرو کو پندرہ سولہ برس کی عمر میں میں پڑھ چکا تھا۔

شیکسپیر، اسکالی لس اورگوئٹے اس کے محبوب شاعر تھے۔ اسپارٹکس اور کپلراس کے ہیرو تھے۔ اسکالی لس کی شاعری کا دلدادہ ہونے کی بنا پر وہ پرومی تھیس ایسے بے مثال باغی کردار کے بارے میں اسکالی لس کے شاندار کلام کو اپنے وجود میں جذب کرچکا تھا۔

اسپارکس اور کپلرکو اپنا ہیرو کہنے والے کے اندر ایک طرف بغاوت کی آگ تھی، دوسری طرف وہ اپنے شہر کی حسین ترین لڑکی جینی کے عشق بلاخیزمیں گرفتار تھا۔ اس نے یہ چند برس شاعری کرتے ہوئے گزارے ۔ آنے والے دنوں میں ایک نظریہ ساز فلسفی کے طور پر اس کی شہرت اور شخصیت اتنی بلند وبالا ہوئی کہ اس کی زندگی کے ابتدائی برس، اس کے اشواق، اس کا تخلیقی وفور سب کچھ بھلا دیاگیا۔

ابتدا میں جینی کے لیے اس کی صرف دو نظمیں شایع ہوئیں، اس کی شاعری کی تین بیاضیں بہت بعد میں لوگوں کے علم میں آئیں، وہ بھی اس لیے کہ اس کی بہن صوفیہ نے کارل کی وہ بیاضیں اپنے سینے سے لگا کر رکھی تھیں۔ ابتدائی برسوں میں شاعری سے اس کے شغف کا یہ عالم تھا کہ بون یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہی وہ وہاں کے نوجوان شاعروں کے حلقے کا رکن بن گیا اور اپنی نظموں پر داد وصول کرنے لگا۔ اس کے باپ کو اس کی شعرگوئی کی خبر ہوئی تو اس نے بیٹے کی حوصلہ افزائی کی۔

یہ اس کے عشق کی انتہا کا زمانہ تھا اور اس میں کارل نے نظموں کے ڈھیر لگا دیے جن میں کچھ جینی کے لیے ہیں لیکن کئی دوسری نظموں میں اس کے فکری ارتقاء کے اشارے نظر آتے ہیں۔ کارل مارکس کی نظموں سے شغف کے سبب میں نے 1990 کی ابتدا میں اس کی چند نظمیں ترجمہ کیں جو ’’ روشن خیال‘‘ کے کسی شمارے میں شایع ہوئیں، مجھے کارل مارکس کی نظموں کے ترجمے کی خواہش رہی جو پوری نہ ہوسکی اس لیے جب ممتاز رفیق کی ترجمہ شدہ اس کی 47 نظموں کا مجموعہ نظر سے گزرا تو خوشی ہوئی کہ ایک عبقری کا یہ پہلو بھی اب لوگوں کے سامنے آئے گا۔

مارکس نے جینی کے لیے کئی نظمیں لکھیں۔ ان میں سے ایک ’’ تلاش‘‘ ہے۔

’’ سارے بندھن توڑ کر میں نے جب اپنی راہ لی

’’ توکدھرکو؟ ’’ ڈھونڈنا ہے مجھ کو اک دنیا نئی‘‘

’’ کیا کہا؟ کیا خوبصورت کم ہے تیرا جہان

نیچے موجوں کا ترجم، سر پہ تاروں کا سماج ‘‘

’’ یوں کہ میری روح سے ہو میری دنیا کا ظہور

او اسی کے سینے سے لگ جائے ہوکر ناصبور

بحر اس کو ساتھ میرے ہر طرف سے گھیر لے

گنبدِ افلاک اس کا میری سانسوں سے بھرے ‘‘

ہاتھ میں زائدہ الفاظ دنیائیں لیے

جن میں جگمگ دھوپ تھی اورکھیلتی تھی روشنی

لیکن اک بجلی گری اور اب وہ دنیائیں نہیں

( ترجمہ: تقی حیدر)

ان ذاتی کیفیات کا احاطہ کرنے والی شاعری کے علاوہ ہم کارل مارکس کی نظم ’’ طلسمی بحری جہاز‘‘ پڑھتے ہیں جو شاید یورپ کی ایک مشہور رومانی روایت The Flying Dutchmanسے کاڑھی گئی ہے۔ کسی نظم میں ہمیں پرومی تھیس کو دیے جانے والے آسمانی عذاب کی جھلک نظر آتی ہے۔

وہ اپنی ان نظموں میں ہیگل، شیلر اور گوئٹے کو یاد کتا ہے اور کہیں پشکن کو۔ وہ نوجوان جو ابھی بیس برس کا بھی نہیں ہوا تھا، اس کی نظموں کو پڑھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ قبل مسیح کے یونانی شاعروں، ڈراما نویسوں اور طنز نگاروں سے لے کر انقلاب فرانس اور اس کے فوراً بعد کے یورپی تخلیقی اور فلسفیانہ زروجواہر اس انیس سالہ نوجوان کی نوک قلم سے ہمیں اپنی شوبھاد کھا رہے ہیں۔ اس کی نظم ’’انسانی پندار‘‘ کے بارے میں پروفیسر ڈیسمنڈ ملک آرکاشی(Prof Desmend Mallik Arachchi) نے لکھا ہے کہ کارل نے اپنی اس نظم میں انسانی بیگانگی کو لکھا ہے جس نے بعد میں اس کی فلسفیانہ تحریروں میں ایک مرکزی مقام حاصل کیا۔

اس کو جلد ہی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ شاعری اس کے اضطراب کا اظہار تو تھی لیکن درحقیقت وہ اس میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا تھا۔ مارکس کے ان شاعرانہ تجربات کے بارے میں وولکوف نے لکھا ہے کہ ’’ مارکس کے شاعرانہ تجربے سے ظاہر ہے کہ وہ کسی طرح بھی کامل نہیں تھے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا نوجوان شاعر کو بھی پوری طرح احساس تھا لیکن یہ نظمیں پھر بھی بہت ہی دلچسپ ہیں، اس لیے کہ وہ اس کے روحانی اُبال کا آئینہ ہیں، وہ دنیا کے بارے میں اس کے رویے اور اس کی سماجی پسند ونا پسند کی اور اس کے نکھرے ہوئے سماجی شعور کی عکاسی کرتی ہیں۔‘‘            ( جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔