پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اتحاد

ایم کیو ایم اب جب سندھ حکومت میں شامل ہوئی ہے تو اس کو کراچی میں جاری آپریشن پر سخت اعتراضات ہیں ۔۔۔


Dr Tauseef Ahmed Khan April 25, 2014
[email protected]

سندھ میں سابق صدر آصف علی زرداری کے صلح کل کے نظریہ کی تجدید ہو گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک دفعہ پھر سندھ حکومت میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈاکٹر صغیر اور رئوف صدیقی وزیر بن گئے۔ ایم کیو ایم 2008ء کے انتخابات کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل ہوئی تھی مگر وہ تقریباً تین دفعہ حکومت سے علیحدہ ہوئی اور پھر دوبارہ حکومت میں شامل ہو گئی۔ اب ایم کیو ایم کتنے عرصے تک حکومت میں شامل رہے گی کئی مبصرین اس سوال پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مفاہمت اور مخاصمت کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی وفاق میں اکثریتی جماعت کی حیثیت سے ابھری اور سابق صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کیا تو پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کو وفاق اور سندھ کی حکومتوں میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ ایم کیو ایم نے اس دعوت کو قبول کر لیا تھا۔ یوں سندھ میں اپنی نوعیت کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی مگر حکومتِ سندھ میں ایم کیو ایم کی شمولیت کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان حقیقی مفاہمت کی فضاء ہموار نہیں ہو سکی تھی۔ ایم کیو ایم کو شکایت تھی کہ اس کے وزراء کے بیشتر اختیارات سلب ہیں اور انھیں اپنے محکموں میں احتساب کا حق حاصل نہیں ہے اور وزراء محض علامتی وزیر ہیں۔ اس وقت معاملہ صرف وزارتوں میں ہم آہنگی کا نہیں تھا بلکہ دونوں جماعتوں کی طلبہ تنظیموں میں بھی تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔

1989ء میں پی ایس ایف اور اے اپی ایم ایس او کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں پی ایس ایف کراچی کے صدر نجیب سمیت متعدد کارکن جاں بحق ہوئے تھے، دونوں تنظیموں کے عسکری ونگز نے تاریخ میں پہلی دفعہ ایک دوسرے کے کارکنوں کو اغواء کیا۔ اس وقت کے کور کمانڈر کی مداخلت پر یرغمال بنائے گئے طالب علم اور سیاسی کارکن بازیاب ہوئے تھے۔ اس پورے دور میں بہت سے افراد قتل ہوئے تھے۔ میاں نواز شریف سے خفیہ بات چیت کے بعد ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کر کے مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ پھر قومی اسمبلی میں پہلی دفعہ متحدہ اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی تھی جو اکثریتی ووٹ حاصل نہ کرنے پر ناکام ہو گئی۔ کراچی اور حیدرآباد میں لسانی فسادات ہوئے تھے۔ سندھ پولیس نے حیدرآباد کے پکے قلعے پر قبضہ کر کے اسلحہ کا بڑا ذخیرہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی مگر فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر مسلح افواج کے دستے حیدرآباد میں داخل ہو گئے تھے۔ اس طرح پولیس کا آپریشن مفلوج ہو گیا تھا۔ 1996ء کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا مگر صوبائی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت اور بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ایم کیو ایم کی سول نافرمانی کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سابق وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراﷲ بابر کی قیادت میں ایم کیو ایم کے خلاف ایک مربوط آپریشن ہوا۔ اس آپریشن میں ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن ماورائے عدالت کارروائیوں میں ہلاک ہوئے اور کئی لاپتہ ہو گئے۔ سابق صدر فاروق لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو برطرف کیا تو اپنی جماعت پیپلز پارٹی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ جب سابق صدر آصف علی زرداری پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں رہا ہو کر لندن گئے تو بے نظیر بھٹو اور زرداری کی ایماء پر پہلی دفعہ ایم کیو ایم سے اعلیٰ سطح پر رابطے ہوئے اور ان رابطوں کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤںمیں تعاون کے امکانات پیدا ہوئے۔

12 مئی 2007ء کو کراچی میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی آمد پر شہر میں خوفناک تصادم ہوا۔ اس تصادم میں پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے کارکن جاں بحق ہوئے تو لندن میں مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی میزبانی میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں شریک جماعتوں نے ایم کیو ایم سے کسی بھی قسم کے روابط قائم نہ کرنے کا عہد کیا مگر پیپلز پارٹی کی ایم کیو ایم سے بات چیت جاری رہی۔ جب بے نظیر بھٹو اکتوبر 2007ء میں کراچی آئیں تو یہ مفاہمتی عمل مکمل ہو چکا تھا۔ ایم کیو ایم نے محترمہ کی کراچی آمد اور جلوس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی تھی۔ اس جلوس میں بے نظیر بھٹو کو شہید کرنے کی کوشش کی ۔ ایک انگریزی اخبار کے لندن میں مقیم نمایندے اور نامور صحافی نے ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مفاہمت میں برطانوی خفیہ ایجنسی MI6 نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ 27 دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی تو انھوں نے مفاہمتی عمل کو اپنی پالیسی کی بنیاد قرار دیا۔ آصف علی زرداری ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر 90 گئے اور سابقہ ادوار میں کی گئی زیادتیوں پر معذرت کی۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی ماضی کی غلطیوں پر ندامت کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے اس موقعے پر کہا تھا کہ بلاول بھٹو اور حفضہ الطاف کے مستقبل کے لیے یہ اتحاد سنگِ میل ثابت ہو گا۔ یوں صدر زرداری نے سندھ میں ایک نئے دور کے آغاز کی نوید سنائی۔

2008ء کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم وفاق اور صوبے کی حکومتوں میں شامل ہوئی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان زیادہ قریبی روابط نظر آنے لگے مگر اس کے ساتھ ہی کراچی میں امن و امان کی صورتحال بگڑنا شروع ہوئی۔ پہلے ایم کیو ایم اور اے این پی نے ایک دوسرے پر کارکنوں کے قتل کے الزامات لگائے ، پیپلز پارٹی والے بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ اس کے ساتھ پیپلز پارٹی نے 2000ء کے بلدیاتی نظام کے خاتمے کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔ ایم کیو ایم نے اس نظام کے تحت نئے بلدیاتی انتخابات پر زور دینا شروع کیا۔ صدر زرداری نے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جو کئی سال تک نئے بلدیاتی نظام کے قانون کا مسودہ تیار کرتی رہی۔ اس دوران منتخب بلدیاتی نمایندوں کی معیاد ختم ہو گئی۔ حکومت نے بلدیاتی ادارے بیوروکریسی کے سپرد کر دیے۔

ایم کیو ایم نے احتجاجاً وفاقی اور صوبائی کابینہ سے علیحدگی اختیار کرلی۔ صدر زرداری کی کوششوں سے ایم کیو ایم حکومت میں دوبارہ شامل ہوئی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ صدر زرداری کی کوششوں سے بلدیاتی نظام کا ایک ایسا ڈھانچہ نافذ ہوا جس میں ایم کیو ایم کی سفارشات بھی شامل تھیں مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس ڈھانچے کو قبول نہیں کیا۔ قوم پرستوں نے اس ڈھانچے کے خلاف اندرونِ سندھ مہم چلائی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے صرف صدر زرداری اس نئے بلدیاتی نظام کی حمایت کر رہے تھے مگر ایم کیو ایم نے کراچی کی امن و امان کی صورتحال، خاص طور پر لیاری کی پیپلز امن کمیٹی کی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے سرپرستی کی بناء پر حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی جس کے بعد سندھ میں نافذ بلدیاتی نظام منسوخ کر دیا گیا اور کمشنری نظام کو بحال کر دیا گیا۔ عام انتخابات سے قبل نگراں حکومت قائم ہوئی تو ایم کیو ایم حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت تھی۔ یوں ایم کیو ایم کے مشورے سے نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری ہوئی اور ایم کیو ایم کے نمایندے حکومت میں شامل ہوئے۔ ایم کیو ایم کو نگراں حکومت سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔

2013ء کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ پیپلز پارٹی نے نیا بلدیاتی قانون نافذ کیا جس کو ایم کیو ایم نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے اس نظام کی کئی شقوں کو غیر آئینی قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ نے نئے بلدیاتی قانون کی تیاری اور نومبر 2014ء تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی۔ ایم کیو ایم اب جب سندھ حکومت میں شامل ہوئی ہے تو اس کو کراچی میں جاری آپریشن پر سخت اعتراضات ہیں۔ اسی طرح بلدیاتی نظام کا معاملہ ہنوز التواء کا شکار ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم صوبے میں امن و امان کی بحالی اور بلدیاتی نظام پر متفق نہ ہوئے تو ایم کیو ایم کی صوبائی حکومت میں شمولیت عارضی ثابت ہو گی اور عوام اس نئے اتحاد کے بارے میں منفی رائے قائم کریں گے۔ اگر دونوں جماعتوں کے قائدین سیاسی بصیرت کا ثبوت دیں اور ان اہم معاملات پر حقیقی اتفاقِ رائے قائم کر لیں تو سندھ میں ترقی کا دور شروع ہو سکتا ہے۔