کراچی اسٹاک مارکیٹ منافع کیلیے فروخت سے تیزی63 پوائنٹس تک محدود

ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس کی 28 ہزار 800 کی حد بحال ہوگئی


Business Reporter April 26, 2014
ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس کی 28 ہزار 800 کی حد بحال ہوگئی۔ فوٹو: آن لائن/فائل

لسٹڈ کمپنیوں کے ملے جلے مالیاتی نتائج، پی ایس اواور بعض بینکوں میں خریداری سرگرمیوں کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو اتارچڑھاؤ کے بعد محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی ۔

جس سے انڈیکس کی28800 کی حد بحال ہوگئی تاہم محدودتیزی کے باوجود57.70 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں لیکن انڈیکس بڑھنے سے حصص کی مالیت میں77 کروڑ 31 لاکھ7 ہزار904 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ جمعہ کو مارکیٹ اپنی سمت کو واضح کرنے کی کوشش کرتی رہی جس کی وجہ سے ایک موقع پر124.65 پوائنٹس کی مندی اور بعدازاں 91.24 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ میں نمایاں تیزی کی راہ میں مزاحمت کی جس کی وجہ سے مطلوبہ نوعیت کی تیزی رونما نہ ہوسکی تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں میں مارکیٹ میں بہتری رونما ہونے کی امید ہے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر89 لاکھ 12 ہزار251 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی ۔

جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے47 لاکھ18 ہزار265 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے1 لاکھ64 ہزار217 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے4 لاکھ34 ہزار393 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے24 لاکھ65 ہزار729 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے11 لاکھ29 ہزار647 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 63.34 پوائنٹس کے اضافے سے28850.08 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 103.37 پوائنٹس کے اضافے سے20128.99 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 205.77 پوائنٹس کے اضافے سے45911.21 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت8.33 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر19 کروڑ87 لاکھ2 ہزار450 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار358 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہاجن میں145 کے بھاؤ میں اضافہ، 203 کے داموں میں کمی اور10 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔