غریب برگر کیوں کھاتا ہے
ویسے عزت و بے عزتی کا تعلق بنیادی ضروریاتِ زندگی سے جوڑنا ٹھیک نہیں۔ عزت کرنے کروانے میں کوئی پیسے نہیں لگتے
KARACHI:
سپریم کورٹ ان دنوں جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کی درخواست سن رہی ہے جس میں عام شہریوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے حکومت کو پابند کرنے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ انھیں باعزت جینے کا بنیادی آئینی حق مل سکے۔چنانچہ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سرکاری وکیل سے جاننا چاہا کہ حکومت کی طے کردہ دس ہزار روپے ماہانہ کی کم ازکم اجرتی حد میں دو بڑوں اور دو بچوں پر مشتمل ایک اوسط خاندان فی زمانہ کیسے گذر بسر کرسکتا ہے ؟
اس پر وفاقی فوڈ سیکیورٹی کمیشن کی جانب سے عدالت کو دو تخمینے پیش کیے گئے۔ایک کے مطابق چار رکنی پاکستانی خاندان کو مہینے بھر زندہ رہنے کے لیے چھ ہزار دو سو روپے کی خوراک درکار ہے جب کہ اسی فوڈ سیکیورٹی کمیشن کے ایک اور تخمینے میں کہا گیا کہ ایک اوسط خاندان کو بنیادی راشن خریدنے کے لیے کم ازکم چودہ ہزار آٹھ سو اٹھاون روپے ماہانہ چاہئیں ( لگ بھگ پندرہ ہزار روپے) اور اس رقم میں بجلی ، پانی ، گیس ، رہائش، کپڑوں ، تعلیم اور صحت کے اخراجات شامل نہیں۔اس پر غیر مطمئن عدالت نے تبصرہ کیا کہ یہ تخمینے فرسودہ ہیں۔
نہ تو میں سرکاری کارندہ ہوں نہ ہی کوئی فرینڈ آف کورٹ ( ایمی کس کیوری ) مقرر ہوں۔پھر بھی دخل در معقولات کے قومی جذبے کے تحت محسوس کرتا ہوں کہ ایک چار رکنی خاندان کے لیے حکومت کی مقرر کردہ دس ہزار روپے کی کم ازکم قانونی اجرت مہینے بھر زندہ رہنے کے لیے اچھی خاصی رقم ہے جس کے ساتھ آئین کے تحت وعدہ کردہ باعزت زندگی گذاری جاسکتی ہے۔
ویسے عزت و بے عزتی کا تعلق بنیادی ضروریاتِ زندگی سے جوڑنا ٹھیک نہیں۔ عزت کرنے کروانے میں کوئی پیسے نہیں لگتے ( پیشہ ور معززین کی بات اور ہے )۔لہذا عدالت غریب اور حکومت دونوں کو پابند کرے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت کریں اور غریب بالخصوص حکومت کا تذکرہ کرتے ہوئے گالم گلوچ سے پرہیز کرے۔ویسے بھی رازق اللہ تعالی ہے اس لیے بنیادی ضروریات کا معاملہ غریب اور خدا کا باہمی معاملہ ہے۔حکومت کو اس دوطرفہ معاملے میں خواہ مخواہ گھسیٹنا مناسب بات نہیں۔اسے اور بہت سے ضروری کام کرنے ہوتے ہیں اور یہ کوئی غیر حکومت تو ہے نہیں۔سات سے دس ہزار روپے ماہانہ میں گذارہ کرنے والے کروڑوں کنگلے بھی تو آخر اسے منتخب کرنے میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کچھ سوچ اور دیکھ کر ہی ووٹ دیا ہوگا۔
میں اس کج بحثی میں نہیں پڑنا چاہتا کہ چار رکنی خاندان کو باعزت جینے کے لیے ماہانہ کم ازکم کتنے ، اتنے ، وتنے پیسے چاہئیں۔ پیسے جتنے بھی ہوں کم ہی لگتے ہیں اور پیسہ تو ویسے بھی ہاتھ کا میل ہے۔ غریب کو جتنے زیادہ پیسے ملیں گے اس کے ہاتھ اتنے ہی میلے ہوں گے اور یہ تو ہر امیر غریب جانتا ہے کہ میلے ہاتھ جراثیم کا گھر ہوتے ہیں۔اس لیے جب بھی پیسے ملیں تو غریب کچھ بھی خریدنے سے پہلے صابن خریدے تاکہ آلودہ ہاتھوں سے لگنے والی بیماریوں کے نتیجے میں دوا دارو کی فضول خرچی سے محفوظ رہ سکے۔ غریبوں کو پیسہ دانت سے پکڑنے کے بجائے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ جتنے بھی میسر ہوں ان پر قناعت کیسے کی جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ غریبوں کو پرسکون رہنے کے لیے اوپر نہیں نیچے دیکھنا چاہیے۔میرا ایک دوست جو اپنے پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والے ڈرائیور سے روزانہ پانچ ہزار روپے کی اسکاچ منگواتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یار مجھے سخت کوفت ہوتی ہے جب کسی غریب کو برگر کھاتے دیکھتا ہوں۔چل اب تو نے موج میں آ کر عیاشی کر ہی لی ہے تو پھر برگر ہضم کرنے کے لیے پیدل گھر جا۔مگر وہ ویگن اور چنگچی میں بیٹھ کر مزید بیس روپے ضایع کرے گا اور گالیاں امیروں اور حکومت کو دے گا۔
ویسے بھی بنیادی خوراک کے لیے آخر کتنے پیسے چاہیں ؟ اسی دنیا کے اربوں درندے، چرند پرند اپنی خوراک پر آخر کتنے پیسے خرچ کرتے ہیں ؟ کیا آپ نے گھوڑے کو چائے پیتے اور وہ بھی میٹھی چائے ، بلی کو تندور سے روٹی خریدتے ، کنکھجورے کو مہنگے ٹماٹر کا بھاؤ تاؤ کرتے، اژدھے کو فروٹ کھاتے ، مگر مچھ کو گھی یا تیل کا ڈبہ پکڑے ، ریچھ کو آٹے کی قطار میں لگتے یا لومڑی کو روٹی پکانے کے لیے گیس کا انتظار کرتے یا گائے کو اپنے بچھڑے کو ٹیٹرا پیک دودھ پلاتے کبھی دیکھا ؟
کتنے طوطوں کو آپ نے ملازمت کی درخواست کے ساتھ پکڑا ہے۔کتنی شیرنیاں اپنے شوہروں کو طعنے دیتی پائی گئی ہیں کہ آخر تو گھر میں پڑا پڑا سارا دن کیا کرتا رہتا ہے کوئی ڈھنگ کی نوکری کے لیے کسی سفید ہاتھی کی سفارش کیوں نہیں ڈھونڈتا۔پڑوس کے چیتے کے ہاں تو شکار کا گوشت رکھنے کے لیے فریج بھی آ گیا اور تیرے پاس جنگل کے حالات جاننے کے لیے موا ٹی وی چھوڑ ایک گھٹیا موبائل فون تک نہیں ؟ آیا کہیں کا بادشاہ سلامت...
غریب اگر تیری میری ٹوہ لینے اور کڑھنے میں وقت لگانے کے بجائے درندوں چرندوں پرندوں کے سادہ و باوقار طرزِ حیات پر ہی غور فرما لے تو اس کی آدھی سے زیادہ پریشانیاں اس سمیت ویسے ہی ختم ہوجائیں۔
لو جی غریب کو سر پر چھت چاہیے۔ذرا غاروں میں رہنے والے کے نخرے تو ملاحظہ فرمائیے۔سچ ہے انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔اور تو اور بنیادی ضرورت کے بہانے کپڑے بھی چاہئیں اور ایک نہیں سال میں کم ازکم دو دو جوڑے چاہئیں اور وہ بھی ریڈی میڈ یا درزی کے سلے ہوں تو اور اچھا۔ ان کور چشموں کو اب نہ تو کیلے کے پتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی انجیر کا پتا ( انگریزی میں فگ لیف کہتے ہیں) دکھائی دیتا ہے۔ہر سال لاکھوں جانوروں کی قربانی ہوتی ہے۔مگر غریب گوشت کے پیچھے دوڑتا پھرے گا ، جانور کی کھال لے کر اونے پونے بیچ دے گا لیکن آباؤ اجداد کی روایت میں کھال سے ستر پوشی کی کبھی نہیں سوچے گا۔ناشکری اور کیا ہوتی ہے ؟
میں جب غریبوں کے کسی مجمعے کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف ٹائر جلاتے دیکھتا ہوں تو نادانوں پر اور بھی افسوس ہوتا ہے۔جب سے بجلی کی علت آئی ہے اس نے غریبوں کا دماغ اور خراب کردیا ہے۔ارے بھائی تیرے بزرگ لاکھوں برس سے بغیر بجلی کے خوش تھے کہ نہیں ؟ وہ سورج کے ساتھ اٹھتے اور سورج کے ساتھ ہی سوتے تھے۔لکڑیاں جمع کرکے الاؤ روشن کرلیا اور اسی پر شکار کا مفت اور خالص گوشت بھی بھون لیا۔کیا ارسطو بجلی کے کنکشن کے لیے کبھی پریشان رہا ؟ کیا سکندر کی میز پر ٹیبل لیمپ بھی تھا ؟کیا محمد بن قاسم سندھ آتے وقت اونٹ پر جنریٹر رکھوا کے لایا تھا۔ کیا شیکسپئیر نے اپنے ڈرامے اے سی میں بیٹھ کر لکھے۔کیا اکبرِ اعظم نے انارکلی کو سبق سکھانے کے لیے بجلی کے جھٹکے تجویز کیے ؟ جناح صاحب نے کیا ٹیوب لائٹ کی چاندنی میں میٹرک کیا ؟ غریب آخر کیوں یہ سامنے کی بات نہیں سمجھتا کہ یہ دراصل تھامس ایڈیسن نامی کسی امریکی کنگلے کا معاشرے سے انتقام ہے۔خود تو زندگی بھر موم بتی پہ گذارہ کرتا رہا اور اگلی نسلوں کو بلب کی لعنت تھما گیا۔اور اب اتنے دماغ خراب ہوگئے ہیں کہ ہر انگلا کنگلا بجلی کی مسلسل فراہمی کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے لگا ہے۔یار کچھ تو خدا کا خوف کرو۔تم تو ایسی ایسی چیزوں کی فرمائش کررہے ہو جو خلیفہ ہارون رشید سے نپولین تک کسی کو میسر نہیں تھیں۔
اوہو...صحت کی سہولتیں بھی چاہئیں ہمارے لاڈلے غریب کو۔فطرت نے جتنی بیماریاں پیدا کی ہیں ان کا علاج بھی جڑی بوٹیوں کی شکل میں دے دیا۔بلی تک جانتی ہے کہ ہاضمہ خراب ہو تو کون سی گھاس مفید ہے۔اب آپ اپنے دماغ کو ہی زحمت نہ دیں تو اوپر والا بھی کیا کرے۔
صد شکر کہ حکیم لقمان اچھے وقتوں میں جی گئے ورنہ آج کسی جڑانوالہ میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے ان غریبوں کا انتظار کررہے ہوتے جو مہنگے مہنگے ایلوپیتھکوں کے علاج کو ہی علاج سمجھتے ہیں اور نکڑ پے بیٹھے ہڈی جوڑ پہلوان کے بجائے سرجنوں کی تلاش میں مارے مارے خراب ہوتے ہیں اور پھر سستے کے چکر میں دو نمبر اور جعلی ادویات تھام کر بعد میں روتے گاتے ہیں۔ مگر مجال ہے جو اردگرد پھیلی جڑی بوٹیوں کو نگاہ بھر کے بھی دیکھ لیں۔
اور جناب اب تو تعلیم بھی غریب کی بنیادی ضرورت ہوگئی۔کیا واقعی غریبوں کو نہیں لگتا کہ ان کی سب سے بڑی دشمن تعلیم ہے۔چلو یہ بتاؤ کہ اس دنیا کو ان پڑھ زیادہ لوٹ رہے ہیں یا پڑھے لکھے ؟ کیا ایٹم بم بنانے والا اور پھر اسے جاپان پر گروانے والا انگوٹھا چھاپ تھا ؟ یہ ملک اب جہاں تک آن پہنچا اس میں ان کروڑوں بچوں کا کتنا ہاتھ ہے جو اسکول کو سڑک پر کھڑے کھڑے تکتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔شکر ہے کسی کو تو عقل آئی اور اس نے تعلیم کی خوں آشامیوں کو جان لیا اور پھر درس گاہوں کو بم باندھ کے کھنڈر بنانے کا فریضہ بھی سنبھال لیا۔ باقیوں نے کھڑی درس گاہوں کو ڈھائے بغیر ہی انھیں تعلیم کا قبرستان بنا ڈالا۔
کیا ایسا کرنے والوں نے یہ سب اپنے مفاد میں کیا ؟ بالکل نہیں۔ وہ تو غریبوں کو ایسے عذاب سے بچانا چاہتے ہیں جس کا غریبوں کو ادراک تک نہیں۔کون نہیں جانتا کہ تعلیم گستاخ بناتی ہے۔ اچھے بھلے چلتے نظام میں کیڑے نکالنا سکھاتی ہے۔ بہتر سے بہتر روزگار کے لالچ پر اکساتی ہے۔ تعلیم انسان کو بے سکون کردیتی ہے۔اے غریبو اس ناخواندگی وجہالت کو نعمت جانو۔تمہاری زندگی میں اور عذاب کم ہیں جو اپنے معصوموں کو تعلیم یافتہ بنانے کا ٹنٹہ بھی پالنا چاہتے ہو۔
پس ثابت ہوا کہ غریب اگر ناشکرا بے صبرا نہ ہو تو آج بھی دو میاں بیوی اور دو بچوں پر مشتمل اوسط خاندان کے لیے دس ہزار روپے ماہانہ کیا سات ہزار بھی بہت ہیں۔کاش غریب جان سکیں کہ امرا پیسے کے ہاتھوں کیسے کیسے عذاب میں ہیں۔اب اگر لیاقت بلوچ صاحب اپنی غریب نواز پٹیشن واپس لے لیں تو کروڑوں فقرا پر احسان ہوگا اور مٹھی بھر امرا پے بھی۔
( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.comپر کلک کیجیے )