سبی میں کروڑوں روپے کی ترقیاتی اسکیمیں تکمیل کی منتظر

بس ٹرمینل فنڈزکی عدم دستیابی کا عذر بناکرادھورا چھوڑ دیا گیا، ڈیڑھ کروڑ روپے ضائع.


بس ٹرمینل فنڈزکی عدم دستیابی کا عذر بناکرادھورا چھوڑ دیا گیا، ڈیڑھ کروڑ روپے ضائع، پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ بھی 7 سال سے تعطل کا شکار. فوٹو : فائل

لاہور: سبی میں کروڑوں روپے کی خطیر رقم سے زیر تعمیر منصوبے ایک دہائی گزرنے کے باوجوداپنی تکمیل کے منتظر ہیں اور مذکورہ منصوبوں کی نامکمل عمارتوں کی دیواریں حکمرانوں اور انتظامیہ کی خاموشی اور بے بسی کی علامت بن کر رہ گئی ہیں ۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ قوم کی امانت سے کروڑوں روپوں کے فنڈز سے تعمیر کیے جانے والے منصوبے جن کا افتتاح تو شاندار ہوتا ہے لیکن انجام پہ منصوبوں کی دیواریں خود نوحہ کناں ہیں ،سبی میں پہلا میگا پروجیکٹ عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بس ٹرمینل کا افتتاح اس وقت کے وفاقی وزیر زراعت و خوراک سردار یار محمد خان رند نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے کیا جس کا افتتاح ایک شاندار اور پروقار تقریب سے ہوا،منصوبے کا45فیصدکام مکمل ہونے کے بعد بس ٹرمینل کے منصوبہ کو فنڈز کی عدم دستیابی کا عذر بناکرادھورا ہی چھوڑ دیا گیا،بس ٹرمینل کے اس پروجیکٹ میں گاڑیوں کیلیے شیڈز سمیت ٹرانسپورٹروں کے دفاتر ، دکانیں مساجدکے علاوہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق تعمیر کرنا تھا واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بس ٹرمینل کی تعمیر کا ایک منصوبہ صدر تھانہ سے متصل تعمیر کیا گیا تھا لیکن منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا جبکہ وفاقی وزیر سردار یار محمد خان رند کے فنڈز سے تعمیر ہونے والا مذکورہ بس ٹرمینل ڈی پی او آفس کی کار پارکنگ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

لیکن بعد میں آنیوالے حکمرانوں کے ذہنوں سے مذکورہ بس ٹرمینل کی تعمیر کا منصوبہ اس طرح غائب ہو گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگھ۔۔۔! ایک اور منصوبہ 2006میں الہ آباد میں معذور بچوں کیلیے 14کروڑ روپے کی رقم سے تعمیر ہونیوالا اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس کی تعمیر کا بھی شاندار آغازکیا گیا جس کی افتتاحی تقریب میں ڈویژنل اور ضلعی افسران سمیت وفاقی ایجوکیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی لیکن بد قسمتی کے ساتھ اس منصوبے کا بھی وہی حشر ہوا جو پہلے منصوبے کے ساتھ ہوا مذکورہ منصوبے کے ٹھیکیدار کی حادثاتی موت کے بعد کمپلیکس کی تعمیر کا کا م بھی ادھورا چھوڑنا پڑا جو تاحال مکمل ہونے کیلیے حکومتی فنڈز کا منتظر ہے ہو سکتا ہے سبی میں تعلیمی انقلاب پرپا کرنے ۔

یہاں کے طلبا کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح 2007میں اس وقت کے نگران صوبائی وزیر تعلیم امجد رشید نے کیا جس میں اس وقت کے نگران وزیر ریونیونواب غوث بخش خان باروزئی سمیت دیگرسول اور اعلیٰ فوجی افسران نے شرکت کی جس کا تخمینہ 17کروڑ روپے رکھا گیا جسے 2 سال میں مکمل ہونا تھا لیکن بد قسمتی سے سات سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مذکورہ منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہو گیا۔

مقبول خبریں