کالم نگاروں کے لیے ایک مثال
اردو اور برصغیرکی دوسری زبانوں میں صحافت نے برطانوی راج کے دور میں جنم لیا ...
چند دنوں پہلے اسلام آباد کے آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول میں ہونے والی ایک گفتگو جس میں کشور ناہید، مسعود اشعر، عارفہ سیدہ زہرا کے ساتھ مجھے بھی شریک ہونے کا موقعہ ملا وہ صحافت اور بطور خاص کالم نگاروں کی ذمے داریوں کے بارے میں تھی۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ ہمارے یہاں مقتدر افراد اور اداروں کو ان کی ذمے داریاں یاد دلائی جائیں تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن پاکستان کے کالم نگاروں کی گردن چونکہ تیلی کی طرح پتلی ہے، اس لیے ان سے ان ذمے داریوں کے بارے میں دبنگ انداز سے سوال کیا جاتا ہے۔
کالم نگار ہمارے ملک کی وہ مخلوق ہے جو ابتدا سے ہی ذمے داری اور بُردباری کا مظاہرہ کرتی رہی ہے اور اس کی سزا بھی سہتی رہی ہے۔ آج ادارتی صفحے پر شایع ہونے والا ہر فرد بہ زعم خود کالم نگار ہے لیکن اگر 50، 60 اور 70 کی دہائی کے اخباروں کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان دنوں ہمارے کیسے جید کالم نگارسیاسی اور سماجی معاملات پر خامہ فرسائی کررہے تھے۔ انھوں نے ادب کی دنیا سے کالم نگاری کے میدان میں قدم رکھا اور اپنے پیچھے گراں قدر سرمایہ چھوڑ گئے۔ ان میں بات چراغ حسن حسرت اور مجید لاہوری سے شروع ہوکر ابراہیم جلیس، ابن انشاء، نصراللہ خان، وارث میر اور انعام درانی تک پہنچتی ہے۔ اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ کالم نگاری کا سلسلہ ہماری صحافت میں کب اور کیسے شروع ہوا تو اس کے لیے ہمیں مغربی صحافت کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالنی ہوگی۔
صحافت جب مغرب میں سماج کی آوازبن کر ابھری، اسی وقت سے ادارتی صفحے پر کالموں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ کالم نگار سیاست، سماجی مسائل، ادبی معاملات اور دوسرے اہم موضوعات پر اپنا زاویہ نظر رکھتے تھے اور اسے اختصار سے بیان کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ کالموں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اس میں بڑے شہروں کی گپ شپ، فلمی ستاروں کے بارے میں معلومات اور تیکھے جملے، طنز اور مزاح کے پیرائے میں بھی کالم لکھے جانے لگے۔ انیسویں اور بہ طور خاص بیسویں صدی میں بعض کالم نگار اتنے مشہور ہوئے اور ان کے قارئین کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اکہ ان کا نام کسی اخبار کی شہرت اور اشاعت کی ضمانت بن گیا۔ اس وقت سے آج تک دنیا کی تمام زبانوں میں شایع ہونے والے اخباروں کی کامیابی اور مقبولیت میں اس کے کالم نگار بڑا کردار ادا کرتے ہیں اور دنیا کے ہر اخبار کے ادارتی صفحے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔
اردو اور برصغیرکی دوسری زبانوں میں صحافت نے برطانوی راج کے دور میں جنم لیا اور انھوں نے برطانیہ، امریکا اور یورپ سے مختلف زبانوں میں نکلنے والے اخبارات کی پیروی کی۔ ابتداء سے ہی کالم اردو اخبارات کا جزو لازم بن گئے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر سے آج تک اردو اخبارات نے تیز رفتاری سے جدید طرز صحافت کی طرف سفر کیا ہے اور ہمارے کئی کالم نگاروں کی وقیع تحریروں نے قارئین کی ذہنی سطح بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ لوگوں کے اندر کسی سیاسی جماعت یا مکتبہ فکر کی اندھی تقلید کے بجائے سوچی سمجھی اور حقائق پر مبنی رائے رکھنے کا رحجان پیدا ہوا ہے۔ ایسے کئی معاملات جن کے بارے میں عمومی طور سے جذباتی نقطہ نظر رکھاجاتا ہے ان کے بارے میں غوروفکر کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے۔
بارہ یا پندرہ سو الفاظ پر مشتمل یہ کالم اپنے پڑھنے والوں کو مختلف موضوعات پر نئے زاویے اور جدید خیالات سے روشناس کراتے ہیں جو ایک اہم بات ہے۔ ساری دنیا میں جہاں اخبار سیاسی، سماجی ا ور مفاد عامہ کے معاملات پر اپنے تجزیوں اور تبصروں کے ذریعے گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، وہیں کالم نگار کسی ملکی یا بین الاقوامی معاملے کے بارے میں اپنے پڑھنے والوں کی رائے بناتے یا اسے بدلتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سماجی ناانصافیوں کے خلاف لڑائی کالم نگاروں نے لڑی ہے۔ آپ پاکستان کی ہی مثال لیں۔ یہاں مزدوروں ، بچوں، عورتوں اور پچھڑے ہوئے طبقات کے حقوق سے متعلق جان کاری اور بیداری میں کالموں نے بڑا کام کیا ہے۔
ماحولیات، انسانی حقوق یا عدلیہ کی آزادی کے بارے میں جو شاندار لڑائی گزشتہ برسوں میں لڑی گئی اس کے بارے میں اپنے قارئین کی رائے بنانے میں بعض کالم نگاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی جو نظری آویزش ہے اس کے بارے میں بھی اب کھل کر لکھا جاتا ہے اور اس نوعیت کے کالم سیاسی طور پر لوگوں کو سوچنے پر مائل کرتے ہیں۔ اب سے کچھ برس پہلے اقلیتوں کے حقوق اور پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اس کے بنیاد گزاروںکے غلط اقدامات پر معمول سے ہٹ کر لکھی جانے والی تحریروں کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن یہ کالموں کی دنیا ہے جس میں اب قرار دادِ مقاصد، مسئلہ کشمیر، مشرقی پاکستان کے عوام پر ہونے والے مظالم، جنرل ضیاء کے دور کے سیاہ قوانین جیسے نازک اور اہم موضوعات پر بات ہوتی ہے۔
صحافت اور کالم نگاری کے بارے میں ہونے والی اس گفتگو میں میرا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں منٹو کا بہت ذکر ہوتا ہے اور ابھی تو ہم نے دھوم دھام سے اس کی صدی بھی منائی ہے لیکن ہم اس کے بارے میں یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے اولین دنوں کا ایک بے مثال کالم نگار تھا۔ بہ طور خاص اس کے وہ اخباری تجزیے جو افسانوں کے کھاتے میں ڈال دیے گئے۔ ایک کالم نگار کے طور پر ہماری سیاست کے بے لاگ تجزیے اور پیش بینی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ وہ منٹو جس کا نام نصف صدی تک ہم شرابی اور فحش نگار کے طور پر لکھتے رہے، اس نے اپنی سیاسی تجزیاتی تحریروں میں کیا کچھ تحریر کیا اور اسے 'چچا سام کے نام 9 خط' کا عنوان دیا تھا۔ منٹو کے یہ خطوط اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس وقت پاکستان امریکا تعلقات کو کس نظر سے دیکھ رہے تھے۔
یہ خط انھوں نے 16 دسمبر 1951 اور 26 اپریل 1954 کے درمیان لکھے۔ اپنے ان خطوط میں وہ کئی مرتبہ چچا سام سے ایک چھوٹا سا ایٹم بم بھیجنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان امریکا فوجی معاہدوں کے بارے میں بار باراظہار خیال کرتے ہیں۔ایک خط میں لکھتے ہیں کہ 'ہمارے ساتھ فوجی امداد کا معاہدہ بڑی معرکے کی چیز ہے۔ اس پر قائم رہیے گا۔ ادھر ہندوستان کے ساتھ بھی ایسا ہی رشتہ استوار کرلیجیے۔ دونوں کو پرانے ہتھیار بھیجئے کیونکہ اب تو آپ نے وہ تمام ہتھیار کنڈم کردیے ہوں گے جو آپ نے (کوریا کی )پچھلی جنگ میں استعمال کیے تھے۔ آپ کا یہ فالتو اسلحہ ٹھکانے لگ جائے تو آپ کے کارخانے بیکار نہیں رہیں گے۔''
امریکی یکم جولائی 1951 کو اپنے پالیسی بیان میں جو کچھ کہہ رہے تھے، ہمارے حکمران اس کی تہہ تک نہ پہنچے لیکن منٹو نے اس بیان کو ہاتھی کے دانت سے زیادہ اہمیت نہیں دی، اسی لیے انھوں نے لکھا:'جوں جوں آپ کی پاکستان کو فوجی امداد دینے کی بات پختہ ہورہی ہے۔ میری عقیدت اور سعادت مندی بھی بڑھ رہی ہے۔ میرا جی چاہتا ہے آپ کو ہر روز خط لکھا کروں۔ ہندوستان لاکھ ٹاپا کرے آپ پاکستان سے فوجی امداد کا معاہدہ ضرور کریں گے۔ اس لیے کہ آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو اس لیے کہ یہاں کا مُلاّ روس کے کمیونزم کا بہترین توڑ ہے۔
فوجی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا تو آپ سب سے پہلے ان مُلاّئوں کو مسلح کیجیے گا۔ فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان مُلاّئوں کو مسلح کرنا ہے۔ میں آپ کا پاکستانی بھتیجا ہوں مگر آپ کی سب رمزیں سمجھتا ہوں۔ لیکن عقل کی یہ ارزانی آپ ہی کی سیاست کی عطا کردہ ہے (خدااسے نظر بد سے بچائے) مُلاّئوں کا یہ فرقہ امریکی اسٹائل میں مسلح ہوگیا تو سوویت روس کو یہاں سے اپنا پاندان اٹھانا ہی پڑے گا۔'
26 اپریل 1954 کو انھوں نے 'چچا سام' کے نام آخری خط میں لکھا: 'عراق کی حکومت کی طرف سے آج یہ اعلان سنا کہ آپ اس اسلامی ملک کو بھی فوجی امداد دینے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ امداد غیر مشروط ہوگی۔ چچا جان آپ میرے پاس ہوتے تو میں آپ کے پائوں چوم لیتا، خدا آپ کو رہتی دنیا تک سلامت رکھے۔ اسلامی ممالک پر آپ کی جو نظر کرم ہورہی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ بہت جلد مشرف بہ اسلام ہونے والے ہیں'۔
منٹو رخصت ہوئے، ان کے یہ اعلیٰ کالم، افسانوں کے کھاتے میں ڈال دیے گئے۔ انھیں پڑھئے اور انصاف سے بتائیے کہ چند روپوں کو ترستے ہوئے منٹو نے اپنی ان تحریروں میں کس غضب کی ذمے داری برتی تھی، یقیناً منٹو کالم نگاروں کے لیے ایک مثال ہیں۔ چچا سام نے انھیں آنے بہانے خریدنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن وہ اپنی جگہ پر اٹل رہے۔