حصص مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت 255 پوائنٹس کمی

اتار چڑھاؤ کے بعد انڈیکس 28 ہزار 436 پر بند ہوا، 369 میں 270 کمپنیوں کی قیمتیں گرگئیں


Business Reporter April 30, 2014
سرمایہ کاروں کو 50 ارب 54 کروڑ روپے کا نقصان اورکاروباری حجم 3.31 فیصد کم رہا۔ فوٹو: آن لائن/فائل

پی ایس او، اینگرو سمیت دیگر لسٹڈ کمپنیوں کے مالیاتی نتائج توقعات کے مطابق نہ ہونے اور سیاسی افق پرطالبان کے ساتھ مذاکرات سمیت دیگر کوئی مثبت پیشرفت کی خبر نہ ہونے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی اتار چڑھائو کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی 28600 اور28500 کی مزید 2حدیں گر گئیں۔

مندی کے سبب 72.17 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 50 ارب54 کروڑ 73 لاکھ87 ہزار 829 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے مقامی شعبوں کی جانب سے فروخت کا رحجان غالب رہا جبکہ بعض دیگر اہم نوعیت شعبوں نے سائیڈلائن رہنے میں اپنی عافیت سمجھی، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر40.68 پوائنٹس کی تیزی اور بعد ازاں 404.28 پوائنٹس کی بڑی نوعیت کی مندی بھی رونما ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں میں مخصوص کمپنیوں کے حصص کی خریداری سے مندی کی شدت میں کمی ہوئی۔

کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر83 لاکھ75 ہزار723 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے58 لاکھ 76 ہزار892 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے24 لاکھ98 ہزار 830 ڈالر کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 255.03 پوائنٹس کی کمی سے28436.59 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس179.91 پوائنٹس کی کمی سے 19846.40 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 365.42 پوائنٹس کی کمی سے 45408.84 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 3.31 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ 53 لاکھ91 ہزار 880 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار369 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 82 کے بھائو میں اضافہ، 270 کے داموں میں کمی اور17 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔