شام میں پرتشدد واقعات میں 62 افراد ہلاک 166 زخمی

حمص میں کاربم دھماکا،36 افرادہلاک درجنوں زخمی، دھماکے کے بعد راکٹ حملے میں مزید9ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے۔


AFP April 30, 2014
حمص میں کاربم دھماکا،36 افرادہلاک درجنوں زخمی، دھماکے کے بعد راکٹ حملے میں مزید9ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

شام میں پرتشدد واقعات میں 62 افراد ہلاک اور166 زخمی ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وسطی شہرحمص میں ایک کار بم دھماکا ہوا جس میں 36 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے، بم دھماکے کے بعد ایک راکٹ حملہ ہوا جس میں مزید 9 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

مرنے والے اکثر افراد کا تعلق علوی کمیونٹی سے تھا۔ شام کے صدر بشارالاسد بھی اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق مرنے والے تمام افراد عام شہری تھے جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ دریں اثنا وسطی دمشق میں ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ پر مارٹر گولوں کے حملے میں17 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق شہر کے شیعہ اکثریتی علاقے شاغور پر 4 مارٹر گولے داغے گئے جن میں سے دو گولے بدر الدین الحسینی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ پرگرے۔ بدر الدین الحسینی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اسلامی قوانین کا ایک تعلیمی مرکز تھا اور اس میں 14 سال تک کے کم عمر طلبہ بھی زیر تعلیم تھے۔

دوسری طرف کیمیائی ہتھیاروں کو روکنے کے لیے کام کرنے والی تنظیم ''او پی سی ڈبلیو'' نے کہا ہے کہ وہ شام میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے تحقیقات کے لیے ایک مشن بھیج رہا ہے۔ شامی حکومت نے اس مشن کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی اور سیکیورٹی بھی مہیا کی جائے گی۔ ادھر ایران نے کہا ہے کہ شام میں انتخابات کے بعد امن ہوسکتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے کہا کہ دنیا کو شامی شہریوں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ اے ایف پی کے مطابق اگلے مہینے ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے مزید 4 امیدوار سامنے آگئے۔