ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی تجویز

ایف ٹی اے کیلیے وفد جلد جاپان جائیگا، حلال فوڈ اتھارٹی بنائی جارہی ہے، وفاقی وزیر تجارت


Business Reporter May 01, 2014
ایف ٹی اے کیلیے وفد جلد جاپان جائیگا، حلال فوڈ اتھارٹی بنائی جارہی ہے، وفاقی وزیر تجارت فوٹو: فائل

وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دیدی ہے تاکہ برآمد کنندگان کو روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کے نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے گا۔

کراچی میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ارکان اور کراچی کاٹن ایکس چینج کے حکام سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ غلط استعمال کی وجہ سے صنعت کاروں کے لیے مزید مراعات میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ماضی میں جب صنعتکاروں کو مراعات دی گئی تھیں تو انہوں نے زمینیں خرید لی تھیں۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے میں عجلت کا مظاہرہ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج مقامی مارکیٹ میں سستی چینی اشیا کی بھرمار ہے جس نے مقامی مینوفیکچرنگ کی صنعت کو متاثر کیا، موجودہ حکومت چین کے ساتھ ایف ٹی اے ٹو کے تحت معاہدے میں موجود خامیوں کو دور کرے گی، جاپان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد آئندہ ماہ سے جاپان کا دورہ کرے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صنعت کاروں کا سیلز ٹیکس ریفنڈ کا مطالبہ جائز ہے اور اس ضمن میں حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، وزارت تجارت کا موقف ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو سیلز ٹیکس سے مبرا کر کے انہیں ریفنڈز کی پیچیدگیوں سے چھٹکارا دلایا جائے جبکہ ریفنڈزکی مد میں زیرالتوا ان کا ایک ایک پیسہ بھی انہیں ملنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ تونائی بحران کے خاتمے کے لیے حکومت 4 زاویوں سے متحرک ہے، پاور پلانٹس کی تیل سے کوئلے پر منتقلی اور نیوکلیئر، ونڈ اور ڈیموں کی تعمیر سے بجلی کی پیداوار میں جلد اضافہ ہوگا، 2016 تک بجلی ٹیرف میں ریلیف اور ترسیل میں اضافے کے حوالے سے واضح تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر نے رائس ایکسپورٹرز کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ ایران کے موقع پر پاک ایران گیس پائپ لائن پر بات چیت ہوگی اور جلد ہی قوم اس حوالے سے خوشخبری سنے گی، گیس پائپ لائن کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہو گا، اس کے علاوہ ایران کو چاول اور دیگر اجناس کی فروخت پر بھی بات ہوگی، 2 ڈیم بھاشا اور داسو کی تعمیر جلد شروع ہوجائے گی، برآمدات بڑھانے کیلیے سرحدوں کے قریب ڈرائی پورٹس کے قیام پر قانون سازی ہورہی ہے جس کے بعد چین، ایران، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تجارت کیلیے زمینی بندرگاہیں تعمیر ہونگی۔

خرم دستگیر نے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کے خدشات سے حکومت آگاہ ہے اور غیر قانونی سمز کی روک تھام کے لیے وزیرداخلہ خصوصی اقدامات کررہے ہیں، اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد ہی اہم فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس کیو سی اے لیب ٹیسٹنگ کا نیا میکانزم آئے گا جبکہ حلال فوڈ اتھارٹی بھی قائم ہونے جارہی ہے۔